ہم جنس پرستی؛ پارٹنر کے قتل پر سزا کاٹنے والی خاتون نے خاتون سے شادی کی اور قتل کردیا

دونوں خواتین قاتلہ 54 سالہ یولانڈا مارودی اور مقتولہ 49 سالہ ربیکا مارودی نے 2023 میں شادی کی تھی

اپنی بیوی کے قتل کی مجرم ہم جنس پرست خاتون یولانڈا مارودی کو 36 سال سے عمر قید کی سزا سنادی گئی۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ’’خاتون‘‘ کو اپنی ’’بیوی‘‘ کے قتل کے جرم میں 36 سال قید کی سزا سنا دی گئی جبکہ وہ اس سے قبل بھی اپنے پارٹنر کے قتل کے جرم میں 10 سال جیل کاٹ چکی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 17 فروری 2025 کو سان ڈیاگو کے شمال مشرق میں واقع رامونا میں ایک گھر سے چاقو لگی لاش برآمد ہوئی تھی۔ وہ جنگلات میں آگ بجھانے والے ادارے کی کیپٹن تھیں۔

استغاثہ نے بتایا کہ 54 سالہ خاتون یولانڈا مارودی نے اپنی 49 سالہ اہلیہ ربیکا مارودی کے قتل کا جرم قبول کیا ہے۔ دونوں خواتین یولانڈا اور ربیکا نے دو سال قبل شادی کی تھی۔

 

قتل سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ربیکا نے یولانڈا کو بتایا تھا کہ وہ کسی اور شخص سے تعلقات میں ہیں اس لیے اب یہ شادی ختم کرنا چاہتی ہیں۔

پولیس تفتیش کے دوران یولانڈا نے قبول کیا کہ یہ بتانے پر وہ غصے میں آگئیں اور انھوں نے چاقو کے تقریباً دو درجن سے زائد وار کرکے ربیکا کو بیدردی سے قتل کردیا۔

قتل کے واقعے کا کچھ حصہ گھر کے صحن میں نصب سیکیورٹی کیمرے میں بھی محفوظ ہوگیا تھا۔

گرفتاری کے وارنٹ کے لیے جمع کرائے گئے حلف نامے کے مطابق حملے کے دوران خون میں لت پت ربیکا نے یولانڈا سے کہا کہ وہ مرنا نہیں چاہتیں۔

یولانڈا نے جواب دیا کہ تمھیں اس بارے میں پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ یہ مکالمہ کیس کے سب سے دل دہلا دینے والے حصوں میں شامل رہا۔

ربیکا کے قتل کے بعد یولانڈا امریکا سے فرار ہوکر میکسیکو چلی گئی تھیں۔ انھیں 22 مارچ 2025 کو امریکی سرحد کے قریب میکسیکو کے شہر میکسیکالی سے گرفتار کیا گیا۔

بعد ازاں انہوں نے دوسرے درجے کے قتل کا جرم قبول کرلیا جس کے بعد عدالت نے رواں ہفتے انہیں 36 سال سے عمر قید کی سزا سنادی۔

یہ پہلا قتل نہیں تھا

یولانڈا مارودی کا مجرمانہ ماضی بھی اس مقدمے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وہ اس سے قبل 2003 میں ایک سابق ساتھی کی ہلاکت کے مقدمے میں رضاکارانہ قتلِ غیر عمد کا جرم قبول کرچکی تھیں اور تقریباً ایک دہائی جیل میں گزار چکی تھیں۔

ماں نے بیٹی کی لاش خود دریافت کی

عدالت میں سزا سنائے جانے کے موقع پر ربیکا کی والدہ لورینا مارودی نے بتایا کہ اپنی بیٹی کو شدید زخمی حالت میں فرش پر پڑا دیکھنے کی تصویر انہیں آج بھی پریشان کرتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ قاتل کی نفرت کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ربیکا کے ساتھ ہونے والے ہولناک تشدد کے باوجود وہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف حاصل کرنے کے لیے مضبوط کھڑی رہیں۔

 

Load Next Story