اسلام آباد پمز اسپتال میں انتہائی اندوہناک واقعہ

اگست کا مہینہ ہر سچے پاکستانی کے لیے بے حد اہم ہے،اس لیے کہ1947میں اس مہینے کی 14تاریخ کو مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔

gfhlb169@gmail.com

اگست کا مہینہ ہر سچے پاکستانی کے لیے بے حد اہم ہے،اس لیے کہ1947میں اس مہینے کی 14تاریخ کو مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔برِ صغیر کے مسلمانوں کو اپنے لیے ایک الگ وطن میسر ہوا ورنہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد اس خطے کے مسلمانوں کے ساتھ بھی وہی ہونا تھا جو آج کل ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر ہندوؤں کے ساتھ ہو رہا ہے۔امسال 14اگست کی خوشی میں قومی پرچموں کی ہر کہیں بہار جاری تھی کہ 26اگست علی الصبح یہ اندوہناک خبر نشر ہونی شروع ہوئی کہ اسلام آباد کے سب سے بڑے سول سرکاری اسپتال کے نو مولود بچوں کے وارڈ میں آگ لگنے سے14 نوزائیدہ پھول جیسے بچے جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔

اس سے بڑھ کر کوئی اندوہناک خبر نہیں ہو سکتی۔مختلف بیانات سامنے آتے رہے۔ایک خاتون بتا رہی تھی کہ وہ ایک بچ جانے والے بچے کی خالہ ہے اور بچے کو اس نے خود بچایا ہے ورنہ وارڈ میں کوئی ڈاکٹر و نرس نہیں تھی۔بعد میں پتہ چلا کہ اکیلے بچ جانے والے بچے کو ایک باہمت نرس نے بچایا۔آگ کیسے لگی ابھی تک یہ عقدہ حل طلب ہے۔پہلے کہا گیا کہ وارڈ کے ایئر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی۔ایک اور بیان میں بتایا گیا کہ بجلی کی تاروں کے ایک غیر محفوظ لٹکتے گچھے میں اسپارک پیدا ہونے سے آگ بھڑک اٹھی اور آکسیجن کی نالیوں کی وجہ سے ہر طرف پھیل گئی۔شاید صحیح انفارمیشن اس لیے نہیں مل رہی کیونکہ وارڈ میں کوئی چوکنا ڈاکٹر،نرس یا اہلکار نہیں تھا۔جو بھی وہاں موجود تھا وہ شاید اونگھ رہا تھا اور آگ لگنے کا احساس ہوتے ہی اپنی جان بچانے کے لیے راہِ فرار اختیار کر گیا۔چودہ معصوم جو نہ تو واویلا کر سکتے تھے اور نہ ہی بھاگ سکتے تھے ،ان کے والدین کی گود اجڑ گئی لیکن کوئی ڈاکٹر، کوئی نرس،یا عملے کا کوئی بھی فرد زخمی تک نہیں ہوا۔

پمز اسپتال میں آتش زدگی کوئی پہلا اور انوکھا واقعہ نہیں۔کچھ عرصہ پہلے ہی پمز کی نرسوں کی رہائشی عمارت میں بھی آگ بھڑک اُٹھی تھی لیکن واقعے کو دبا دیا گیا۔ یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ بچوں کے لیے بنائی گئی نرسری،پہلے گائنی وارڈ کے واش رومز کی جگہ تھی۔پمز ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا اسپتال ہے اور اس کے پاس فنڈز کی بھی کوئی کمی نہیں۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ نوزائیدہ بچوں کے لیے کھلی جگہ پر ایک بہترین نرسری بنائی جاتی لیکن واش رومز کی چھوٹی سی تنگ جگہ کو نرسری میں تبدیل کر دیا گیا۔اسلام آباد میں فیڈرل گورنمنٹ کے دو اسپتال اور سی ڈی اے کا ایک اسپتال ہے۔یہ اسپتال اس وقت بنے تھے جب اسلام آباد ایک چھوٹا شہر تھا اور اس کی آبادی کم تھی۔ پاکستان کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ شہر جو مملکت کا دارالحکومت بھی ہے بڑھتی آبادی کے ساتھ سہولتوں کو بڑھا نہیں پایا ہے۔

اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں سے مریض پمز اور پولی کلینک میں ہی آتے ہیں۔ان دونوں اسپتالوں میںرش اور اچھے طریقہ کار Good practices نہ ہونے کی وجہ سے پرچی بنوانا اور متعلقہ ڈاکٹر تک رسائی حاصل کرنا بے حد دشوار اور جوئے شِیر لانے کے مترادف ہے۔مجھے ذاتی طور پر بہت برا تجربہ ہوا۔تقریباً 9سال پہلے ایک شام میری اہلیہ کے سینے میں درد اُٹھا۔ساتھ ہی پسلیوں کے نیچے بہت بھاری پن محسوس ہوا۔ مجھے ہارٹ اٹیک کا خدشہ ہوا تو میں اہلیہ کو لے کر پمزپہنچا۔پمز میں سینیئر افسروں کے لیے ایک سہولت مہیا کی گئی ہے۔گراؤنڈ فلور پر او پی ڈی ایریا میں ایک کمرہ اس سہولت کے لیے مختص کیا گیا ہے کہ افسران وہاں رپورٹ کریں۔اس سہولت کو کرٹسی سینٹرCourtesy centreکا نام دیا گیا۔ کرٹسی سینٹر کے اہلکاروں کی ذمے داری ہے کہ پرچی بنا کر متعلقہ ڈاکٹر سے بات کرکے فوری طبی معائنہ کروایا جائے۔میں پہنچا تو کرٹسی سینٹر کے دروازے پر تالہ پڑا دیکھا۔ایمرجنسی میںگیا تو صرف دو نوجوان ڈاکٹر تھے اور ان کے اردگرد کم و بیش دو اڑھائی سو افراد ان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

میں نے بھی دونوں ڈاکٹروں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن آدھے گھنٹے کی تگ و دو کے باوجود ڈاکٹروں کی توجہ اپنی طرف مبذول نہ کروا سکا۔ہر گزرتے لمحے کے ساتھ خوف بڑھ رہا تھا کہ خدا نخواستہ دیر ہو جانے سے میری اہلیہ جان کی بازی نہ ہار جائے۔کرتا کیا نہ کرتا اہلیہ کو لے کر الشفا انٹرنیشنل اسپتال پہنچا۔ایمرجنسی پہنچنے پر الشفا کے عملے نے فوری ایکسرے  و ٹیسٹ وغیرہ کر کے طبی امداد دی۔وہاں ڈاکٹروں نے کنفرم کیا کہ ہارٹ اٹیک ہو رہا تھا جس کی وجہ سے پھیپھڑے پانی سے بھر گئے تھے۔الشفاء میں فوری طبی امداد سے جان کو خطرہ ٹل گیا۔

ویسٹرج راولپنڈی میں پریکٹس کرنے والے آنکھوں کے ایک ماہر ڈاکٹر نے ایک ملاقات میں بتایا کہ اس کی ساری تعلیم برطانیہ میں ہوئی اور اس نے جاب بھی وہیں شروع کی۔پمز اسپتال بننے کے بعد پاکستان وزٹ کے دوران پمز کا چکر لگا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جاپان کی امداد سے بننے والا یہ اسپتال بہت اچھا اور ماڈرن تھا۔اس کا معیار،اس کی میڈیکل سہولتیں وہی تھیںجو دنیا کے کسی بھی بہترین اسپتال میں ہو سکتی ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ پمز کو دیکھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ میں برطانیہ سے اسلام آباد آ گیا اور پمز کو جوائن کر لیا،لیکن بعد میں پمز انتظامیہ اور ڈاکٹروں نے مل کر اس کا وہ حال کر دیا جو اب آپ دیکھ رہے ہیں۔ 26 اگست کی آتش زدگی رپورٹ ہونے پر ہر کوئی افسردہ اور سکتے میں تھا۔14نوزائیدہ بچوں کا جل جانا ایک انتہائی افسوس ناک اور دل چیرنے والا واقعہ ہے۔پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جو پچھلے تین سال سے انچارج تھے وہ واقعہ ہو جانے کے دو گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے۔

