ایسے معاملات کا ہے کوئی علاج

کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ملک کے کسی نہ کسی علاقے میں کسی خاتون کے شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے کی خبر میڈیا میں موجود نہ ہو۔

m_saeedarain@hotmail.com

کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ملک کے کسی نہ کسی علاقے میں کسی خاتون کے شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے کی خبر میڈیا میں موجود نہ ہو۔ ویسے تو اب بیوی کے ہاتھوں شوہر کے قتل کی خبریں بھی بڑھ رہی ہیں مگر ایسے قتل شہروں کے مقابلے میں دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں زیادہ ہو رہے جنھیں عزت کا نام دیا جاتا ہے اور ایسی وارداتوں میں ان پڑھ لوگوں کی جہالت اور دین سے لاعلمی کا زیادہ دخل بتایا جاتا ہے۔

تعلیم یافتہ، پوش اور متوسط طبقے میں خواتین خصوصاً بیویوں کے قتل کے واقعات نسبتاً کم ہیں مگر مکمل محفوظ ایسے علاقے بھی نہیں ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ملک میں طلاق کی شرح شہروں میں زیادہ ہے جن میں اسلام آباد بھی نمایاں ہے۔ ملک بھر کی سول عدالتوں میں خلع کے ہزاروں کیس زیر سماعت ہیں کیونکہ شوہر کو بیوی کو طلاق دینے اور بیوی کو کسی وجہ سے عدالتوں سے خلع لینے کا قانونی حق حاصل ہے مگر بعض مذہبی حلقے عدالت سے خلع کا فیصلہ ہونے کے باوجود اسے درست نہیں سمجھتے اور نکاح برقرار سمجھتے ہیں۔

 ایک اخباری خبر کے مطابق ایک یونیورسٹی میں پڑھانے والے لیکچرار کا حوالہ دیا گیا ہے جس نے گلا دبا کر جان بچا کر بھاگنے والی اپنی نوجوان بیوی کو اپنے ملازم کی مدد سے قابو کرکے قتل کر دیا ۔

راقم نے 1969 میں اپنے شہر شکارپور سے رپورٹنگ شروع کی تھی اس وقت ضلع شکارپور سکھر ضلع میں شامل تھا جس کے ایس پی بشیر احمد گلے زئی ایک شام شکارپور پہنچے اور اخباری نمایندوں کے ہمراہ گڑھی یاسین کے کسی گاؤں پہنچے جہاں دیہاتیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کاروکاری کی بنیاد پر اپنی بیویاں قتل نہ کیا کریں بلکہ ایسی صورت حال میں اپنے شرعی اختیار کے مطابق طلاق دے دیا کریں کیونکہ کاروکاری کے قتل عزت کا مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسائل بیوی کے قتل کے بعد شروع ہوتے ہیں۔ شوہر قتل کرکے جیل چلا جاتا ہے اور اس کے بچے ماں قتل اور باپ جیل جانے کے بعد در بہ در ہو جاتے ہیں جنھیں سنبھالنے والوں کو بھی مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔

شکارپور میں 56 سال قبل اپنے صحافتی آغاز میں ایسے دو قتل دیکھے تھے جن میں لین دین کے معمولی تنازعہ میں کھلے عام ایک سبزی فروش قتل ہوا تھا جب کہ اسی روز ایک نو عمر بھائی نے چاول صاف کرنے میں مصروف اپنی نوجوان بہن کو اس لیے قتل کر دیا تھا کہ اسے کسی نے بتایا تھا کہ تمہاری بہن کے فلاں سے تعلقات ہیں جب کہ مقتولہ کے والد کے مطابق ایسا نہیں تھا۔ کاروکاری کے الزام میں قتل کیے جانے والے معاملات سو فی صد درست بھی نہیں ہوتے بلکہ اپنے کسی مخالف پر غلط الزام لگا کر پنچایت کے ذریعے جرمانے یا بدلے میں رشتہ دینے کا فیصلہ لیا جاتا ہے اور اس بہانے قتل کر دیا جاتا ہے جس کو عزت کا نام دیا جاتا ہے۔ میڈیا میں آئے دن کاروکاری کے الزام میں کبھی رنگے ہاتھوں کبھی بعد میں پریمی جوڑوں کا قتل بھی معمول بن چکا ہے جس کے فیصلے عدالتوں سے کم اور بااثر وڈیروں، سرداروں کے پاس آتے ہیں اور جرمانوں اور رشتوں کا جو فیصلہ بڑی رقم پر کیا جاتا ہے ان میں فیصلہ کرنے والوں کو بھی معقول حصہ ملتا ہے۔

کارو کاری کے اس فرسودہ معاملات کو روکنے کے لیے ملک میں بعض سماجی ادارے بھی سرگرم ہیں مگر کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے جن میں پریمی جوڑے گھروں سے بھاگ کر عدالت میں شادیاں تو کر لیتے ہیں مگر ان کے ورثا انھیں معاف نہیں ان کا پیچھا کرتے ہیں اور انھیں ڈھونڈ کر پسند کی شادی موت کی صورت میں دیتے ہیں۔ میڈیا میں آئے دن ایسے پریمی جوڑوں کے اپنے تحفظات کے لیے عدلیہ، حکومت اور پولیس سے اپیلیں کی جاتی ہیں مگر کوئی انھیں تحفظ نہیں دیتا وہ چھپتے پھرتے ہیں یا کاروکاری کی مکروہ رسم کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے والدین کے لیے اپنی بیٹیوں کے رشتوں کا حصول اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔

بعض برادریوں میں بیٹیاں فروخت کرکے بھی رشتے دیے جاتے ہیں۔ دیہاتوں کے برعکس شہروں میں بچیوں کو تعلیم بھی دلائی جاتی ہے مگر اچھے رشتے کی تلاش، غربت اور جہیز کا چکر مذہبی طور پر آسان رشتے اور سادگی سے شادی نہیں ہونے دیتا۔ لالچی والدین اپنے بیٹوں کے لیے زیادہ سے زیادہ جہیز کے چکر میں رہتے ہیں جس سے لڑکیوں کی عمریں بیت رہی ہیں یا گھر سے فرار ہو کر شادی کر لینے کے واقعات ہو رہے ہیں، مگر ایسی من پسند شادیاں اکثر قبول نہیں کی جاتیں جب کہ بیٹی کو پسند کی شادی کا حق ہمارے مذہب نے دے رکھا ہے۔

آج کے دور میں پسند کی شادی میں عمر، خاندان، ماں باپ کی عزت بھی نہیں دیکھی جاتی مگر بعض مجبور والدین اپنی اولاد کا فیصلہ ماننے بھی لگے ہیں اور بعض شرفا پسند کی شادی کرنے والی بیٹیوں کو بعد میں جہیز بھیدے رہے ہیں۔ ایسے والدین پسند کی شادی کو عزت کا جواز بنانے کی بجائے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول بھی کر رہے ہیں۔ شادی شدہ جوڑوں میں قتل کی مختلف وجوہات ضرور ہیں مگر اس کا قتل حل نہیں درندگی ہو چکی ہے اور تعلیم یافتہ افراد بھی قتل کرکے خود بھی برباد ہو رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے ایسے معاملات میں حکومتوں نے کچھ نہیں کرنا اس لیے سنجیدہ حلقوں کو ان معاملات کا تدارک ضرور کرنا ہوگا۔

Load Next Story