اہل کراچی، کیا اب جنگل میں جا بسیں؟
پاکستان کے سب سے بڑے شہر ہونے کا اعزاز رکھنے والا کراچی، ملک کی معیشت کا پہیہ گھمانے والا شہر ِ کراچی، ہمارے ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ کے کنارے بسا شہر کراچی، پاکستان کے ہر سمت سے روزگار کی غرض سے آنے والے ضرورت مندوں کو اپنی آغوش میں لینے والا شہرکراچی اور کبھی روشنیوں کا مرکز کہلانے والا شہر کراچی آج اپنی زبوں حالی پر آہ و بکا کی زندہ جاوید تصویر بنا ہوا ہے۔
جن افراد کو ماضی کے کراچی میں رہنے کا تجربہ حاصل ہے وہ حال کے کراچی کو پہچان نہیں پا رہے ہیں۔ وہ شہر جو اپنے باسیوں کو زندگی کی رمق مہیا کرنے میں اپنی مثال آپ تھا اب اُن کی زندگیوں کا تماشا بنتے خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔
ایک وقت وہ تھا جب شہر کراچی کی سڑکیں روزانہ صبح پانی سے دُھلا کرتی تھیں، شہر کے چوک، چوراہے اور گلیاں صفائی، ستھرائی کا جیتا جاگتا ثبوت پیش کرتے تھے اور اب اُن تمام جگہوں پر کوڑا کرکٹ اور گند و غلاظت اپنے شہریوں کو ہمہ وقت منہ چڑھا رہے ہیں۔
کراچی ہمارے ملک کا ایک میٹرو پولیٹن شہر ہے مگر اُس کی ظاہری حالت چیخ چیخ کر اس بات کی منفی کر رہی ہے۔ یہ شہر جس کے سائے میں یہاں رہنے والے پروان چڑھتے آئے ہیں وہ خود آخر کیوں اپنی پرواز عروج کی جانب کرنے کے بجائے زوال کی سمت محو ِ سفر ہے؟ شہر اپنے شہریوں کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہے لیکن کراچی عرصہ دراز سے اس کے برعکس کردار ادا کر رہا ہے۔
شہر ِ کراچی بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ہے اور یہاں سے قریب دریائے سندھ بہتا ہے پھر بھی اس شہر میں پانی کا شدید بحران موجود ہے۔ کراچی کو تقریباً 1,200–1,300 ملین گیلن فی دن پانی درکار ہے لیکن اسے تقریباً 550–650 ملین گیلن فی دن پانی ہی دستیاب ہوتا ہے، یعنی ضرورت کا تقریباً نصف پانی بھی باقاعدگی سے کراچی میں رہنے والوں کو میسر نہیں آتا ہے۔
سندھ اسمبلی کے ریکارڈ میں کراچی کو روزانہ ملنے والے پانی کا تخمینہ 1,200 ملین گیلن درج ہے جب کہ سندھ حکومت کی ایک دستاویز میں تقریباً 1,300 ملین گیلن بتایا گیا ہے۔ اس کُھلم کُھلا تضاد پر، ’’چراغ تَلے اندھیرا‘‘ کی کہاوت صادق آتی ہے۔
ہمارا ملک پاکستان جب معرض وجود میں آیا تھا تب کراچی کا بنیادی ڈھانچہ زمانہ حال سے بہت بہتر تھا جب کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جدید دور میں اس شہر کے چپّے چپّے سے جدیدیت ظاہر ہوتی لیکن معاملہ اُلٹا ہو گیا اور کراچی وقت گزرنے کے ساتھ کھنڈرات میں تبدیل ہوتا گیا۔
کراچی میں سڑکیں بہت مشکل سے بنتی ہیں، جن سڑکوں کی تعمیر نو کا آغاز ہوتا ہے اُن کو تکمیلی مراحل تک پہنچتے پہنچتے کئی سال بیت جاتے ہیں اور نئی تعمیر شدہ سڑکوں کی بھدّی اصلیت کچھ عرصے میں ہی عوام کے سامنے عیاں ہو جاتی ہے۔
اس کے علاؤہ کراچی میں کسی بڑے خزانے کی تلاش میں جگہ جگہ کھدائی کا عمل بھی زور و شور سے جاری و ساری ہے۔
کراچی کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی روزمرہ کا معمول ہے، یہاں رہنے والوں کو محض مقررہ اوقات میں ہی گھر کا چولہا جلانے کے لیے گیس فراہم کی جاتی ہے۔ اہل کراچی اپنی جان ہتھیلی پر لیے گھومتے ہیں، شہر میں انسانی زندگی کی بے قدری کا یہ عالم ہے کہ گھر سے انسان نکلتا اپنی ٹانگوں پر ہے اور واپس لوٹتا دوسروں کے کندھوں پر ہے۔