یہ ڈاکٹر صاحب انیستھیسیا کے ڈاکٹر ہیں۔ان کا انتظامی امور چلانے کا کوئی تجربہ نہیں۔ہمارے پیارے وطن میں ایک لمبے عرصے سے یہ ہو رہا ہے کہ اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کو اسپتال کا انتظامی انچارج بنا دیا جاتا ہے۔ایڈ منسٹریشن ایک مخصوص فن ہے جو ٹریننگ اور آن دی جاب پریکٹس سے نکھرتا ہے۔ہر کوئی انتظامی امور نہیں چلا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ سول اسپتالوں کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بے ہوش کرنے کے ماہر تھے اسی لیے انھوں نے پورے اسپتال کو بے ہوش کر دیا۔افواجِ پاکستان کے اسپتالوں میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کو انتظامی امور نہیں سونپے جاتے۔وہ اپنے اپنے شعبے کو دیکھتے ہیں،جب کہ انتظامی امور کے لیے علیحدہ کیڈر ہے۔اسپتالوں کے علاوہ بھی سول میں بہت سے ادارے انتظامی امور کے ماہرین کے بغیر چل رہے ہیں،اسی لیے ہر طرف خاک اُڑ رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے پمز میں آتش زدگی اور چودہ معصوموں کے جل جانے کی اطلاع ملنے پر ایک فوری میٹنگ بلائی اور سیکریٹری صحت کو معطل کر دیا۔ساتھ ہی سابق سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جس نے دو دن میں ابتدائی رپورٹ دے دی۔رپورٹ کی سفارشات پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8افراد کو معطل کر کے نیا ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کر دیا۔وزیرِ اعظم کے فوری نوٹس لینے اور اقدامات سے وقتی طور پر کچھ بہتری آنے کی امید ہو سکتی ہے،لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسپتالوں میں شارٹ ٹرم،میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم اصلاحات کی جائیں اور ٹائم لائن طے کر کے ان پر سختی سے عمل کیا جائے۔اس سلسلے میں افواجِ پاکستان کے سرجن جنرل سے مدد لی جا سکتی ہے۔

افواجِ پاکستان نے اپنے میڈیکل شعبے کو بہت کامیابی سے وسعت دی ہے اور بہترین طبی سہولتوں سے آراستہ کیا ہے۔سول اسپتالوں کی ایڈمنسٹریشن کا الگ کیڈر متعارف کروایا جائے اور ایسے افراد جو اس کیڈر میں شامل ہوں،انھیں بہترین تربیت دی جائے اور ہر سات سے دس سال بعد ان کی کارکردگی جانچ کر ریفریشر کورسز کروائے جائیں۔ہمارے ہاں سفارش اور اقرابا پروری کے ساتھ فنانشل فوائد دینے والوں کی تقرریاں عام ہیں۔کوشش کی جائے کہ اس سے چھٹکارا حاصل ہو تاکہ صرف قابل،محنتی اور اپنے کام کو فرض سمجھ کرخوشی سے کام کرنے والے ہی اہم عہدوں پر تعینات ہوں۔14نوزائیدہ معصوم پھولوں کے جل جانے کے بعد ہمیں ذاتی اور وقتی مفادات سے اوپر اُٹھ کر اداروں کو صحیح اور مضبوط کرنے پر پوری توجہ مبذول کرنی چاہیئے۔مضبوط ادارے،مضبوط پاکستان کی ضمانت بنیں گے۔

Load Next Story