سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور

تقسیم قابل قبول نہیں سندھ دھرتی تاریخی ہے، قرارداد، سندھ کی تقسیم نہیں انتظامی یونٹ چاہتے ہیں، ایم کیو ایم کا واک آؤٹ

سندھ اسمبلی نے سندھ کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی میں جمعرات کو چوتھے روز بھی ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم سے متعلق جاری مباحثے پر پیپلز پارٹی کے سینئر پارلیمنٹرین نثاراحمد کھوڑو کی جانب سے پیش کردہ تحریک التوا پر گرما گرم بحث جاری رہی۔

اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن کےارکان کی جانب سے پُرجوش انداز میں تقاریر کی گئیں۔ سرکاری ارکان نے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ انہیں اور صوبے کے عوام کسی بھی شکل میں سندھ کی تقسیم گوارا نہیں جبکہ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ سندھ کی وحدت پر ہم بھی یقین رکھتے ہیں مگر صوبے میں مسلسل کرپشن اور بیڈ گورننس کی وجہ سے مجبوراً نئے انتظامی یونٹس کی بات کررہے ہیں تاکہ ناانصافی کا سلسلہ ختم ہوسکے۔

ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بحث میں اپوزیشن یا حکومتی بینچزمیں سے کسی نے بھی سندھ کی تقسیم کی حمایت نہیں کی جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ایوان میں سندھ کی تقسیم کے خلاف ایک اتفاق رائے پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے سندھ کی وحدت کے حق میں آوازیں اٹھائی گئیں اورسندھ اسمبلی کے تمام اراکین نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی ہے۔

ایم کیو ایم کے صابر قائم خانی نے کہا کہ ہم میں اور آپ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ہم سندھ کا کھاتے ہیں، آپ سندھ کو کھاتے ہیں، سینئر اراکین کی موجودگی میں ہماری رائے تھی کہ پہلے کی طرح دوبارہ قرارداد لائی جائے، پیپلز پارٹی کے بعض اراکین کی بھی رائے تھی کہ قرارداد لاکر اسے منظور کیا جائے، اگر ایجنڈے پر قرارداد آتی تو شاید اتنی تفصیلی بحث کی ضرورت پیش نہ آتی۔

صابر قائم خانی نے کہا کہ 1973 کے آئین میں صوبے بنانے کا اختیار صوبائی اسمبلیوں کو دیا گیا ہے ۔اگر یہ آئینی راستہ موجود ہے تو اس پر بات کرنے سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے تو پھر خوف کس بات کا ہے؟ رکن سندھ اسمبلی کہا کہ اگر عوام صوبے کے قیام کے حق میں ہوں تو آئینی طریقے سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے، صوبوں کے قیام کے معاملے پر آئینی طریقہ اختیار کیا جائے، نعروں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، سندھ میں کسی بھی انتظامی تبدیلی سے پہلے عوام کی رائے معلوم کرنا ضروری ہے، کوئی بھی فیصلہ عوامی اتفاقِ رائے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

ممتاز چانڈیو نے کہا کہ سندھ کی وحدت کو محض نقشے پر لکیر کھینچ کر تقسیم نہیں کہا جاسکتا اس دھرتی سے عوام کی جذباتی اور تاریخی وابستگی ہے، سندھ کی تقسیم کی سازشوں کے خلاف سندھ کے عوام متحدہیں۔

پیپلز پارٹی کے ہری رام نے کہا کہ اگر سندھ میں ڈویژن، اضلاع، یونین کونسلز، میئر اور چیئرمین موجود ہیں تو پھر نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت کیا ہے؟ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا اصل مقصد واضح کیا جائے، انتظامی یونٹس کے نام پر سندھ کی وحدت پر کسی قسم کا وار قبول نہیں کیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کے شاہ حسین شیرازی نے کہا کہ سندھ ہماری دھرتی ہے سندھ میں ہی دفن ہونا ہے سندھ کی تقسیم کا کوئی سوچے بھی نہیں ،غریب سندھی جان دیدے گا مگرسندھ تقسیم ہونے نہیں دے گا۔

