ڈیفنس میں فیملی پر تشدد، ایس ایس پی کی رشتے دار بااثر خاتون پر مقدمہ درج، پولیس اہلکار بھی نامزد

متاثرہ فیملی کے خلاف درج مقدمہ بی کلاس کردیا گیا، ایس ایس پی کی رشتے دار خاتون کیخلاف درخشاں تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا

شہر قائد کے علاقے ڈیفنس چھوٹا بخاری کی رہائشی عمارت میں بہن بھائی کو تشدد کا نشانہ بنانے والی ایس ایس پی کی رشتے دار خاتون، موقع پر موجود اہلکاروں کیخلاف درخشاں تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخشاں پولیس نے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کورنگی فدا حسین جانوری کی سسرالی رشتے دار خواتین سمیت دیگر کے خلاف تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا جبکہ اس سے قبل سابق ایس ایچ او درخشاں نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایس ایس پی کی رشتے دار خاتون کی مدعیت میں مدعیہ اور بھائی کے خلاف مقدمہ درج کر کے انھیں گھر سے گرفتار بھی کیا تھا۔

درخشاں پولیس نے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کورنگی فدا حسین جانوری کی سسرالی رشتے دار خواتین اور موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ نمبر 623 سال 2026 بجرم دفعات 147 ، 148 ، 379 ، 427 او 337 اے ون کے تحت مدعیہ نورالعین کی مدعیت میں درج کرلیا۔

مدعیہ نورالعین نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ 20 اگست کی شب پونے بارہ بجے کے قریب اپنے بھائی اور والدہ کے ہمراہ فلیٹ پر موجود تھی کہ اس دوران ایک پولیس اہلکار نے بیل بجائی اور کہا کہ میڈم مریم نیچے گراؤنڈ فلور پر بلا رہی ہیں۔

مدعیہ کے مطابق کچھ دیر کے بعد مریم گالم گلوچ کرتے ہوئی اوپر آئی اور ہمارے دروازے کو لاتیں مارنے لگی میں نے دروازہ کھولا تو اس نے مجھے بالوں سے پکڑا اور میرا موبائل فون چھین کر نیچے پھینک دیا اس دوران میری والدہ باہر آئیں تو ان کو بھی بالوں سے پکڑ کر زد وکوب کیا اور مجھے دیوار سے لگا دیا  جس کی وجہ سے میرے چہرے پر چوٹ لگی اس کے بعد مریم اپنے فلیٹ چلی گئی اور اپنی بیٹی کے ساتھ دوبارہ نیچے آئی اور اس کے ہمراہ پولیس اہلکار بھی موجود تھے اور آتے ہی ہمارے فون چھیننے کی کوشش کی اور میرے بھائی کا فون نیچے گرنے پر مریم نے اٹھا لیا۔

مدعیہ کے مطابق مریم کی بیٹی نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ڈمبل سے مارنا شروع کر دیا ان لوگوں کے خوف سے اپنی جان بچا کر فلیٹ میں چلے گئے اور مدد گار 15 پولیس کو کال کی اس دوران فلیٹ کے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے دروازے پر لگے ہوئے کیمرے کو توڑ دیا اور کچھ دیر کے بعد درخشاں تھانے کی پولیس ہمارے گھر کا دروازہ توڑنے لگی اور دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئی اور میرا اور میرے بھائی کا موبائل فون لے لیا اور پولیس تھانے لیکر آگئی۔

مدعیہ نورالعین کے مطابق میرا دعویٰ نامزد خواتین اور وہاں موجود اشخاص کے خلاف مجھ سے مار پیٹ کر کے موبائل فون چوری کرنے اور کیمرے کو نقصان پہنچانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ، درخشاں پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انچارج انویسٹی گیشن سی آئی سی کے حوالے کر دیا۔

واضح رہے مدعیہ نورالعین اور اس کے بھائی سے جھگڑا اور مار پیٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج گزشتہ ماہ 28 اگست کو منظر عام پر آئی تھی جبکہ کراچی پولیس چیف نے 29 اگست کو واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ کو انکوائری مکمل کر کے رپورٹ ارسال کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کی جانب سے ارسال کی گئی رپورٹ میں تشدد کا نشانہ بننے والی نورالعین اور اس کے بھائی علی احسن کے خلاف درخشاں تھانے میں درج مقدمے کو بی کلاس کرنے کی سفارش کی گئی اور رپورٹ میں ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کورنگی فدا حسین جانوری سمیت متعدد پولیس اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے محکمانہ کارروائی اور مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

انکوائری رپورٹ بتایا گیا تھا کہ ایس ایس پی فدا حسین جانوری کی جانب سے معاملے میں انتظامی غفلت برتی گئی جس پر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی بھی سفارش کے ساتھ ساتھ ایس ایس پی کی ساس ، سالی اور سالے سمیت موقع پر موجود ڈسٹرکٹ کورنگی کے چار اہلکاروں اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کے خلاف درج کرنے کی بھی سفارش کی گئی تھی ۔

متعلقہ

Load Next Story