لاہور کا آرمی میوزیم دفاعِ وطن کی مکمل تاریخ کا عکاس
ستمبر 1965 میں جب بھارتی فوج نے بین الاقوامی سرحد عبور کرکے پاکستان پر حملہ کیا تو پاک فوج کے جوانوں نے محدود وسائل کے باوجود دشمن کی پیش قدمی روک کر دفاع وطن کی تاریخ رقم کردی۔
لاہور کا آرمی میوزیم اس معرکے کی یادیں اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہے۔ 1965 اور 1971کی جنگوں کے مختلف محاذوں کے ڈائیوراما، شہداء کی داستانیں اور بھارتی فوج سے قبضے میں لیے گئے جنگی ٹینک اس عہد کی یاد دلاتے ہیں جب پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کے مقابلے میں ڈٹ کر اپنی سرزمین کا دفاع کیا۔
1965 کی جنگ کی تاریخ کو محفوظ کرنے والی آرمی میوزیم کی گیلری میں لاہور، سیالکوٹ، کھیم کرن اور راجستھان کے محاذوں کو ڈائیوراما کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ گیلری میں میجر عزیز بھٹی شہید کی کمانڈ پوسٹ اور پاک فضائیہ و پاک بحریہ کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
میوزیم کی سینیئر گائیڈ تحریم کے مطابق 1965 کی وار گیلری میں لاہور، سیالکوٹ اور کھیم کرن سیکٹر سمیت مختلف محاذوں کے اہم واقعات کو ڈائیوراما کی شکل میں محفوظ کیا گیا ہے، جبکہ ہر منظر کے ساتھ اس واقعے کا تاریخی پس منظر بھی درج ہے۔
اس جنگ کی عسکری تاریخ کا ایک نمایاں باب چَونڈہ کا معرکہ ہے، جہاں سیالکوٹ سیکٹر میں پاکستانی فوج نے بھارتی پہلی آرمڈ ڈویژن کی پیش قدمی روک دی۔ آرمی انسٹی ٹیوٹ آف ملٹری ہسٹری کے مطابق چَونڈہ میں نسبتاً چھوٹی پاکستانی فورس نے بھارتی پہلی آرمڈ ڈویژن کو آگے بڑھنے سے روک دیا اور اگر یہ دفاعی کوشش ناکام ہوجاتی تو بھارتی فوج کے لیے جی ٹی روڈ کی سمت پیش قدمی کا راستہ کھل سکتا تھا۔
آرمی میوزیم کے داخلی حصے میں بھارتی فوج سے قبضے میں لیے گئے چار ٹینک بھی نمائش کے لیے موجود ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق ان میں تین ٹینک 1965 کی جنگ کے دوران چَونڈہ کے معرکے میں قبضے میں لیے گئے جبکہ ایک ٹینک 1971 کی جنگ سے متعلق ہے۔
ان میں 1965 کی جنگ کا بھارتی سینچورین کمانڈ ٹینک بھی شامل ہے، جسے 17 پونا ہارس کے کمانڈنگ آفیسر سے منسوب کیا گیا ہے۔ اسی طرح 1971 کی جنگ سے متعلق نمائش میں موجود T-54 ٹینک کو بھارتی 18 کیولری کے ٹینک کے طور پر بیان کیا گیا ہے جسے میجر شبیر شریف شہید کی کارروائی میں تباہ کیا گیا تھا۔
یہ بھارتی ٹینک محض جنگی سازوسامان نہیں بلکہ 1965 اور 1971 کے معرکوں کی عسکری تاریخ کے خاموش شواہد ہیں۔ آج جب نئی نسل آرمی میوزیم میں ان ٹینکوں کو دیکھتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جدید اور بھاری جنگی سازوسامان کے باوجود میدان جنگ میں فیصلہ صرف ہتھیار نہیں بلکہ تربیت، حکمت عملی، نظم و ضبط اور جوانوں کے حوصلے بھی کرتے ہیں۔
1971 کی جنگ کی گیلری میں مختلف محاذوں کے ساتھ میجر شبیر شریف شہید اور لانس نائیک محمد محفوظ شہید کے ڈائیوراما خصوصی توجہ کا مرکز ہیں۔ میوزیم میں بطور انٹرن خدمات سرانجام دینے والی سیدہ مریم کے مطابق میجر شبیر شریف شہید کی سلیمانکی سیکٹر میں بہادری کی داستان بھی اسی تاریخ کا حصہ ہے۔
انہوں نے بھارتی فوج کے ساتھ شدید مقابلے میں غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا اور بھارتی افسر میجر نارائن سنگھ کے ساتھ دوبدو مقابلے کے بعد انہیں ہلاک کیا۔ بعد ازاں بھارتی جوابی کارروائی کے دوران میجر شبیر شریف شہید نے دشمن کے ٹینکوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
آرمی میوزیم میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے بھی خصوصی گیلری قائم ہے، جہاں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں اور اس جنگ سے متعلق ہتھیاروں اور تاریخی شواہد کو محفوظ کیا گیا ہے۔
میوزیم کا دورہ کرنے والے شہریوں کے مطابق جنگی ڈائیوراما نئی نسل کو ملکی تاریخ اور دفاع وطن کی اہمیت سمجھانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ شہری رانا احمد حسن کا کہنا تھا کہ یہاں موجود ٹینک اور جنگی مناظر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وطن کے دفاع کے لیے فوجی جوانوں نے کس قدر مشکل حالات میں مقابلہ کیا۔
شہری عبدالرحمن کے مطابق نئی نسل کو صرف جنگوں کی تاریخ ہی نہیں بلکہ ان سے حاصل ہونے والے اسباق، نظم و ضبط، قومی یکجہتی اور ملکی دفاع کی اہمیت سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔ شہری فاخرہ اعوان نے کہا کہ ڈائیوراما کی صورت میں تاریخ دیکھنے سے بچوں اور نوجوانوں کو ماضی کے واقعات سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوتی ہے۔مقامی طالبہ ماہم آصف کے مطابق شہداء کی قربانیوں اور جنگی معرکوں کو محفوظ کرنا نئی نسل کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ملک کی سلامتی اور امن بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوتے ہیں۔
1965 کے معرکوں سے 1971 کی جنگ اور دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد تک، لاہور کا آرمی میوزیم پاکستان کی عسکری تاریخ کے اہم ابواب محفوظ کیے ہوئے ہے۔ یہاں کھڑے بھارتی ٹینک ماضی کے ایک بڑے معرکے کی یاد دلاتے ہیں، جبکہ آج کی نسل کے لیے یہ پیغام بھی رکھتے ہیں کہ دفاع وطن صرف سرحد پر لڑنے والے سپاہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی یکجہتی، ذمہ داری اور اپنے ملک سے وابستگی کا مشترکہ تقاضا ہے۔