پاکستان، سسٹم اور اس کو چلانے والے

زمانہ طالب علمی میں جب نصابی کتابیں پڑھیں تو دو قومی نظریے کو سمجھنے کا موقع ملا۔

زمانہ طالب علمی میں جب نصابی کتابیں پڑھیں تو دو قومی نظریے کو سمجھنے کا موقع ملا۔ بعد ازاں اخبارات اور دیگر ذرائع کے ذریعے مطالعہ بڑھا تو معلوم ہوا کہ پاکستان بننے کے بعد بھی بہت سی ایسی شخصیات اور سیاسی تحریکیں رہی ہیں جو علاقائی سیاست کرتی رہی ہیں۔ مثلاً خان عبدالغفار خان کے نظریات کے بارے میں پڑھا، پھر جی ایم سید کے سیاسی موقف کا مطالعہ کیا اور شیخ مجیب الرحمٰن کی سیاست اور خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ نہیں رکا۔ مشرقی پاکستان الگ ہوا، بلوچستان میں علیحدگی پسندی کے نعرے بلند ہوئے۔

 ایک عرصے تک صوبہ سرحد کے نام پر وہاں تحریک چلتی رہی کہ یہ بھی کوئی نام ہے ؟نام بدلو اور اس کا نام’’ پختون خوا‘‘ رکھو، ایسا لگ رہا تھا کہ اس صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے، خیر نام بدل دیا گیا۔ سوال یہ اس سے عوام کو کیا ملا؟ کشمیر میں بھی بعض حلقوں کی جانب سے مظاہروں میں شرپسندانہ نعرے سنائی دیے۔ اس کے علاوہ ملک میں ایسے نعرے بھی سننے کو مل رہے ہیں کہ ’’ہمارا لیڈر نہیں تو پاکستان بھی نہیں۔‘‘

اب ایک اور نیا نعرہ سننے میں آیا کہ ’’سسٹم ہی فیل ہے۔‘‘

 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام نعروں کا بنیادی تصور کیا ہے؟ اگر ان سب کے پس منظر میں ایک بنیادی خواہش ضرور نظر آتی ہے کہ عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات میسر ہوں اور انھیں اپنے نظریات اور خواہشات کے مطابق باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ ایک سوال یہ ہے کہ جہاں جہاں ایسے نعرے لگائے گئے، وہاں کے عوام کو بنیادی ضروریات زندگی، مثلاً تعلیم، روزگار، صحت، انصاف اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹیں کس نے ڈالیں؟

مثلاً بلوچستان میں بعض عناصر کا موقف یہ ہے کہ وہاں کے عوام کو پسماندہ رکھا گیا ہے اور انھیں زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، لیکن ایک غور طلب بات یہ ہے کہ بلوچستان میں پارلیمنٹ بھی موجود ہے اور عوام کے منتخب نمائندے بھی۔ ہم نے کتنی ایسی خبریں دیکھی ہے کہ بلوچستان کے منتخب نمائندوں نے پارلیمنٹ میں کوئی ایسی قرارداد پیش کی ہو جس میں صوبے میں تعلیمی اصلاحات، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صحت کی سہولیات بہتر بنانے یا بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہو اور وفاقی حکومت نے اس کی مخالفت کی ہو؟

 چنانچہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو بلوچستان کے عوام کا ہمدرد اور نمایندہ سمجھا جاتا ہے، انھوں نے خود اپنے صوبے کے عوام کے لیے کیا کردار ادا کیا؟

سوئی گیس بلوچستان سے نکل کر ملک کے مختلف حصوں تک پہنچی تو یہاں کے نمائندوں نے اپنے پورے صوبے کے علاقوں میں سوئی گیس پہنچانے کے منصوبے کیوں نہ بنائے یا وفاقی حکومت پر اس ضمن میں دباؤ کس حد تک ڈال؟ ایک شخص اپنے منصوبوں میں جنگل تک یہ سہولت لے گیا، کیا یہاں کے نمائند ے کسی عام شخص سے کمزور ہیں؟ کیا آزادی کے لیے ہتھیار اٹھا نے والوں نے اس قسم کے مسائل پر کبھی کوئی دھرنا دیا، سڑک بند کی؟ سوال یہ ہے کہ بلوچستان کے اپنے علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار، انفرااسٹرکچر اور صنعتی ترقی کے بڑے منصوبے اسی رفتار سے کیوں نہ بن سکے؟ کیا وہاں کے منتخب نمائندوں نے کبھی اس مقصد کے لیے مستقل اور موثر سیاسی جدوجہد کی؟ اور اگر کی تو کیا ان کی کوششوں کو وفاق یا کسی دوسرے ادارے نے روکا؟ ایسی کتنی خبریں ہمیں نظر آئیں؟ اگر مسئلہ واقعی صرف یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات نہیں ملیں تو پھر اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی اور پارلیمانی جدوجہد بھی اسی شدت سے ہونی چاہیے تھی۔

یہی صورت حال اگر ملک کے دوسرے علاقوں پر بھی لاگو کی جائے تو تقریباً ایک جیسی تصویر سامنے آتی ہے۔ وجوہات یقیناً مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن بنیادی مسئلہ بہت حد تک ایک ہی دکھائی دیتا ہے کہ جن نمائندوں کو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا، وہ اکثر اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہے۔

اب ذرا فرض کریں کہ آزاد علاقے وجود میں آ جائیں تو کیا آج انھی علاقوں سے منتخب ہو کر آنے والے سیاست دان کل ان نئی ریاستوں یا علاقوں کی پارلیمان میں آ کر نہیں بیٹھیں گے؟ کیا ان کی جگہ کسان، مزدور، ہاری اور عام شہری بڑی تعداد میں پارلیمان کا حصہ بن جائیں گے؟

اگر آزادی کے بعد بھی وہی سیاسی طبقہ اقتدار میں آ گیا جو آج اقتدار میں ہے تو پھر عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کیسے آئے گی؟ ریاست کا نام، سرحدیں اور جھنڈا بدل جانے سے کیا تعلیم، روزگار، صحت، انصاف اور مہنگائی کے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں گے؟یہ سوال صرف علیحدگی پسند تحریکوں کے حوالے سے نہیں، بلکہ ہمیں ہر سیاسی نعرے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

مختصر یہ ہے کہ گاڑی شاید اتنی خراب نہیں، جتنے اس کے ڈرائیور ہیں یعنی سسٹم خراب نہیں، چلانے والے قابل نہیں ہیں، اگر نظام چلانے والوں کی نیت یہ نہ ہو کہ عوام کو سکون دیا جائے، ان کے مسائل حل کیے جائیں، انھیں تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف فراہم کیا جائے تو آپ کتنا ہی اچھا نظام لے آئیں، اس کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچے گا۔ اصل مسئلہ سسٹم کا نہیں، سسٹم چلانے والوں کا ہے۔

Load Next Story