بھارت؛ قومی زبان میں انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے پر لاکھوں روپے انعام ملے گا
بھارت میں بی ٹیک سول انجینیئرنگ کی تعلیم قومی زبان میں دی جائے گی (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)
بھارت میں قومی زبان کے فروغ اور تکنیکی تعلیم کو عام فہم بنانے کے لیے ایک انوکھی اور منفرد اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ انقلابی قدم ریاست مدھیہ پردیش کی وزارت تعلیم نے اُٹھایا ہے جس پر عمل کرنے والی شہر اندور کی شری جی ایس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس پہلی جامعہ بن گئی ہے۔
مدھیہ پردیش کی اس معروف اور خود مختار سرکاری جامعہ نے بیچلر آف ٹیکنالوجی کے رواں تعلیمی سیشن سے سول انجینئرنگ ہندی زبان میں بھی پڑھانے کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔
مدھیہ پردیش کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بی ٹیک ہندی میڈیم کے اس خصوصی بیچ میں داخلہ لینے اور فائنل ایئر تک تعلیم جاری رکھنے والے طلبا کو 2 لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد قومی زبان میں انجینیئرنگ کی تعلیم کو عام کرنے اور سیشن کے دوران کورس چھوڑنے کی شرح کو کم کرنا ہے۔
اس خصوصی ہندی میڈیم بیچ کے لیے کل 30 نشستیں مختص کی گئی ہیں جن میں سے تقریباً 20 طلبا پہلے ہی داخلہ لے چکے ہیں جب کہ تمام فارمز فروخت ہوچکے ہیں۔ ہندی میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے والا یہ پہلا بیچ ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم بھارت کی نئی قومی تعلیمی پالیسی کے عین مطابق اٹھایا گیا ہے تاکہ ان باصلاحیت طلبا کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے جو انگریزی زبان پر مکمل عبور نہ ہونے کے باعث انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے سے کتراتے تھے۔
جامعہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ انجینئرنگ جیسے پیچیدہ سائنسی مضمون کو ہندی میں منتقل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا جس کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم نے پچھلے چار سالوں تک انتھک محنت کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس ٹیم نے آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن سے منظور شدہ انگریزی نصابی کتب اور سائنسی اصطلاحات کا ہندی میں ترجمہ کیا اور مکمل کورس کو قومی زبان میں ڈھالا ہے۔
ان کے بقول ادارے نے اس بات کا بھی خاص خیال رکھا ہے کہ طلبا عالمی سطح پر پیچھے نہ رہ جائیں لہٰذا ہندی میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان طلبا کو انگریزی زبان کی بنیادی تعلیم اور مہارت (Essential English Skills) بھی سکھائی جائیں گی تاکہ وہ عملی میدان اور ملازمت کی مارکیٹ میں دیگر طلبہ کا مقابلہ کر سکیں۔