پیپلز پارٹی کے دادا محمد ہالیپوٹونے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا مسئلہ آج کے بعد دفن ہو جانا چاہیے آئندہ سندھ کی وحدت پر کوئی بات نہیں ہوگی۔

ایم کیو ایم کے مظاہر عامرنے کہا کہ ہماری طرف سے سندھ کی تقسیم کی کوئی بات نہیں ہوئی ہم سندھ کی سرحدوں میں رہ کر انتظامی یونٹس چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی واضح کرے کہ کیا دوسرے صوبوں میں بھی وہ یونٹس کے خلاف ہے ؟پیپلز پارٹی کوٹہ سسٹم ختم کرنے کی بات کیوں نہیں کرتی پیپلز پارٹی این ایف سی کا فارمولہ تبدیل کرنے کی قرارداد لائے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر گیان چند اسرانی نے کہا کہ سندھ ہماری شان ہماری آن ہے سندھ رہے گا تو ہماری تہذیب رہے گی ہم اپنا سر کٹوا سکتے ہیں سندھ پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

وزیراعلی ٰ سندھ کے مشیر دوست محمد راہموں نے کہا کہ آج وہ لوگ تقسیم کی بات کرتے ہیں جن کو سندھ نے پناہ دی آئینی طریقے کے بغیر کوئی صوبہ نہیں بن سکتا۔

پیپلز پارٹی کی پارس ڈیرو نے کہا کہ مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں۔ پیپلز پارٹی کے عادل انڑ نے اپنی تقریر کا آغاز سندھ زندہ باد کے نعرے سے کیا اور کہا کہ سندھ کبھی تقسیم نہیں ہو سکتا۔

پیپلز پارٹی کے مخدوم فخر زمان نے کہا کہ ہم سب مل کر اس سسٹم کو مضبوط کریں ،سندھ کی تقسیم کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔

صوبائی وزیر زکوٰۃ ریاض شاہ شیرازی نے کہا کہ سندھ مضبوط ہونے سے پاکستان مضبوط ہوگا پیپلز پارٹی کیٹی بندر سے کشمیر تک موجود ہے۔ پیپلز پارٹی نے وفاق کو متحد رکھا ہے اور سندھ کے خلاف سازشیں بند کی جائیں۔

ایم کیوایم کے انیل کمار نے کہا کہ ہماری پارٹی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ سندھ کی تقسیم چاہتی ہے ہم نے کبھی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹ اس لیے مانگ رہے ہیں کہ سندھ کی خوشحالی ہوگی۔

وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی ڈاکٹر شام سندرنے کہاکہ سندھ کے دشمنوں اور دوستوں کی ہمیشہ جنگ رہی ہے آج پوری دنیا کی نظریں سندھ اسمبلی پر ہیں۔ ہم سندھ پر آنچ نہیں آنے دیں گے سندھ کی ترقی میں سندھی ہندوؤں کا بڑا کردار ہے۔

پیپلز پارٹی کے علی احمد جان نے کہا کہ سندھ ہماری دھرتی ماں ہے، اسے کبھی تقسیم نہیں ہونے دیں گے، پختون برادری سندھ کی وحدت کے ساتھ کھڑی ہے۔

پیپلز پارٹی کے تیمور تالپور نے کہا کہ کسی بھی غیر آئینی طریقے سے سندھ کو تقسیم کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی،چاہے کوئی تیسری طاقت بھی لے آئیں، سندھ کو کوئی جدا نہیں کرسکتا، سندھ کا بچہ بچہ سندھ کی وحدت کے دفاع کے لیے باہر نکل کھڑا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی وحدت کے خلاف کسی بھی کوشش کی عوام بھرپور مزاحمت کریں گے۔

ایم کیو ایم کے محمد دلاور نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرستوں کی فرسٹریشن صاف نظر آرہی ہے اگر سندھ میں صوبے بنیں گے تو سندھ کی وحدت کو کیا نقصان ہوگا؟

