جنگ ستمبر1965: قوم کی یکجہتی کی لازوال مثال

جنگ ستمبر میں دشمن کے خلاف پوری قوم ایسے یک جان ہوئی جیسے ایک ہی تسبیح میں پروئے ہوئے موتی

اگر کوئی آپ سے یہ پوچھے بغیر کہ آپ پنجابی ہیں یا سندھی، پٹھان ہیں یا بلوچی، دیو بندی ہیں، بریلوی ہیں یا اہلحدیث، سنی ہیں یا شعیہ حتیٰ مسلمان ہیں یا غیر مسلم، آپ کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے، آپ کے لیے گھر سے کھانے تیار کرکے کھلائے، آپ کو خون کی ضرورت ہو تو لوگوں کی لائن لگ جائے، عطیات کی اپیل کریں تو لوگ بڑھ چڑھ کر اس میں اپنا حصہ ڈالیں، رات کو آپ کو راستہ دکھانے کے لیے مشعلیں روشن کرکے آپ سے آگے چلیں اور آپ کا خون گرمانے کے لیے قومی شاعر کلام لکھیں اور ملک کے عظیم گلوکار اسے اپنی آواز دیں تو یہ سب آپ کو یقیناً ایک خواب لگے گا اور آپ سوچیں گے کہ یہ معجزہ کیسے ہوگیا؟

لیکن یقین مانیے کہ یہ معجزہ ہماری قوم 1965 کی بھارت کے ساتھ جنگ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہے۔ اس جنگ کے دوران ہماری عوام نے اپنی فوج سے جس طرح یکجہتی کا اظہار کیا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

یہ 5 ستمبر کی رات اور 6 ستمبر منہ اندھیرے کا وقت تھا جب ہمارے بزدل ہمسائے نے ہماری طاقت کا غلط اندازہ لگا کر ہم پر حملہ کردیا اور ان کی فوج نے یہاں تک پروگرام بنا لیا کہ وہ 6 ستمبر کا ناشتہ لاہور جمخانہ میں کریں گے۔ لیکن ان کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ ان کا پالا میجر عزیز بھٹی، ایم یم عالم اور ان جیسے ہزاروں بہادر جوانوں سے پڑے گا۔

انہوں نے پاکستان کو ترنوالہ سمجھ کر جب پیش قدمی کی تو ہماری افواج پہلے سے تیار تھیں اور پھر ہر ہر محاذ پر انہیں منہ کی کھانا پڑی اور لاہور میں ناشتہ کرنے والوں کو برکی سے پہلے روک دیا گیا اور اور پھر اگلے دن پاک فضائیہ نے اپنی کارکردگی دکھا کر دشمن کے دانت کٹھے کردیے۔ کیوں کہ ایم ایم عالم نے ان کے پانچ جہاز مار گرائے جن میں سے چار صرف ایک منٹ میں گرائے جو کہ ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔ زمینی طور پر عزیز بھٹی اور ان کی ٹیم دشمن کے لیے ایک ناقابل تسخیر دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔

بحری محاذ پر پاک نیوی نے ان کو سبق سکھایا تھا، جس میں آپریشن دوارکا خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ دشمن نے ایک اور وار کرتے ہوئے سیالکوٹ کے محاذ چونڈہ کی طرف بے شمار ٹینک داخل کر دیے اور پھر چونڈہ کے محاذ پر ٹینکوں کی وہ جنگ ہوئی کہ جس کی مثال نہیں ملتی اور پاک فوج نے دشمن کے ٹینکوں کی تباہی کی وہ داستان رقم کی جو دشمن رہتی دنیا تک نہیں بھولے گا۔ الغرض ہماری پاک افواج نے ہر محاذ پر دشمن کو شکست دی اور پھر بین الاقوامی کوششوں سے 22 ستمبر1965 کو جنگ بندی ہوئی اور اگست کے مہینے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان روس میں معاہدہ تاشقند ہوا اور یہ طے ہوا کہ دونوں طرف کی افواج پانچ اگست 1965 والی پوزیشن پر واپس چلی جائیں گی اور یوں اس جنگ کا خاتمہ ہوا۔

جنگ بظاہر ایک خوفناک بلکہ ہولناک چیز ہے جس میں تباہی ہوتی ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ ستمبر 65 کی جنگ کو پاکستانی عوام نے ایک میلہ ٹھیلہ سمجھ لیا تھا، کیوں کہ نہ تو کسی کے چہرے پر خوف تھا اور نہ کوئی ڈر کر گھروں میں چھپ کر بیٹھا۔ بلکہ جنگ کا اعلان ہوتے ہی عوام گھروں سے باہر نکل آئے اور اپنی افواج کےحوصلے بڑھائے۔ ان 17 دنوں میں ہمارے عوام ایک دوسرے کی ذات، قبیلہ ، مسلک اور مذہب اور زبان تک ایک سائیڈ پر رکھ کر یک جان ہو کر سیسہ پلائی دیوار بن گئے، جس سے پاک فوج کے حوصلے بلند ہوئے۔

زخمیوں کے لیے خون کے عطیات دینے والوں کی دو، دو کلومیٹر لمبی لائنیں لگ گئیں۔ مرد و خواتین اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر پاکستانی جہاز دیکھ کر تالیاں بجاتے اور انڈین جہازوں کو پتھر مارتے۔ گھروں کی خواتین نے فوجی بھائیوں کے لیے ہاتھ سے سویٹر اور ٹوپیاں بنا کر محاذ پر بھیجیں۔ گھروں سے قسم قسم کے کھانے اور پکوان تیار کرکے ان کو بھجوائے۔ اگر فوجی شہر میں آجاتا تو اسے پھولوں کے ہار سے لاد دیا جاتا اور وہ بازار سے جو کچھ بھی لیتا، کوئی دکان والا ان سے پیسے نہیں لیتا تھا کہ فوجی بھائیوں کے لیے ہر چیز فری ہے۔