شہر کی ٹوٹی پھوٹی تباہ حال سڑکوں پر بے ہنگم چلتے بڑے بڑے ٹرک، ٹرالر اور ڈمپر کبھی بھی کسی کی بھی زندگی کا لمحوں میں خاتمہ کر سکتے ہیں اور اُن کو سزا کے نام پر چند دن تھانے میں بند رکھ کر یا بھاری رقم جرمانے کے طور پر لیکر وہی جرم دہرانے کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
جرائم کی شرح کراچی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس شہر کی سڑکوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے دن دھاڑے شہریوں کو جرائم پیشہ افراد لُوٹ رہے ہیں اور اُن کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔
شہر کی پولیس پر شہر والوں کا اعتبار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ویسے اپنے اوپر لٹیروںکے ہاتھوں بیتی ستم ظریفی کو اس شہر میں رہنے والے کڑوا گھونٹ سمجھ کر خاموشی سے پی جاتے ہیں لیکن اگر اُن میں سے کوئی ایک آدھ بندہ آواز اُٹھاتا ہے اور اپنی فریاد لیکر قانون کے رکھوالوں کی جانب رُخ کرتا ہے تو اُس کو اتنا خوار کروایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔
کراچی میں طاقت کے زور پر کوئی بھی کسی انسان کی زندگی دن کی روشن ہو یا رات کی تاریکی باآسانی ختم کر سکتا ہے اور اُس کو قانون کے شکنجے میں جکڑے جانے کا رتی برابر ڈر نہیں ہوتا ہے۔
عورتوں اور بچوں کو ہراساں کرنا، زیادتی کا نشانہ بنانا، اثر و رسوخ رکھنے والے نوجوان کا اپنے دوست کو بے رحمی سے قتل کر دینا، ملک کے ایک بڑے بزنس مین کی نشے میں دھت بیوی کا سڑک پر اپنی مہنگی گاڑی سے باپ، بیٹی کو کچل ڈالنا، شہر کے پوش علاقے میں اپنی بہن کی عزت کی حفاظت میں آواز اُٹھانے والے بھائی کو موت کے گھاٹ اُتار دینا اور عدالت میں وکٹری کا نشان بناتے ہوئے پورے سسٹم کی توہین کرتے ہوئے نکل جانا کراچی میں عام سی بات بن چکی ہے۔
اس شہر میں اگر آپ کے پیچھے کوئی بااثر آدمی موجود ہو تو آپ نشہ آور اشیاء کی بہت بڑی ڈیلر یا بے تاج ملکہ ہی کیوں نہ ہوں پکڑے جانے پر قانون میں آپ کے لیے رعایت نکل آتی ہے۔
اس کے برعکس اگر آپ کراچی کے ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتے ہوں، آپ نے اپنا خون پسینہ بہا کر، محنت کے بل بوتے پر اس شہر میں عزت و شہرت حاصل کی ہو لیکن آپ کا مقام کسی طاقتور فرد یا گروہ کو ناگوار گزر رہا ہو تو وہ آپ کی زندگی کا بیدردی سے خاتمہ کر سکتا ہے اور اس شہر کے محافظ آپ کے قاتل کا تعاقب کرنے کے بجائے انصاف کی تلاش میں سرگرداں آپ کے اہل خانہ کی زندگی ہی اجیرن بنا کر رکھ دیں گے۔
کراچی کی سڑکوں پر گداگروں کا ایک ہجوم پایا جاتا ہے جو شہر میں چلنے والے مختلف سنگین جرائم کے انڈرگراؤنڈ نیٹ ورک کے کارندے بھی ہوتے ہیں۔ یہاں کے ایک بڑے اسپتال میں استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے بچوں میں ایڈز جیسی مہلک بیماری کو پھیلایا جا رہا ہے۔
کراچی میں جنگل کا قانون رائج ہے، شہر اس طرح بالکل نہیں چلائے جاتے جس طرح کراچی کو چلایا جا رہا ہے۔ کراچی بہت تیزی سے گل سڑ رہا ہے اور اس سے اُٹھنے والی بُو پاکستان کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہے۔
اگر اس شہر کے معاملات اسی طرح بگڑتے رہے اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے جلد کوئی لائحہ عمل تشکیل نہیں دیا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب کراچی میں ذی شعور انسان کا رہنا، بسنا ناممکن ہو جائے گا۔