آج کی بات
حلم اور حزم یہ دو الفاظ ایک ساتھ ایک الگ ہی تاثر پیدا کر رہے تھے۔ حلم کے بارے میں تو جانتے ہیں پر حزم کیا ہے؟ ذرا تفصیل سے غور فرمایا تو معلوم یہ ہوا کہ نہ حلم اور نہ ہی حزم ہم تو ان دونوں الفاظ کی تعریف سے نابلد ہیں۔
حلم اور حزم جذباتی کیفیات و احساسات کا نام ہے، حلم سے مراد جذباتی ردعمل کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اور غصے اور اشتعال کی بجائے تحمل کا مظاہرہ حلم ہے۔ اس کے لغوی معنی بردباری، عمل اور برداشت اور اپنے مخالفین، دشمنوں یا غلطی کرنے والوں کے ساتھ نرمی برداشت اور معافی کا سلوک روا رکھنے والے انسان کا رویہ نفسیات کی زبان میں جذباتی ضابطہ کہا جاتا ہے ۔
اس سے مراد انسان کی وہ نفسیاتی خصوصیت ہے جس میں وہ اپنی خواہشات، مشکلات اور دباؤ کا مقابلہ کرتا ہے۔ حلم کے ساتھ حزم جس سے مراد کسی کام کو دور اندیشی، احتیاط اور باریک بینی سے انجام دیا جائے اور فیصلہ کرتے جلدبازی کی بجائے سوچ سمجھ کر قدم بڑھائے۔
حلم اور حزم ایک انسان کی کردار سازی میں نہایت اہم رول ادا کرتے ہیں۔ ہمارے مذہب میں تمام انسانوں کے لیے اور خاص کر حکمرانوں اور اہم ذمے داری اٹھانے والے ذمے داروں کے لیے حلم اور حزم کی بے پناہ مثالیں ہیں۔
صدیوں پہلے جب انسان کی نفسیات کو سمجھنے پرکھنے اور دوا دینے کے لیے نفسیاتی ڈاکٹر تو نہ تھے ،پھر کیا تھا کہ اپنے غصے اور بھڑکتے جذبات کو قابو میں رکھ کر دشمنوں کو معاف کیا گیا، یہاں تک کہ اپنوں کے قاتلوں کو بھی چھوٹ دے دی گئی۔
تو اس کا سادا سا جواب ہے کہ ہمارے رب نے حلم اور حزم ایک ایسا متوازن قانون قرآن پاک کے ذریعے ہمارے رسول پاک ﷺ کے ذریعے بتا دیا تھا بلکہ کرکے دکھا دیا تھا جسے صحابہ کرام نے آگے بڑھایا تب ہی عرب کے ریگستانوں سے جہاں دھول اڑا کرتی تھی ،ایسی آب و تاب پیدا ہوئی کہ اس نے ایک دنیا کو اپنے نور سے روشن کیا۔
طاقت کے سرچشمے ایسے کہ مخالف لرز کر رہ جائیں پر ایسا حلم کہ دشمن چکرا کر رہ جائے کہ یہ ہو کیا رہا ہے اور یہی رب العزت کی جانب سے مسلمانوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں غصہ، طنز اور سخت لہجہ رشتوں کو تباہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ بنتے ہیں جب کہ نرمی سے بات شروع کرنا تعلقات کو بچاتا ہے۔
ڈاکٹر جان گوٹ مین نے اپنے اس نظریے جسے چار مہلک انداز کا نظریہ بھی کہتے ہیں بیان کیا ہے ، جو لوگوں کے گفتگو کرنے کے انداز اور ازدواجی تعلقات کے سلسلے میں دنیا کے معروف ماہر نفسیات کہلاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر مہرابیان نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ جب ہم اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں تو سامنے والے پر ہمارے الفاظ کا صرف سات فی صد اثر ہوتا ہے جب کہ لہجے کا تیس اڑتیس فی صد اور باڈی لینگویج کا پچپن فی صد اثر ہوتا ہے۔
اتنی لمبی چوڑی تفصیل کے بعد خیال ابھرتا ہے کہ عموماً لوگوں کے رویے آج کل یعنی 2026 میں کس طرح کے دکھائی دے رہے ہیں تو اس کا جواب بڑا آسان سا ابھرتا ہے۔مایوسی، غصہ، جذباتیت اور بے چینی جس کی وجہ مہنگائی، غیر متوازن سیاسی اور غیر سیاسی صورت حال، معاشی رویے اور دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی ہے۔
عوام اپنے پسندیدہ سیاسی لیڈران اور جماعتوں کے پیچھے آنکھیں بند کرکے چل پڑنے پر مصر ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس راہ پرگامزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے وہ مسافر ہیں۔ اس مقام پر نظر آتا ہے کہ عوام کا پڑھا لکھا طبقہ، کم پڑھا لکھا طبقہ اور ان پڑھ طبقہ اپنی مذہبی روایات کو پس پشت ڈال کر اندھا دھند غلط راہوں پر دوڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے کرپشن، جرائم کا اضافہ اور آبادی کا ارتکاز ہو رہا ہے لیکن ان تمام مسائل کو حل کرنے کے بجائے ذمے داران کبوتر کی مانند آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔
ہمارے اعلیٰ عہدیداران بھی حلم اور حزم سے بے نیاز اپنے مراتب سنبھالے بیٹھے ہیں، کہیں ریڈ کارپٹ بچھائے جا رہے ہیں تو کہیں گلاب پاشی کی جا رہی ہے کیا عوام انھی باتوں کے لیے بھاری ٹیکسوں تلے دبے جا رہے ہیں؟
گل پلازہ کی آگ ہو یا پمز اسپتال کی آگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا جارہا ہے۔ ہمارے یہاں کاموں کی انجام دہی سے زیادہ بیانات کے اتار چڑھاؤ کو تولا جاتا ہے پھر وہی حلم و حزم کی کمیابی جو ساری محنت کو اکارت کر دیتی ہے، کیونکہ مادیت بھرے اس دور میں الفاظ کی کاٹ، دھار اور نرم پھوار پر نظر رہتی ہے۔
کیا ہماری قوم اس بیان بازی کے منظرنامے سے نکل کر حلم اور حزم کے ساتھ کام کرو اور کرنے دو کے مقولے پر عمل کر سکتی ہے، توجہ کی ضرورت ہے کہ احتساب کے عمل کو اسی دنیا میں سہل بنا لیں تو بہتر ہے ورنہ اوپر والے کے اس طے کردہ بڑے حساب کتاب والے دن چھوٹی چھوٹی غلطیاں، چھوٹے بڑے مسائل کیا صورت لیے نظر آئیں گے، کس کس کو کس طرح بھگتنا پڑے گا تیار رہیے۔
کئی بار ضمیر کی عدالت خود ہی سزا سنا دیتی ہے وہ بھی آسان نہیں ہوتا۔ کہاں کہاں اپنے لیے چور دروازہ تلاش کریں گے کہ قیامت ایک بہت بڑی سچائی ہے جسے جھٹلانا مشکل ہے۔