جنگی جنون، عالمی امن کے لیے خطرہ
ایران کے خلاف ممکنہ امریکی حملوں، اسرائیل کی طرف سے ایرانی حکومت کو گرانے کے اعلانات، غزہ پر مسلسل قبضے کے عزائم، روس کی ایران کے لیے سیاسی حمایت اور دوسری طرف یوکرین کے روسی توانائی ڈھانچے پر حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو محض ایک علاقائی جنگ نہیں رہنے دیا۔ یہ اب طاقت، قانون، توانائی، عالمی سیاست اور انسانی جان کی قدر کے درمیان ایک ایسا تصادم بنتا جا رہا ہے جس میں ہر نئی کارروائی اگلے بحران کا دروازہ کھولتی دکھائی دیتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران پر ایک اور حملے کے لیے تیار ہیں، بظاہر ایک محدود فوجی کارروائی کا اعلان معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے اندر ایک بہت بڑا سیاسی سوال پوشیدہ ہے۔
جنگ کا اختتام آخر کس مقام کو کہا جائے گا؟ اگر کسی ملک کے ریڈار اور میزائل نظام کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کو حملے کا جواز بنایا جائے، پھر اس تعمیر کو روکنے کے لیے ایک اور حملہ کیا جائے، تو اس منطق کی کوئی آخری حد کہاں متعین ہوگی؟ دفاعی صلاحیت کی بحالی، جو کسی بھی ریاست کے لیے بنیادی سلامتی کا تقاضا سمجھی جا سکتی ہے، اگر مستقل حملے کا سبب بن جائے تو جنگ ایک واقعے کے بجائے ایک مستقل نظام میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ ایران ایک ایسا راکٹ تیار کر رہا تھا جو بارودی سرنگیں بچھا سکتا تھا اور اسے تباہ کر دیا گیا۔ ایسی اطلاعات کو محض عسکری کامیابی کے پیمانے سے دیکھنا خطرناک ہے۔
جدید جنگ میں ہر فوجی ہدف کی تباہی اپنے ساتھ سیاسی ردعمل، جوابی کارروائی اور نئی عسکری تیاری کا امکان لے کر آتی ہے، اگر مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو مستقل طور پر محدود کرنا ہے تو یہ سوال بہرحال جواب طلب رہے گا کہ بمباری کے ذریعے کسی ریاست کو ہمیشہ کے لیے غیر مسلح کیسے کیا جا سکتا ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کے زور پر کسی ملک کی صلاحیت کو وقتی طور پر نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، مگر سیاسی ارادے، قومی مزاحمت اور نئی عسکری حکمتِ عملی کو صرف فضائی حملوں سے ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔
اس پوری صورت حال کا سب سے المناک پہلو وہ انسانی قیمت ہے جو سرکاری بیانات کے الفاظ میں عموماً پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں 18 افراد جاں بحق اور 142 زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے، جب کہ زخمیوں میں درجنوں خواتین اور کم عمر افراد موجود ہیں۔ اعدادوشمار اپنی جگہ اہم ہیں، مگر جنگ کا المیہ صرف تعداد سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہر عدد کے پیچھے ایک گھر، ایک خاندان، ایک مستقبل اور کسی ماں یا باپ کی ایسی دنیا ہوتی ہے جو ایک دھماکے کے بعد پہلے جیسی نہیں رہتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی مفادات اور انسانی اخلاقیات کا امتحان شروع ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران میں شادی کی تقریب پر امریکی حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں پر حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔انتونیو گوتریس نے امریکا اورایران کے ایک دوسرے پر حملوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے انتہائی ضبط وتحمل کا مظاہر کرنے کی اپیل ہے۔ درحقیقت بچوں سمیت شہریوں کو قتل کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے، جیسے روکنے میں اقوام متحدہ بھی ناکام نظر آرہی ہے۔
اسرائیلی وزیر ِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ اسرائیل ایرانی حکومت کو گرانے کے لیے کام کر رہا ہے، وہ معاملے کو فوجی کارروائی سے کہیں آگے لے جاتا ہے۔ کسی دوسرے ملک کی حکومت کو تبدیل کرنے کا علانیہ ہدف بین الاقوامی سیاست میں معمولی بیان نہیں۔ یہ اس امر کا اظہار ہے کہ جنگ کا مقصد صرف کسی خاص عسکری صلاحیت کو روکنا نہیں بلکہ ریاست کے سیاسی ڈھانچے پر اثرانداز ہونا بھی ہے۔ ایسی حکمت ِ عملی کے نتائج عموماً پیش گوئی سے کہیں زیادہ پیچیدہ نکلتے ہیں، کیونکہ حکومتیں کمزور ہونے کے ساتھ ریاستیں لازماً پرامن نہیں ہوتیں، بعض اوقات سیاسی خلا زیادہ خطرناک قوتوں، داخلی انتشار اور علاقائی پراکسی تنازعات کو جنم دیتا ہے۔
غزہ کے حوالے سے نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ اسرائیل 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے اور مزید آگے بڑھے گا، جنگ کے ایک اور بنیادی تضاد کو آشکار کرتا ہے۔ ایک طرف دنیا سفارتی بیانات میں دو ریاستی حل، انسانی امداد اور شہریوں کے تحفظ کی بات کرتی ہے، دوسری طرف زمین پر قبضے اور فوجی کنٹرول کے پھیلاؤ کی زبان سنائی دیتی ہے، اگر کسی محصور اور تباہ حال خطے کے مستقبل کا فیصلہ اس کے باشندوں کی سیاسی مرضی کے بجائے فوجی قبضے کی وسعت سے ہونے لگے تو امن کا تصور محض سفارتی لغت میں رہ جاتا ہے۔
ایران اور اسرائیل کا تصادم اس لیے بھی خطرناک ہے کہ اس کے گرد بڑی طاقتوں کے مفادات تیزی سے صف بندی کر رہے ہیں۔ روسی صدر ولادیمر پیوٹن کا یہ کہنا کہ روس ایران کو اپنے مفادات اور آزادی کی جنگ لڑتا ہوا سمجھتا ہے، ماسکو کی سیاسی پوزیشن کو واضح کرتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے روس کو اسٹرٹیجک شراکت دار قرار دینا اور امریکا کے اقدامات کو غیرقانونی کہنا اس شراکت داری کو مزید نمایاں کرتا ہے، اگرچہ روس کی حمایت لازماً براہِ راست فوجی مداخلت کے مترادف نہیں، مگر عالمی طاقتوں کی ایسی صف بندی بحران کو دو فریقی تنازع سے نکال کر بڑی طاقتوں کے باہمی مقابلے کی سمت دھکیل سکتی ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ اس وقت عالمی طاقتیں جنگ کو روکنے کے لیے اتنی تخلیقی سیاسی توانائی صرف نہیں کر رہیں جتنی نئی عسکری حکمت عملی بنانے پر خرچ ہو رہی ہے۔ حملے کے بعد جوابی حملہ، جوابی حملے کے بعد مزید دفاعی تیاری، پھر اس تیاری کو خطرہ قرار دے کر ایک نئی کارروائی،یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں ہر فریق اپنے اگلے قدم کو پچھلے قدم کا منطقی نتیجہ قرار دیتا ہے، مگر انسانی تاریخ میں کوئی جنگ صرف اس لیے ختم نہیں ہوئی کہ فریقین کے پاس مزید ہتھیار موجود نہیں تھے، جنگیں تب ختم ہوتی ہیں جب سیاسی قیادتیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ مزید طاقت کا استعمال مطلوبہ مقصد حاصل کرنے کے بجائے نقصان بڑھا رہا ہے۔
ایران کے معاملے میں بھی یہی فیصلہ کن سوال ہے۔ کیا عسکری دباؤ تہران کو زیادہ قابل پیش گوئی، زیادہ کمزور اور زیادہ مذاکراتی بنائے گا یا اس کے برعکس ایرانی معاشرے میں مزاحمت اور ریاستی سختی کو تقویت دے گا؟ کیا حکومت گرانے کی دھمکی کسی متبادل سیاسی نظام کی ضمانت دے سکتی ہے؟ کیا غزہ میں مزید زمینی قبضہ اسرائیل کو دیرپا سلامتی دے گا، یا آنے والی نسلوں میں مزید نفرت پیدا کرے گا؟ اور کیا عالمی طاقتیں توانائی کے بحران، انسانی تباہی اور علاقائی عدم استحکام کو ایک قابلِ قبول ضمنی قیمت سمجھ کر آگے بڑھ سکتی ہیں؟
ان سوالات کا جواب میزائلوں کے دھوئیں میں نہیں ملے گا۔ اس کے لیے سفارت کاری، جنگ بندی، قابلِ اعتماد نگرانی، شہریوں کے تحفظ اور باہمی سلامتی کی ایسی ضمانتیں درکار ہوں گی جن میں کسی فریق کو مکمل فتح اور دوسرے کو مکمل شکست کے فارمولے میں قید نہ کیا جائے۔ طاقت کا توازن کبھی کبھی جنگ روک سکتا ہے، مگر پائیدار امن صرف سیاسی بندوبست سے پیدا ہوتا ہے۔
دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایران پر ایک اور حملہ محض ایک اور فوجی کارروائی نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ اسرائیل کی ایرانی حکومت کے خلاف حکمت عملی، غزہ میں بدلتی ہوئی زمینی حقیقت، روس کی حمایت، یوکرین روس تنازع اور عالمی توانائی منڈی کی بے یقینی بھی جڑی ہوئی ہے، اگر عالمی سفارت کاری نے اس باہم مربوط بحران کو الگ الگ واقعات سمجھنے کی غلطی کی تو آنے والے دنوں میں ایک محدود جنگ کئی محاذوں پر پھیلے ہوئے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس زیادہ میزائل ہیں یا کس نے کس کی تنصیب تباہ کی۔
سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت نے جنگ کو اپنی سیاست کا معمول بنا لیا ہے؟ اگر ہر خطرے کا جواب بم، ہر اختلاف کا جواب پابندی اور ہر سیاسی مسئلے کا حل حکومت گرانے کی دھمکی بن جائے تو عالمی نظام اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے۔ ریاستیں شاید اپنے دشمنوں کو کمزور کر لیں، مگر اس عمل میں اگر شہریوں کا تحفظ، قانون کی بالادستی اور امن کی امید کمزور ہو جائے تو فتح کا مفہوم بھی شکست سے مختلف نہیں رہتا۔ آج ضرورت کسی نئے حملے کی تیاری سے زیادہ اس سیاسی بصیرت کی ہے جو یہ سمجھ سکے کہ جنگ کا سب سے خطرناک مرحلہ وہ نہیں جب پہلا میزائل داغا جاتا ہے، بلکہ وہ ہے جب دنیا مسلسل تباہی کو معمول سمجھنا شروع کر دیتی ہے۔