پیپلز پارٹی کے رکن لیاقت آسکانی نے کہا کہ سوشل میڈیا میں شور کرکے اور اورنگی ٹاؤن میں جلسے کرکے سندھ تقسیم نہیں ہو سکتا، یہ فیصلہ صرف سندھ کے عوام کرسکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سراج قاسم سومرو نے کہا کہ سندھ کے عوام اور اس منتخب ایوان نے ہمیشہ سندھ کے تقسیم کے ایجنڈے کو مسترد کیا ہے ،انتظامی یونٹ کے نام پر صوبائی خود مختاری کو کمزور کرنے کی کوشش نہ کی جائے پیپلز پارٹی اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کے حق میں ہے اور اس نے تو اپنے مخالفین کو بھی بلدیاتی الیکشن لڑنے کی دعوت دی۔

پیپلز پارٹی کے رکن تاج ملاح نے کہا کہ مراد علی شاہ نے سندھ کے عوام کی ترجمانی کا حق ادا کردیا ہے ہم سندھ دھرتی کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ایم کیو ایم کے رکن معید انور نے کہا کہ ہم نے سندھ کی تقسیم کی نہیں بلکہ بہتر انتظامی سہولتوں کے لئے انتظامی یونٹ کی بات کی ہے ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کراچی سندھ کا حصہ رہے گا۔

پیپلز پارٹی کے فرح شاہ نے کہا کہ سندھ کے حوالے سے کوئی بھی بات کرنے کا مناسب اور جائز فورم صرف سندھ کی منتخب صوبائی اسمبلی ہے اس کے علاوہ کہیں کوئی بات نہیں کی جاسکتی۔

پیپلز پارٹی کی رکن رومامشتاق نے کہاکہ سندھ کے عوام پوری طرح متحد ہیں اور چند لوگوں کے خواب دیکھنے سے سندھ تقسیم نہیں ہوسکتا، سندھ کے تحفظ کے لئے سات کروڑ لوگ موجود ہیں۔

پیپلز پارٹی کے شاہد تھہیم نے کہا کہ سندھ کی تقسیم پر سندھ کے عوام اور سندھ اسمبلی کا موقف سب کے سامنے ہے اس لئے اب کسی کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔

ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی سکندر خاتون نے کہا سندھ کی وحدت پر ہم بھی یقین رکھتے ہیں لیکن سندھ میں مسلسل کرپشن اور بیڈ گورننس کے بعد ہم مجبوراً نئے انتظامی یونٹس کی بات کررہے ہیں تاکہ ناانصافی کا سلسلہ ختم ہوسکے۔

پیپلز پارٹی کی صائمہ آغا نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے، سندھ کے وسائل پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔

پیپلز پارٹی کے زبیر جونیجو نے کہا کہ سندھ ہمیشہ سے ایک تھا اور ایک ہی رہے گا سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔

پیپلز پارٹی کے رکن آغا شہباز درانی نے کہا کہ سندھ قیام پاکستان سے پہلے موجود تھا بلکہ یہ تو پاکستان بنانے والا خطہ ہے اس کی تقسیم کی ہر کوشش کی مخالفت کی جائے گی۔

ایم کیو ایم کی رکن مسرت جبیں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں کیونکہ سندھ کی حالت بہت خراب ہے اور اس صورتحال کا سامنا شہروں میں نہیں بلکہ دیہاتوں میں بھی ہے ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جس کے ذریعے عوام کی مشکلات کا ازالہ ہوسکے۔

رکن اسمبلی جاوید آرائیں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر قومیت کے لوگوں کو عزت دی سندھ کی وحدت کے لئے صرف سندھی نہیں بلکہ تمام قومیتوں کے لوگ اس کے ساتھ ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رکن یوسف بلوچ نے کہا کہ سندھ دھرتی کی تقسیم کا تصور بھی ناقابل قبول ہے ہم سندھ کی وحدت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ایم کیوایم کے رکن نصیر احمد نے کہا کہ ہم یہاں سندھ کی تقسیم کی نہیں بیڈ گورننس کی بات کررہے ہیں ہمیں سندھ کے عوام کے لئے آواز اٹھانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

