الزامات واپس نہ لینے پر جماعت اسلامی نے شبر زیدی کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست جمع کرادی

لیگل نوٹس کے جواب میں سابق چیئرمین اپنے الزامات پر قائم رہے، مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے، توفیق الدین صدیقی

کراچی:

جماعت اسلامی نے پیسے لے کر احتجاج کرنے کے الزامات واپس نہ لینے پر شبر زیدی کیخلاف ڈائریکٹ کمپلین دائر کردی جسے جوڈیشل مجسٹریٹ نے سماعت کے لیے سیشن کورٹ منتقل کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی اور امیر جماعت اسلامی پر پیسے لے کر احتجاج کا الزام لگانے پر شبر زیدی کیخلاف جماعت اسلامی کراچی کے جنرل سیکریٹری توفیق الدین صدیقی نے ڈائریکٹ کمپلین دائر کردی۔ توفیق الدین نے ڈائریکٹ کمپلین محمد طاہر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ شبر زیدی نے 10 جون کو آن لائن انٹرویو میں جماعت اسلامی اور امیر جماعت اسلامی پر الزامات لگائے۔

توفیق الدین صدیقی کے مطابق شبر زیدی نے الزام لگایا تھا کہ کہا کہ جماعت اسلامی عوامی جذبات چھپانے کی فائر وال ہے اور جس مسئلے پر عوام کو باہر آنا چاہئے جماعت ڈیڑھ سو لوگ باہر لے آتی ہے، جماعت کی اس حرکت سے مسئلہ ڈائیلیوٹ ہوجاتا ہے۔

ڈائریکٹ کمپلین میں موقف دیا گیا کہ شبر زیدی نےالزام عائد کیا کہ جماعت عوامی مسائل خراب کرنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی فائر وال ہے۔ شبر زیدی نے کہا کہ حافظ نعیم کو 10 لاکھ لگادیں سارا مسئلہ ڈائیلیوٹ ہوجائے گا۔ خاموشی سے پیسے پکڑ کر گھرچلے جائیں گے۔ شبر زیدی نے الزام لگایا کہ یہ پالے ہوئے ہیں۔ یہ عوام کی بات صحیح پبلک میں آنے نہیں دیتے۔

درخواست گزار کے مطابق جب اینکر نے پوچھا کہ کیا جماعت اسلامی پیسے لیتی ہے۔ جس پر شبر زیدی نے کہا کہ  سو فیصد  سو فیصد۔ ڈائریکٹ کمپلیکن میں موقف اپنایا گیا کہ درخواستگزار نے شبر زیدی کو 26 جولائی کولیگل نوٹس بھیجا۔ شبر زیدی الزامات واپس لینے کے بجائے 20 اگست کو لیگل نوٹس کا جواب دیا۔ شبر زیدی الزامات واپس لینے کے بجائے اپنے موقف پر قائم رہے، عدالت سے استدعا ہے کہ شبر زیدی کیخلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے۔

توفیق الدین کے وکیل محمد طاہر ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ شبر زیدی کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ شبر زیدی نے یہ نہیں بتایا کہ کس نے کہاں اور کس طرح  پیمنٹ کی۔ شبر زیدی نے بینک ٹرانزیکشن یا چیک کا حوالہ نہیں دیا۔ جماعت اسلامی ایک خو د مختار سیاسی جماعت ہے۔ شبر زیدی نے جماعت اسلامی کی ساکھ کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکن، عہدیدار  یا امیر کو خفیہ فنڈ لینے کا اختیار نہیں ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے کمپلین سماعت کے لیئے سیشن کورٹ منتقل کردی۔

Load Next Story