گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے
اخلاقی پستی انسانیت کا زوال، صداقت کی موت، دروغ گوئی، سفاکی اور غیر انسانی رویوں اور جبر و قہر دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن ہے ان حالات میں کوئی مرد قلندر راستی کی بات کرے تو گردن زنی کا حکم لاحق ہو جاتا ہے، کبھی جیل میں قید کیا جاتا ہے ،تو کبھی تختہ دار پر پہنچانے کے احکام صادر ہو جاتے ہیں، اسی لیے اب حق پرستوں نے علامہ کے کلام کا سہارا لیا۔
نہیں منت کش تابِ شنیدن داستاں میری
خاموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری
یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
اٹھائے کچھ ورق لالے نے، کچھ نرگس نے، کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
ایک طرف سیاست ہے تو دوسری طرف ریاست ہے، چال بازی، عیاری اور تعیشات زندگی کے دور کو طول دینے کے لیے نت نئے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کے مکین خون کے آنسو رو رہے ہیں، لہو شاہراہوں اور چوراہوں پر گر رہا ہے، راستے خون آلود ہو گئے ہیں لیکن حکومت کے کارندے انصاف دلانے کے لیے تیار نہیں۔
میر رضا کا بہیمانہ قتل، ننھی عانزل کی اذیت ناک موت اور پھر انھی دنوں نور فاطمہ، آیت نور اور بھی بہت سے معصوم بچوں کو درندوں نے سفاکی کے ساتھ مقتل میں پہنچا دیا۔دھرنے دیے جا رہے ہیںعانزل کے لیے، میر رضا کے لیے، تشدد زدہ لاشوں کے ورثا ہی غم زدہ نہیں ہیں بلکہ پورے کراچی کے رہائشی غم زدہ ہیں۔
خواتین اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے دھرنوں میں پہنچتی ہیں، اپنا مدعا بیان کرتی ہیں کہ آج یہ بچے ہیں، کل ہمارے بچے بھی شکاریوں کا شکار ہو سکتے ہیں، اگر ہمارے سینوں سے دل نکال لیا جائے تو کیا گزرے گی ہم ماؤں پر۔
یہ غم زدہ، روتی، سسکتی، تڑپتی مائیں کس درد سے گزر رہی ہیں، یہ ان کا دل ہی جانتا ہے۔ زندگی موت اللہ کے اختیار میں ہے ورنہ وہ دلی طور پر مر چکی ہیں، بس سانسیں چل رہی ہیں۔ان دھرنوں میں کراچی کا کوئی وزیر، مشیر، سیاستدان پُرسے کے لیے نہیں آیا، کسی نے تسلی کے دو بول نہیں بولے۔
ان دنوں تو حالات و واقعات اس بات کی آگاہی دے رہے ہیں کہ گویا یہ شرم ناک واقعات کسی سازش کا حصہ ہیں کہ توجہ ہٹا دی جائے میر رضا کے قاتل کی طرف سے اور اسے محفوظ اور مضبوط پناہ گاہ مہیا کی جائے۔
اور پھر اچانک انسانیت سوز واقعہ ظہور پذیر ہوتا ہے ایک ساتھ چودہ بچوں کا قتل، وہ نوزائیدہ بچے دنیا میں قدم رکھتے ہی حضرت انسان کی درندگی اور بربریت کا شکار ہو گئے۔ ورنہ تو دنیا میں قدم رکھتے ہی نازک، خوبصورت بچوں کا سواگت کیا جاتا ہے، مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں، عقیقے کی خوشیاں دعوتوں میں بدل جاتی ہیں، ننھی پریوں کے دم سے اجالا اور رحمتیں جلوہ گر ہوتی ہیں لیکن یہ کیا؟
جھلسے ہوئے ابدان، جلی ہوئی لاشیں۔ سب نرسیں اسپتال کا عملہ آگ لگتے ہی اپنی جانوں کو بچانے کے لیے کہاں روپوش ہو گیا؟ اپنی مدد آپ کے تحت دو بچوں کو بچا لیا گیا، وہ بھی ان کے اپنوں نے ورنہ تو پمز اسپتال کا عملہ جلتے اور کوئلہ ہوتے ہوئے بچوں کو چھوڑ کرفرار ہو گیا۔
اب ان کی بھی کیا غلطی، جان سب کو پیاری ہوتی ہے سو انھوں نے زندگی بچائی اور فرائض کا گلا گھونٹ دیا۔انسانیت کی دھجیاں بکھیر دیں اور حیوانیت کو گلے لگا لیا، ایسا کرکے کسی کے بدن پر ایک خراش تک نہ آئی۔ آگ نے ان لوگوں کو چھوا تک نہیں۔