قرارداد منظور

چوتھے روز مباحثے کے بعد پی پی کے رکن نثار کھوڑو نے ایوان میں اسپیکر اویس قادر شاہ کی اجازت کے بعد قرارداد پیش کی۔

قرارداد پیش کرنے سے قبل وزیراعلیٰ نے تقریر کی تو اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے اراکین نے واک آؤٹ کیا جس کے بعد نثار کھوڑو نے اسپیکر سے قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔

نثار کھوڑو نے قرارداد پیش کی تو ایوان میں پیپلزپارٹی کے 105 اراکین موجود تھے جبکہ اپوزیشن کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں تھا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ سندھ تاریخی دھرتی اور ناقابل تقسیم ہے، سندھ نے قیام پاکستان کی قراداد منظور کی، سندھ کی اسمبلی نے پاکستان میں شمولیت قراداد منظور کی تھی۔ قراداد میں کہا گیا کہ سندھ میں کسی قسم کی تقسیم کو ایوان رد کرتا ہے، سندھ کی موجودہ حدود میں کوئی بھی تبدیلی نہیں ہوگی، سندھ ایک ہے ہمیشہ ایک رہے گا۔

قرراد کی منظوری پر پیپلزپارٹی کے اراکین بینچوں پر ہاتھوں میں ’سندھ دھرتی ماں‘ کے بینرز ہاتھوں میں لے کر کھڑے ہوئے اور نعرے بازی بھی کی۔

قائد حزب اختلاف علی خورشیدی کا خطاب

قبل ازیں ایوان سے خطاب میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا کہ یہ قرارداد ڈھکوسلہ ہے، پورا ایوان نثار کھوڑو کو تحریک التوا پر مبارکباد دے رہا ہے، سمجھ نہیں آ رہی کس بات کی مبارکباد دی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا یہ ایوان بار سندھ کی تقسیم کو مسترد کر چکا ہے پھر بار بار پیپلز پارٹی کو یہ قرارداد کیوں لانی پڑتی ہے؟ میرے ایک رکن نے کہا کہ ہم سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے چار دنوں سے تقاریر کیوں ہو رہی ہیں؟ ان کی کارکردگی صفر ہے۔

علی خورشیدی نے الزام لگایا کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سندھ کی حامی صرف پیپلز پارٹی ہے اور باقی سب سندھ کے دشمن ہیں یہ تاثر بالکل غلط ہے بد انتظامی سب سے زیادہ سندھ میں ہے یہ اپنی ذہنی اختراع نکال رہے ہیں اس قرارداد پر بحث ہونی ہی نہیں چاہے تھی فضول کی بحث چھیڑی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا مطالبہ سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات کی تقسیم ہے ہم نے کہا تھا نئے انتظامی یونٹ بنیں سندھ کے 6 ڈویژن انتظامی یونٹ ہیں اٹھارویں ترمیم کی روح کے مطابق ان کو بااختیار کریں آپ کی جمہوریت وفاق سے صوبے میں آکر ختم ہو جاتی ہے۔

