آواز کا جادوگر
1924ء میں لکھنؤ شہر میں طلعت محمود کی ولادت ہوئی۔ ان کے والد منظور محمود تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ یہ بچہ، ہندوستان کا وہ مایہ ناز گلوکار بنے گا جس کی کوئی مثال نہیں ہو گی۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا منظور، حسب روایت ایک مذہبی خاندان کا سربراہ تھا۔ جہاں گانا بجانا، یکسر مسترد تھا۔ بلکہ اسے خرافات میں گنا جاتا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اوائل عمری ہی سے طلعت، عام بچوں سے حددرجہ مختلف تھا۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مرتے دم تک وہ دوسرے گلوکار حضرات سے بھی یکسر متضاد تھا۔
حددرجہ خوش لباس اور کم گو انسان۔ بہرحال طلعت محمود کو بچپن سے ہی موسیقی سے بہت شغف تھا۔ مگر یہ خاندانی روایات کے خلاف تھا۔ اب اس نوجوان کے پاس دو ہی راستے تھے۔ ایک تو یہ کہ سر جھکا کر اپنی خاندانی روایات کی تکمیل کرے یا پھر اپنی دیوانگی اور موسیقی سے عشق کو بڑھاوا پہنچائے۔ لیکن اس کے لیے اسے گھر چھوڑنا پڑنا تھا۔ کیونکہ شوق اور گھریلو زندگی بالکل متضاد تھی۔ طلعت نے حددرجہ مضبوط فیصلہ کیا اور گائیکی کے لیے اپنا گھر، والدین اور بہن بھائی چھوڑ دیے۔ یہ کوئی عام سا رویہ نہیں تھا۔ بلکہ اس کے پیچھے ایک نوجوان کا وہ عزم تھا جسے یقین تھا کہ آواز کے بل بوتے پر ایک دن وہ برصغیر کے کامیاب ترین سنگرز کی فہرست میں اونچے مقام پر ہو گا۔ مگر گھر چھوڑتے ہوئے، تو اس کے کوئی آثار نہیں تھے۔
کامیابی نزدیک تو کیا، دور دور تک نظر نہیں آ رہی تھی۔ طلعت کا کل اثاثہ اس کی وہ مسحور کن اور منفرد آواز تھی جو سننے والوں کو حیران کر ڈالتی تھی۔ مگر طلعت اس وقت اوائل عمری میں تھا۔ کیا عمر ہو گی۔ یہی کوئی چودہ پندرہ برس۔ گھر چھوڑنے کے بعد، طلعت نے کلاسیکی موسیقی سیکھنی شروع کر دی۔ اس کے پہلے گرو، پنڈت ایس سی آر بھٹ تھے جو لکھنؤ ہی میں مورسی کالج چلاتے تھے جہاں باقاعدہ موسیقی کی تربیت دی جاتی تھی۔ یہ 1930ء کا زمانہ تھا۔ اب طلعت نے شاعری کے اساتذہ کا کلام گانا شروع کر دیا۔ داغ، میر تقی میر، جگر، غالب۔ اور ان کو اس بہتر طریقے سے گایا کہ دھوم مچ گئی۔ آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ نے سب سے پہلے طلعت محمود کو موقع دیا کہ وہ اپنی آواز پورے برصغیر میں پہنچائے۔ ایسے ہی ہوا، جیسے ہی طلعت کو یہ فورم ملا، اس کی مدھر آواز پورے ملک میں خوشبو کی طرح پھیل گئی۔
1941ء میں His Master's Voice کمپنی نے طلعت کو دعوت دی کہ وہ اپنی آواز میں غزلیں ریکارڈ کروائیں۔ اور اس کے اوپر اس زمانے میں ’’کالے توے‘‘ بننے شروع ہو گئے۔ برصغیر میں موسیقی تو ازحد قدیم اور دھرتی سے جڑی ہوئی تھی مگر اپنے زمانے کی جدت کے حساب سے اس برطانوی کمپنی نے حددرجہ عمدہ کام کیا تھا اور یہ ریکارڈ آج بھی موجود ہیں۔ آٹھ نو دہائیاں پہلے ان ریکارڈز کو ’’کالے توے‘‘ ہی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ویسے آج بھی جو انانیت ان پرانے ریکارڈز کو سننے میں ہے، وہ کسی اور جدید میڈیم میں موجود نہیں ہے۔ اب طلعت محمود کی شہرت صرف لکھنؤ تک محدود نہیں تھی بلکہ فلموں کے گڑھ یعنی بمبئی، کلکتہ اور لاہور تک پہنچ چکی تھی۔