ذرا سوچیں کتنی امیدوں اور مستقل کے سنہرے خوابوں کے ساتھ انھوں نے اسپتال میں قدم رکھا تھا لیکن خواب غفلت کی نذر ہو گئے،ان کی کرچیاں بکھر گئیں۔ اسی دوران پھر ایک واقعہ رونماہوتا ہے یہ سانحہ حیران کن بھی ہے اور مضحکہ خیز بھی۔
یہ کراچی کا ناظم آباد اسپتال ہے جہاں ایک خاتون اپنے خاندان کے ساتھ میٹرنٹی وارڈ میں داخل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر پیدا ہونے والے بچے کی دادی، نانی سے آپریشن کرنے کے لیے اجازت مانگتی ہے چونکہ کچھ پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں۔
تو جناب آپریشن ہوتا ہے لیکن یہ کیا۔۔۔ ننھا شہزادہ یا شہزادی کو جنات لے اڑتے ہیں اور کوہ قاف میں لے جا کر قید کر دیتے ہیں۔ یہ واقعہ جدید ٹیکنالوجی کے دور کا ہے۔ بچہ تو پیدا نہیں ہوتا، اس کی جگہ ہوا کے غبارے نے لے لی اور باہر آ کر سب کو حیران کر دیا۔
پھر کہانی بدلی، بیانات بدلے اور نہ جانے کیا کیا تبدیل ہوا۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ بے چارہ بے قصور خاندان بدنامی اور خبروںسے بچنے کے لیے روپوش ہو گیا ہے۔ حالانکہ ان بے چاروں کی کیا غلطی تھی، بھلاکسے شوق نہیں ہوتا ہے کہ ان کے گھر میں ننھے منے بچوں کی کلکاریوں کی آوازیں گونجیں، وہ ہنسے تو کائنات ہنسے، مہار رقص کرے،ہوائیں گیت گائیں، لیکن کبھی کبھی انہونی بھی ہو جاتی ہے، جب پورے ملک میں کرپشن کا جال بچھا ہو، تو امیدوں اور خوشیوں کے جھولے میں جھولنے والی مائیں کیسے کرپشن اور بدعنوانی سے محفوظ رہ سکتی ہیں؟
ایک ہمارا ملک ہے جہاں انسان کی قدر نہیں، بچوں کی حفاظت نہیں اور انسانیت کو تحفظ نہیں اور ایک سنگاپور ہے جو بچوں کے لیے ترس رہا ہے۔ بچوں کی پیدائش پر ڈیڑھ کروڑ کا انعام رکھا گیا ہے۔ سنگاپور میں بچوں کی شرح پیدائش میں کمی نے سنگین صورت حال سے دوچار کیا ہے۔
آبادی کم ہونے کے باعث چالیس فی صد افرادی قوت بیرون ملک سے آتی ہے اور ہمارا ملک ہر لحاظ سے زرخیز ہے، قدم قدم پر بچے نظر آئیں گے ،کبھی کوڑے دان میں اپنی قسمت کو روتے ہوئے، کبھی سڑکوں پر بھیک مانگتے، محنت کرتے گھروں، ہوٹلوں میں ننھے ننھے ہاتھوں سے برتن مانجھتے ، بدلے میں جھوٹن، گالم گلوچ، بے شمار بے سہارا اور یتیم بچے فلاحی اداروں یا پھر جیلوں میں معمولی جرم کی وجہ سے قید ہیں، ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔
اصول و ضوابط اور قوانین تو مدت ہوئی جب رخصت ہو گئے تھے اب تو بس پیسے کی قدر ہے۔ جیسے اور جہاں سے مل جائے کوئی پوچھنے والا نہیں، اگر کوئی پوچھے گا بھی تو رشوت کے طور پر پیسہ ہی کام آئے گا، کوئی دوسرا نہیں ،تو لہٰذا دولت کے حصول کے لیے قاتل کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا اور مقتول کے ورثا انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹتے نہیں تھکتے، لیکن فائدہ پھر بھی نہیں۔
اگر ہم دور جہالت، طلوع اسلام سے قبل کا جائزہ لیں تو ایسے واقعات تو اس وقت بھی رونما نہیں ہوئے تھے۔ سود، شراب نوشی،بیٹیوں کا زندہ قتل اور کفر۔ یہاں ایمان تو ہے لیکن ایمان فروشی ہے۔ اقبال نے اسی زمانے کے لیے تو کہا تھا۔
گزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہاں میخانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگا