کوئی بات نئی بات نہیں

سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

barq@email.com

اکثر لوگ ہم سے مینڈیٹ اور میرٹ کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں یہ کیا ہیں ؟

کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے کیا ہے

تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ صبا ہے کیا ؟

اور ہم اس کا مختصر جواب دے کہ مینڈیٹ فاتح ہے اور میرٹ مفتوح۔اور جب کوئی مفتوح ہوجاتا ہے تو فاتح کو ہر طرح سے اسے لوٹنے مارنے اور غلام بنانے کا حق ہوجاتا ہے مثال کے طور پر ایک جگہ چند پوسٹوں کے لیے آدمی درکار تھے، فیصلہ کرنے والے فیصلہ کرچکے تھے، پانچ پوسٹ تھے اور پانچ لوگ منتخب کیے جاچکے تھے کہ اوپر سے بڑی توپ کا فون آیا کہ اس کے ایک آدمی کو بھی ایڈجسٹ کرنا ہے، انٹرویو لینے اور فیصلہ کرنے والے پریشان ہوگئے کہ منتخب کیے جانے والے بھی بڑی توپوں کے لوگ تھے، کافی دیر تک بحث مباحثہ چلتا رہا کیونکہ اس آخری بڑی توپ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چئیرمین نے منرل واٹر پی کر اور میز پر گھونسا مارکرکہا، مسئلہ حل ہوگیا ان منتخب ہونے والوں میں سے ایک میرٹ پر آیا ہے اسے ڈراپ کیے دیتے ہیں۔

دیکھا جائے تو دنیا اور پھر خاص الخاص ملک پاکستان میں وہی ہورہا ہے جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، نام بدل جاتے ہیں مقام بدل جاتے، ایام بدل جاتے لیکن ’’کام‘‘ وہی ہے جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ پرانے زمانوں میں جب کوئی فاتح کسی ملک یا شہر کو فتح کرلیتا تھا تو لوٹ کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا، پہلے شاہی لوٹ شروع ہوجاتی تھی اور فاتح شاہ قیمتی اشیا کو لوٹ لیتا تھا، پھر دوسرے نمبر پر سالاروں، وزیروں اور عمائدین کی باری آجاتی، وہ بھی شکم سیر ہوجاتے تھے تو فاتح لشکر کے عام افسروں کی لوٹ چل پڑتی تھی، یہ سب اپنا اپنا حصہ ’’بقدرجثُہ‘‘ قبضے میں کرلیتے تھے تو عام لشکر کی عام لوٹ شروع ہوجاتی چنانچہ فرنیچر اور برتن تک اڑا لیے جاتے ۔پھر نئی فاتح حکومت کی طرف سے نوبت بجتی کہ شہر کے لوگ پرامن رہیں شانت رہیں۔پرانی نظام حکومت چلی گئی ہے اب اس کی جگہ ایک نئی عادل اور انصاف دار حکومت آگئی ہے عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جائے گی انصاف کا بول بالا ہوگا۔شیر اور بکری ایک ہی بوتل سے منرل واٹر پئیں گے، بہت جلد عوام کے وارے نیارے ہوجائیں گے، گاڈ سیودی کنگ۔عوام کے لیے حکومت کے سارے دروازے کھلے ہیں۔

یہ سلسلہ اب وہی ہے صرف ہتھیار اور الفاظ بدل گئے ،کرداروں کے نام بھی بدل گئے ہیں، اب جنگ جوؤں اور حملہ آوروں کو پارٹیاں کہا جاتا ہے اور’’جنگ‘‘ کو انتخابات اس انتخابات یا ’’جنگ‘‘ میں سارے آزمودہ کار جرنیل،جنگ جُو اور یودھا اپنی اپنی عساکر اتارتے ہیں گھمسان کا رن پڑتا ہے۔سارے جائز و ناجائز ’’ہتھیار‘‘ استعمال کیے جاتے ہیں لیکن سب سے بڑا ہتھیار لوٹ ہوتا ہے جو ووٹ کے مقام پر آتا ہے ۔کچھ دانا دانشور لوگ اسے بلٹ بمقابلہ بیلٹ۔آخر کوئی نہ کوئی’’فاتح‘‘ میدان جیت لیتا ہے اور پھر وہی لوٹ مار کا مروجہ سلسلہ چل پڑتا ہے۔پہلے فاتح بادشاہ اپنی پسند کا منصب چن یا لوٹ لیتا ہے، اس کے دوسرے درجے کے یودھا وزارتوں اور محکموں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، یہ بھی جب شکم سیر ہوجاتے ہیں تو مشیروں معاونوں کوارڈینیٹروں کی باری آتی ہے اور جہاں جو کچھ بھی دستیاب ہوتا ہے ، باقی آپ سمجھ دار ہیں۔مال غنمیت میں دو چیزیں نہایت اہم ہوتی ہیں ایک ترقیاتی فنڈ اور دوسری’’مینڈیٹریاں‘‘۔ان مینڈیٹریوں کو ’’نوکریاں‘‘ بھی کہتے ہیں پہلے تو مینڈیٹ والے میرٹ کو تھپڑ مار مار کر ریوڑیاں اپنوں میں تقسیم کردیتے ہیں، باقی جو کچھ بچ جاتا ہے ان کی’نیلامی‘‘ ہوتی ہے۔

کسی کو اس نیلامی کا انچارج بنا دیا جاتا ہے جب نوکریوں کی نیلامی ہوتی ہے یعنی جب یہ سلسلہ اختتام پذیر ہو تو تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، تبدیلیوں کی نیلامی عام نہیں ہوتی بلکہ خاص ہوتی ہے۔ سلیکٹڈ طبقے کے جو الیکٹیڈ شہنشاہ مینڈیٹ کی تلوار لے کر آئے ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ بڑے ایمان دار، دیانت دار اور ثواب دار ہوتے ہیں اس لیے تبدیلیوں کے پیسے کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے اور اسے ان مونہوں میں ڈال دیتے ہیں جو وہ اپنے ساتھ لقموں کے لیے لائے ہوتے ہیں۔

سرکاری لقموں کے لیے لائے گئے’’منہ‘‘ یا تو ان کے بھائی چاچے مامے اور بھانجے بھتیجے ہوتے ہیں یا انتخابات میں معجزات دکھانے والے ہوتے ہیں اور یہی لوگ ہی’’میرٹ‘‘ کو مینڈیٹ سے شکست فاش دلانے والے ہوتے ہیں اور الگ الگ محکموں سے منسلک کیے جاتے ہیں۔بجلی کا کام ایک کرتا ہے تو تعلیم کا کام دوسرا سنبھالتا ہے، تعمیرات تیسرے کے پاس اور پولیس معاملات چوتھے کی تحویل میں ہوتے ہیں۔ بہرحال وقت بدل چکا ہے نام بدل جاتے، خواص وعوام بدل جاتے ہیں، مقام اور ایام بدل جاتے ہیں۔ لیکن فاتحوں کا کام نہیں بدلتا ہے وہی مفتوحہ شہر یا ملک، وہی مال غنیمت اور وہی لوٹ مار۔

سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

Load Next Story