اس وقت پاکستان میں ٹی وی کا بالکل آغاز تھا جس تک رسائی بہت کم لوگوں کی تھی، مگر ریڈیو ہر محلے اور شہر میں تھے۔ لوگ شہر کے چوک میں اکٹھے ہوکر جنگ کی خبریں سنتے اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے۔ اس وقت کے شاعروں نے لازوال قومی نغمے لکھے جنہیں اس وقت کے مشہور گلوکاروں جن میں ملکہ ترنم نورجہاں، مسعود رانا، شوکت علی سمیت کئی دیگر گلوکاروں نے اپنی آواز دی، اور ہر وقت ریڈیو پر ’اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے‘، ’اے وطن کے سجیلے جوانوں‘ جیسے شاہکار اور لازوال نغمے گونجتے رہتے، جنہیں سن کر عوام اور فوج کا مورال مذید بلند ہوتا۔

جنگ کےلیے عوام سے فنڈ کی اپیل ہوئی تو عطیات کے لیے لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ کیا چھوٹے اور کیا بڑے، کیا عورتیں اور کیا مرد، ہر کسی نے اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ ڈالا۔ کسی نے اپنے پورے ماہ کا جیب خرچ دیا، تو کسی نے اپنے زیور اتار دیے۔ جنگ کےلیے رضا کاروں کی لائن لگ گئی۔ ملک کے تمام حصوں میں محبت، اخلاص اور یکجہتی کے خوب مظاہرے ہوئے اور پھر خاص کر لاہور، سیالکوٹ اور سرگودھا جو دشمن کے مین ٹارگیٹس تھے وہاں تو عوام کا ایک الگ ہی رنگ تھا۔ انہوں نے جنگ کو ایک فیسٹول کی طرح لیا اور لوگ اگلے مورچوں تک پہنچ کر اپنے فوجی بھائیوں کو کھانے پینے کی چیزیں اور دیگر استعمال کا سامان پہنچاتے اور ساتھ ریڈیو سے قومی جنگی ترانے سنواتے تھے۔ ملکہ ترنم نورجہاں نے خود پر محاذ پر جاکر گیت گائے۔ اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور نرسوں نے بغیر آرام کیے دن رات اپنے فرائض سر انجام دیے۔ مٹھائی کی دکان والوں نے کتنے دن مفت مٹھائی اور جلیبیاں تقسیم کیں۔ اسکول کے بچوں نے اپنے گلک توڑ کر جمع شدہ رقم فنڈ میں جمع کروادیں۔ جوان تو ہر طرح سے باہر متحرک رہے اور بزرگ خواتین اور حضرات نے مصلوں پر فوج اور ملک کے حق میں رب کے حضور دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھا۔

مختصر یہ کہ پوری قوم ایسے یک جان ہوئی جیسے ایک ہی تسبیح میں پروئے ہوئے موتی۔ نہ کسی نے دوسرے سے ذات پوچھی، نہ زبان، نہ علاقہ، نہ مسلک اور نہ سیاسی پارٹی، کیوں کہ اس وقت سب پر پاکستان سے عشق کا رنگ چڑھ چکا تھا۔ سارے ایک تھے، یک جان تھے، یک زبان تھے۔ اسی وجہ سے فوج حوصلے اور دیدہ دلیری سے لڑی کہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے دانت کٹھے کردیے اور انہیں لاہور میں ناشتہ کرنے کی بجائے اپنی جانیں بچانا مشکل ہوگیا۔

اس جنگ کو فوج اور عوام نے مل کر لڑا اور اپنا دفاع پھر پور طریقے سے کیا، جس کی یاد میں ہم ہر سال 6 ستمبر کو یوم دفاع مناتے ہیں لیکن اس میں وہ یکجہتی ناپید ہوتی ہے جس کا مظاہرہ اُن سترہ دنوں میں دیکھنے کا ملا۔ اس سے ملتی جلتی یکجہتی کا پرتو اس وقت سامنے آیا جب اسی بزدل دشمن نے مئی 2025 میں پھر ہمارے ساتھ شرارت کی اور ڈرون حملے کیے تو اس بار پاک فضائیہ نے ان کو ایسا سبق سکھایا کہ وہ رہتی دنیا تک یاد رکھیں گے۔ معرکہ بنیان المرصوص نے دشمن کی وہ تباہی کی کہ جس نے پوری دنیا پر ہماری دھاک بٹھا دی اور پاکستان کا نام پوری دنیا میں گونج اٹھا۔ معرکہ بنیان المرصوص کے دروان بھی عوام میں یکجہتی نظر آئی اور وہ فوج کی پشت پر کھڑی نظر آئی جس سے اس کے حوصلے بلند ہوئے اور دشمن کو اپنے منہ کی کھانا پڑی اور اسے پاکستان کی دفاعی اور حملہ کی طاقت کا اندازہ ہوگیا، جس سے بھارت کی ساری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی۔

اللہ ہمارے ملک کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، عوام کو یکجہتی، خلوص اور محبت سے جوڑے رکھے اورہمارے ملک کا سبز ہلالی پرچم پوری دنیا میں ہمیشہ سربلندے رکھے۔ آمین۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story