بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری، رشوت ستانی پر پکڑے جانے والے 17 گریڈ کے افسر کی 2 سرکاری ملازمتوں کا انکشاف

یونیورسٹی انتظامیہ نے آغا عدنان کو برطرف کردیا، وزیرجامعات نے مفصل رپورٹ طلب کرلی

کراچی کے علاقے لیاری میں قائم بے نظیر بھٹو یونیورسٹی میں اینٹی کرپشن کے کے چھاپے میں مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے 17 گریڈ کے افسر کے حوالے سے بڑے انکشافات سامنے آئے ہیں جبکہ انتظامیہ نے افسر کو برطرف کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لیاری میں قائم بے نظیر بھٹو یونیورسٹی میں گزشتہ روز اینٹی کرپشن نے رشوت ستانی کی شکایات ملنے پر اچانک چھاپہ مارا اور وہاں سے 17 گریڈ پر تعینات افسر آغا عدنان کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑا۔

اینٹی کرپشن ٹیم کے چھاپے کی ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں اہلکاروں نے مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑنے کے بعد 17 گریڈ کے افسر کی تلاشی بھی لی اور پھر مبینہ طور پر اُن سے رقم بھی برآمد کی ہے۔

سرکاری محکمے کے ذرائع نے بتایا کہ آغا عدنان مبینہ طور پر یونیورسٹی میں 17 گریڈ کی ملازمت کے ساتھ دوسری سرکاری ملازمت بھی کررہے ہیں جس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ذرائع محکمہ جامعات کے مطابق اس حوالے سے موصول ہونے والی شکایات پر بھی تحقیقات جاری ہیں اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے تو پھر سخت کارروائی کی جائے گی۔

اُدھر صوبائی وزیر جامعات کو بھی مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے 17 گریڈ کے افسر آغا عدنان احمد کی بیک وقت دو سرکاری ملازمتوں کی شکایات موصول ہوئیں جس پر انہوں نے کہا کہ ایسا کام کرنا قانوناً جرم ہے۔

اس کے علاوہ یہ شکایت بھی صوبائی وزیر کو موصول ہوئی کہ آغا عدنان یونیورسٹی میں انسپکٹر کالجیٹ کی اضافی ذمہ داری کے دوران مبینہ طور پر مختلف کالجز کو یونیورسٹی سے الحاق دلوانے کے معاملات میں اضافی رقوم کی وصولیوں اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث رہے۔

وزیر جامعات کے ترجمان نے کہا کہ موصول ہونے والی شکایات اور تمام الزامات کی حتمی حیثیت تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بغیر دباؤ کے آغا عدنان احمد کی دونوں سرکاری ملازمتوں، تقرریوں، حاضری، تنخواہوں، مراعات، تعیناتی کے احکامات اور بیک وقت 2 سرکاری عہدوں پر فائز رہنے کی قانونی حیثیت کا مکمل ریکارڈ پیش کرے۔

وزیر جامعات نے ہدایت کی کہ آغا عدنان کے بطور انسپکٹر کالجیٹ دوارنیے میں یونیورسٹی سے الحاق حاصل کرنے والے کالجز کی مکمل فہرست، الحاق کے لیے وصول کی جانے والی سرکاری فیس، متعلقہ ریکارڈ اور شکایات میں بیان کردہ مبینہ اضافی وصولیوں کی بھی مکمل چھان بین کی جائے۔

اُدھر یونیورسٹی کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آغا عدنان کے حوالے سے جو تحفظات تھے انہیں پہلے ہی آگاہ کیا جاچکا ہے تاہم اثر و رسوخ کی وجہ سے کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔

17 گریڈ کا افسر آغا عدنان عہدے سے برطرف

دوسری جانب یونیورسٹی لیاری میں مبینہ رشوت ستانی کے معاملے پر پرو وائس چانسلر کے دفتر میں تعینات گریڈ 17 کے افسر آغا عدنان احمد کو فوری طور پر معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ترجمان کے مطابق ویڈیو کلپس میں آغا عدنان احمد پر غیر قانونی مالی منفعت طلب کرنے اور وصول کرنے کے الزامات سامنے آئے تھے، جن کے باعث لیاری یونیورسٹی کی ساکھ متاثر ہوئی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ جامعہ لیاری کے وائس چانسلر نے بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی منظوری سے آغا عدنان احمد کو فوری طور پر معطل کر کے انھیں عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ معطلی کے دوران آغا عدنان احمد کی تمام سرکاری ذمہ داریاں، اسائنمنٹس اور عہدے واپس لے لیے گئے ہیں۔ انھیں یونیورسٹی کے احاطے، سرکاری ریکارڈ، آفیشل ای میل اور سسٹم اکاؤنٹس تک رسائی سے بھی روک دیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق آغا عدنان احمد کو 24 گھنٹوں کے اندر تمام سرکاری املاک، فائلیں، چابیاں اور سرکاری دستاویزات رجسٹرار آفس کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جاری تحقیقات اور انکوائری مکمل ہونے تک ان کی تنخواہ اور دیگر قابلِ قبول الاؤنسز بھی روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آغا عدنان احمد پر بہ یک وقت 2 سرکاری نوکریاں کرنے کے بھی الزامات ہیں، جب کہ ان کے خلاف بہت ساری مالی بدعنوانی کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی معاملے کی جاری تحقیقات اور انکوائری کے تناظر میں کی گئی ہے، جب کہ حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ

Load Next Story