اس زمانے کے غزل گو گائک استاد برکت علی خان، کے ایل سہگل اور ایم اے رؤف تھے۔ جو تمام کے تمام بہت مستند اور اعلیٰ پائے کے گائک تھے۔ ان اساتذہ کی موجودگی میں طلعت صرف اور صرف اس لیے کامیاب ہوئے کہ ان کی آواز حددرجہ مختلف تھی۔ بہرحال اب اس نے فلموں میں گانا شروع کر دیا۔ 1944ء میں طلعت کا ایک گانا ’’تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی‘‘ خاص وعام میں اس قدر مشہور ہو گیا کہ برصغیر کے ہر گلی محلہ میں اس کی صدا سنائی دیتی تھی۔
شروع شروع میں طعت کلکتہ رہتے تھے، اور ’’ٹپن کمار‘‘ کے نام سے بنگالی گانے گاتے تھے۔ اس شہر میں، طلعت نے سولہ فلموں میں کام بھی کیا۔ اور ان میں سے صرف تین فلمیں کامیاب ہوئیں۔ باقی بھی درمیانی سی رہیں۔ 1949ء میں طلعت بمبئی منتقل ہو گئے کیونکہ بمبئی بہرحال اس وقت تک ہندوستان کا فلمی مرکز بن چکا تھا۔ بمبئی میں ان کی ملاقات انیل بسواس سے ہوئی جو کمال کے میوزک ڈائریکٹر تھے۔ وہ طلعت کی آواز کے سریلے پن کو بھانپ گئے اور انھیں معلوم پڑ گیا کہ یہ ایک جوہر نایاب ہے اور اس گلوکار کا سوز، فلموں کو وہ جہت دے ڈالے گا جس کا فی الحال تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بات نہیں کہ طلعت اس وقت تک مشہور ومعروف نہیں تھے، بالکل تھے۔ مگر انیل بسواس انھیں اس سمت میں لے جانا چاہتے تھے جہاں اس زمانے کا کوئی گلوکار سفر کرنے کی ہمت نہ رکھتا ہو ۔ بسواس جیسے مردم شناس میوزک ڈائریکٹر نے طلعت سے فلم آرزو کا وہ شہرہ آفاق گانا گوایا جو آج بھی امر ہے۔ ’’اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل۔‘‘ 1950ء میںآرزو فلم ریلیز ہوئی اور اس گانے نے پورے برصغیر میں قیامت برپا کر دی۔ ہر نوجوان کے لبوں پر یہی گانا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ فلم میں اداکار تو خیر بہت بڑھیا تھے مگر اس گانے نے ’’آرزو‘‘ فلم کو اس شہرت سے نواز دیا جس کا تصور کرنا کافی مشکل تھا۔
یہاں ایک بات بتانی بہت ضروری ہے۔ ہمارے جو بھی گلوکار، موسیقار، ایکٹر، ڈائریکٹر یا لکھاری کامیاب ہو جاتے ہیں، ان میں سے اکثریت کی یہ کوشش ضرور ہوتی ہے کہ کوئی ان کے شعبے میں، ان سے آگے نہ بڑھ جائے، ان سے زیادہ کامیاب نہ ہو جائے۔ مگر اس سے بالکل الٹ، طلعت، نئے گلوکاروں کی ہمت بندھاتا تھا۔ ان کو موسیقی کی رمزیں سمجھاتا تھا۔ بلکہ اس نے تو کئی نوزائیدہ گانے والوں کے ساتھ گانے بھی گائے ہیں۔ ان میں سے ایک من موہنی آواز ’’سمن کلیان پوری‘‘ کی بھی ہے جسے طلعت نے HMV جیسی بڑی کمپنی سے متعارف کروایا۔ اور اس کی بنیاد بڑی سادہ سی تھی۔ 1953ء میں طلعت نے سمن کو ایک پروگرام میں گاتے ہوئے سنا تھا۔ بلکہ طلعت نے اس گلوکارہ کے ہمراہ ڈرافٹ بھی ریکارڈ کرایا جس کی موسیقی نوشاد نے ترتیب دی تھی۔ اور اس کے بول تھے ’’ایک دل دو ہیں طلبگار۔‘‘ یہ فلم ’’دروازہ‘‘ کے لیے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ہندی فلموں میں طلعت کا آخری نغمہ لکشمی کانت ہی نے ترتیب دیا تھا جس میں ان کے ساتھ لتا جی تھیں۔ یہ فلم ’’وہ دن یاد کرو‘‘ کا تھا۔
