معاشرے میں شدت پسندی کیوں ہے؟
sohailyaqoob
اختلافِ رائے کو برداشت کرنا، تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کرنا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشرہ اپنی بلوغت کو پہنچ چکا ہے اور اس کے مکین مختلف عقائد، خیالات اور نظریات کے ساتھ اکٹھے جینا سیکھ چکے ہیں۔ ویسے بھی طیش میں آنا یا مشتعل ہونا قوت استدلال کے ضعف کی علامت ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ مکالمہ اور اختلاف رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت اور شدت پسندی کیوں بڑھ رہی ہے؟ کیا ہمارے معاشرے میں جمہوریت نہیں ہے؟ اس کا جواب تو یہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جمہوریت ہے، لیکن شاید اس میں روح نہیں ہے۔ اسی لیے جمہوریت کے ثمرات کے بجائے اس کے مضمرات ہمارے معاشرے میں پھل پھول رہے ہیں اور یہی ہمارے کالم کا محور ہے۔
کیا ہمارا معاشرہ ہمیشہ سے ایسا ہی شدت پسند تھا؟ نہیں، بالکل نہیں۔ ہمارے معاشرے میں اختلافات اور تنازعات کے باوجود باہمی برداشت، رواداری اور امن و آشتی کی ایک نمایاں روایت موجود رہی ہے۔ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، اگرچہ ابتدائی دور میں ہمارے قوانین اور سماجی روایات بہت زیادہ اسلامی نہیں تھی، لیکن معاشرتی سطح پر اسلام کی حقیقی روح یعنی برداشت، اخوت، انصاف اور انسانیت کے احترام کی جھلک نمایاں تھی۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیا ہوا کہ ہمارا معاشرہ بتدریج شدت پسندی کی راہ پر گامزن ہوگیا؟
پہلی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ یکایک نہیں ہوا بلکہ بتدریج ہوا ہے۔ دوسری اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جب لوگوں کا نظام پر سے اعتماد اور اعتبار اٹھ جائے تو وہ بالآخر نظام کے بجائے اپنی طاقت پر بھروسہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ یہ سوال بھی کریں کہ کیا ہمارے یہاں کوئی نظام بھی ہے؟ اس کا جواب بھی خاصا دلچسپ ہے۔ جیسے بعض لوگ کسی سوال کے جواب میں ’’نو کمنٹ‘‘ کہتے ہیں اور اساتذہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی ایک طرح کا کمنٹ ہے، بالکل اسی طرح نظام کا نہ ہونا بھی ایک نظام ہے، البتہ وہ بدانتظامی کا نظام ہوتا ہے اور ہمارے یہاں شاید کچھ ایسا ہی نظام رائج ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کیسے اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمارے یہاں نظام پر اعتماد ختم ہوچکا ہے اور اس کا شدت پسندی سے کیا تعلق ہے؟ آپ کسی بھی معاملے کو دیکھ لیجیے، ظالم اور مظلوم دونوں کا رویہ دیکھیے۔ دونوں اپنا معاملہ کسی منصف، عدالت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے پاس لے جانے کے بجائے اکثر معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انصاف کے حصول کے لیے قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے بندوق نکال لی جاتی ہے، اگر مظلوم ظالم کو قتل کردے تو ظالم کے لیے ایک نئی کہانی بن جاتی ہے اور اگر ظالم، مظلوم کو قتل کردے تو مظلوم کے لیے شہادت کا عنوان تلاش کرلیا جاتا ہے۔ پھر بدلے کی ایک نہ ختم ہونے والی آگ شروع ہوجاتی ہے جو نسل در نسل خاندانوں کو خاکستر کرتی رہتی ہے اور آخر میں رسمی کارروائی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلایا جاتا ہے۔
یہ صرف چند جرائم یا چند علاقوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ دراصل ریاستی نظامِ انصاف پر ہمارے اجتماعی اعتماد کے بحران کی علامت ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں کسی بھی زیادتی یا جرم کی کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ سزا اکثر موت ہی سمجھی جاتی ہے اور ہم میں سے بہت سے لوگ اس سے کم پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ حالانکہ قانون میں ہر جرم کی سزا موت نہیں ہے۔ یہ عوام کا اپنا بنایا ہوا قانون ہے، کیونکہ جب لوگوں کو یہ یقین نہ رہے کہ قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہے تو پھر وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کو اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں۔ اس صورت حال کو مزید سنگین یہ حقیقت بناتی ہے کہ بعض اوقات جرم کے پیچھے کسی نہ کسی طاقتور شخص کا ہاتھ سمجھا جاتا ہے اور ریاست جرم کے سدباب اور انصاف کی فراہمی کے بجائے ملزم کو بچانے میں اپنی توانائیاں صرف کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ہمارا ماضی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے جہاں بڑے سے بڑا عہدہ بھی اس سے محفوظ نہیں دیکھا گیا۔
جب لوگوں کو انصاف کے حصول میں رکاوٹیں نظر آئیں، جب طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کے پیمانے مختلف دکھائی دیں اور جب شہری کو یہ یقین نہ رہے کہ اس کی داد رسی ریاست کرے گی، تو پھر وہ ریاست کے بجائے اپنی طاقت پر بھروسہ کرنے لگتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اختلافِ رائے، اختلاف نہیں رہتا بلکہ تصادم بن جاتا ہے؛ اختلافِ عقیدہ دشمنی بن جاتا ہے؛ سیاسی اختلاف ذاتی عداوت بن جاتا ہے اور انصاف کا مطالبہ انتقام کی خواہش میں تبدیل ہوجاتا ہے اور پھر شدت پسندی کسی ایک طبقے، جماعت یا نظریے کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ پورا معاشرہ اس کے اثرات کی زد میں آجاتا ہے۔
کیا اس کا کوئی حل بھی ہے؟ راستہ بہت سادہ ہے، لیکن مسئلہ یہی ہے کہ اس پر عمل کون کرے اور بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ عموماً ہر مسئلے کا حل اس مسئلے کے الٹ میں ہوتا ہے، اگر ہمارے معاشرے میں ظلم کا دور دورہ ہے تو اس کا حل عدل میں ہے۔ زندگی کے تمام شعبہ جات میں عدل، شفافیت اور میرٹ لے آئیے۔ قانون کی بالادستی کو حقیقی معنوں میں نافذ کردیجیے۔ طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون، ایک ہی معیار اور ایک ہی انصاف فراہم کردیجیے۔ لوگ آہستہ آہستہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا چھوڑ دیں گے، کیونکہ جب ریاست انصاف فراہم کرتی ہے تو فرد کو اپنا انصاف خود کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ یوں شدت پسندی پہلے کم ہوگی اور پھر بتدریج ختم ہونے لگے گی۔