قائد حزب اختلاف نے سابقہ ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کے 102 ارکان میں سے 98 نے ون یونٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا فیصلہ ہوتا ہے، تاریخ طے کرتی ہے۔علی خورشیدی نے کہا کہ کھڑے ہو کر قرارداد پیش کرنا ڈھکوسلہ ہے۔ ان کے وزیروں کے پاس اختیار نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں صوبے کو بہتر بناؤ۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا موقف بڑا واضح ہے کہ سندھ کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے، ایم کیو ایم تھی، ایم کیو ایم ہے اور ایم کیو ایم رہے گی ایم کیو ایم کی تجاویز شامل کیوں نہیں ہوئیں؟ ایم کیو ایم کے رکن نے موقف دیا کہ ہماری پیش کردہ تجاویز میں ایک لفظ بھی غلط نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کے بیانیے کی نظر سے بھی دیکھا جائے تو ہماری تجاویز میں کوئی غلط بات نہیں تھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری بات سنی نہیں گئی۔ اگر جمہوری رویہ ہوتا تو ہماری تجاویز پر ضرور بات کی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی قراردادوں اور تحاریک التوا کے ذریعے اپنی بیڈ گورننس کو چھپانے کی کوش کرتی ہے سندھ کے عوام کو سیاسی نعروں کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ ہم ایسی قرارداد کو قبول نہیں کرتے اور اسی لیے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اس کے بعد علی خورشیدی سمیت ایم کیو ایم کے تمام اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

واک آؤٹ پہلے سے طے شدہ تھا، شرجیل میمن

اس موقع پر شرجیل میمن نے کہا کہ ان لوگوں نے تاریخی موقع پر فلور چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ علی خورشیدی کا واک آؤٹ پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کا حصہ تھا وہ تاریخی دن پر ووٹنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے ایم کیو ایم نے بہانہ بنا کر اسمبلی کا فلور چھوڑ دیا۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ تاریخی موقع پر ایم کیو ایم نے تاریخی قرارداد کا حصہ بننے سے خود کو دور کر لیا۔

شرجیل میمن نے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا جس طرح پی ٹی آئی نے آج بائیکاٹ کیا، ایم کیو ایم بھی واک آؤٹ کر کے ایوان سے باہر چلی گئی۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی اراکین کہہ رہے تھے وہ قرارداد کی حمایت نہیں کریں گے۔ آج پی ٹی آئی کا موقف سندھ کے سامنے واضح ہوگیا۔ جماعت اسلامی کا موقف بھی آج سندھ کے عوام کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔ اسپیکر نے ایم کیو ایم اراکین سے واک آؤٹ نہ کرنے کی اپیل بھی کی لیکن اراکین ایوان سے باہر چلے گئے۔

ہم سندھ کی تقسیم نہیں انتظامی یونٹس اور مالیاتی خود مختاری کا کہہ رہے ہیں، علی خورشیدی

سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علی خورشیدی نے کہا ہے کہ سندھ انتظامی طور پر تباہ ہو چکا ہے اور صوبے میں نظام نہیں چل رہا، اجلاس کے دوران نثار کھوڑو کی جانب سے تحریک التوا پیش کی گئی ہماری بات درست تھی لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ڈھنگ کی بات نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جب سندھ کی تقسیم کے حوالے سے قرارداد پیش ہو چکی ہے تو پیپلز پارٹی کیوں لسانی تفریق پیدا کرنا چاہتی ہے؟ ہم سندھ میں انتظامی یونٹس اور مالیاتی خود مختاری کی بات کر رہے ہیں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کرنا ہوگی تاکہ عام پاکستانی کو ریلیف مل سکے لیکن اس پر بات کرنے کے بجائے پیپلز پارٹی نے نئے صوبوں کا "منجن" دے دیا ہم نے اسپیکر سے کہا تھا کہ اس معاملے پر بحث نہ کرائی جائے کیونکہ اس سے تفریق پیدا ہوگی لیکن جان بوجھ کر پیپلز پارٹی نے اس پر بحث کروائی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون چاہتا ہے کہ یہ نظام حکومت چلے؟ ایم کیو ایم نے انہیں بے نقاب کر دیا ہے کون چاہتا ہے کہ سندھ کی تقسیم ہو؟ یہ اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں نظام نہیں چل رہا بچوں کی تعلیم سمیت کوئی سہولت موجود نہیں۔ یہ صوبہ انتظامی طور پر ناکام ہو چکا ہے ہم انتظامی یونٹس کو مالی طور پر بااختیار بنانے کی بات کر رہے ہیں۔

Load Next Story