یہ ان کے ہندی فلموں میں کیریئر کا اختتام تھا۔ مگر اس کے بعد صرف ایک اردو فلم میں لتا کے ساتھ انھوں نے ضرور گایا ہے۔ مگر ذہن میں رہے کہ ’’وہ دن یاد کرو‘‘ 1971ء میں بنی تھی اور والیٔ اعظم 1987ء میں اسکرین پرآئی تھی۔ یعنی یہ موسیقی کا سفر 1975ء میں اختتام پذیر ہو چکا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسی اور نوے کی دہائیوں میں عوام میں پذیرائی حاصل کرنے والی موسیقی یکسر تبدیل ہو گئی تھی۔ تیز موسیقی، راک اینڈ رول اور اس طرح کی موسیقی اب نئے سامعین کو بھاتی تھی۔ یہ تو عرض نہیں کر سکتا کہ وہ موسیقی اچھی تھی یا بری۔ مگر یہ بات ضرور ہے کہ اس میں طلعت، کے ایل سہگل اور اس طرح کے جادوئی آوازوں کے مالک اساتذہ کی لوچ نہیں تھی۔ وہ دل کے تاروں کو چھونے سے قدرے دور تھی مگر یہ تو قانون قدرت ہے کہ ہر قدیم عنصر، بہترین ہونے کے باوجود جدت کے ہاتھوں تھوڑی دیر کے لیے پسپا ضرور ہوتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ اس کی واپسی یقینی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اصل، اصل ہی ہوتا ہے۔
طلعت نے جب محسوس کیا کہ ان کا مزاج جدید موسیقی سے میل نہیں کھاتا تو انھوں نے بالکل ہمت نہیں ہاری۔ بلکہ وہ اپنے آرکسٹرا کے ساتھ لندن، امریکا، ساؤتھ افریقہ اور پورے یورپ میں اپنی آواز کا جادو جگاتا رہا۔ دلیپ کمار نے طلعت محمود کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غیرمعمولی گلوکار تو ہیں ہی، مگر وہ ایک ازحد شریف النفس انسان ہیں۔ خیام نے بھی اس گلوکار کے متعلق کہا کہ وہ بہترین گانے والے تھے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ فلم انڈسٹری کے سب سے خوش لباس انسان تھے۔ ان کے جوتے، ہمیشہ چمک رہے ہوتے تھے اور ان کے سوٹ کی کریز ہمیشہ باترتیب ہوتی تھی۔ طلعت نے چالیس برسوں میں سات سو چھیاسی گانے گائے اور یہ بارہ زبانوں میں تھے۔
آج بھی طلعت محمود کو سنے تو انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اس کی آواز سونے، چاندی اور ہیروں سے دھلی ہوئی تھی۔ اور آج بھی اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ویسے ایک سوال ہے، کہ ہمارے موجودہ گلوکاروں کی اکثریت، کیا گا رہی ہے۔ اکثریت تو سمع خراشی کا باعث ہی ہے۔ تنقید نہیں کرنا چاہتا۔ مگر آج گلوکار، اپنی آواز کی خوبصورتی کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ آرکسٹرا کے آلات کے زور پر گاتے ہیں۔ پھر یہ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ جناب میں کیسا گاتا یا گاتی ہوں۔ اب اس سوال کا کیا جواب دیا جائے! میں تو خاموش رہنے ہی میں عافیت سمجھتا ہوں۔