نیپال کا نوحہ

ہم نے قدرت کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور یہی ہماری بنیادی غلطی ہے

نیپال میں آنے والی حالیہ تباہی کی تصویریں دیکھتے ہوئے یہ خیال بار بار آیا کہ جن چیزوں کا ہمیں خیال رکھنا چاہیے تھا وہ ہم نے نظر انداز کیں اور انھیں ہم نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ہم نے سمجھا کہ دریا ہمارے بنائے ہوئے نقشوں کے مطابق بہیں گے، پہاڑ ہماری سڑکوں کے لیے جگہ بناتے رہیں گے، برف ہماری مرضی کے موسم میں پگھلے گی اور زمین ہماری صنعتوں کا دھواں خاموشی سے سہتی رہے گی مگر زمین خاموش نہیں رہی۔ وہ صرف بولنے کے لیے اپنے وقت کا انتظار کر رہی تھی۔

نیپال میں گلیشیئر اور چٹان کے انہدام کے بعد آنے والے سیلاب نے بستیاں اجاڑ دیں، راستے مٹا دیے، پل بہا دیے اور زندگی کے ان سہاروں کو ایک لمحے میں ختم کردیا جنھیں انسان اپنی دائمی ملکیت سمجھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے حادثات کا تعلق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے ہے۔ یہاں سے اصل سوال شروع ہوتا ہے۔

اگر دنیا میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے تو یہ کون کر رہا ہے اور اس گرمی کی قیمت کون ادا کر رہا ہے۔ یہ سوال نیپال کے کسی دورافتادہ گاؤں کے ایک بے گھر شخص سے پوچھیے۔ اس سے پوچھیے کہ اس نے کتنے کارخانے لگائے تھے ،کتنی گاڑیاں بنائی تھیں، کتنے بیرل تیل نکالے تھے، کتنی کوئلے کی کانیں چلائی تھیں، کتنے ارب ڈالر کا منافع کمایا تھا ،اس کے پاس شاید ان سوالوں کا کوئی جواب نہ ہو مگر اس کے پاس ایک سوال ضرور ہوگا کہ اس کا گھر کیوں نہیں رہا۔

یہ ہمارے عہد کا سب سے بڑا تضاد ہے۔

جن لوگوں کا حصہ عالمی آلودگی پیدا کرنے میں سب سے کم ہے، اکثر وہی لوگ موسمیاتی تبدیلی کی قیمت سب سے پہلے ادا کرتے ہیں۔ ہمالیہ کے گلیشیئر پگھلتے ہیں تو نیپال، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے دریا متاثر ہوتے ہیں۔

سمندر بلند ہوتا ہے تو ساحلی بستیاں خطرے میں آتی ہیں۔ درجہ حرارت بڑھتا ہے تو غریب کسان کی فصل برباد ہو جاتی ہے۔ طوفان آتا ہے تو کمزور چھت والا گھر پہلے اڑتا ہے اور دنیا کے امیر حصے میں کسی بورڈ روم میں شاید اسی وقت ایک اور سہ ماہی کے منافع کا حساب لگایا جا رہا ہوتا ہے۔

یہ الزام کسی ایک کمپنی یا کسی ایک ملک پر نہیں۔ مسئلہ اس پورے معاشی نظام کا ہے جس نے ترقی کا مطلب زیادہ پیداوار، زیادہ کھپت اور زیادہ توانائی بنا دیا، مگر یہ سوال بہت کم پوچھا کہ اس ترقی کے بعد زمین کا کیا ہوگا۔

اربوں ڈالر مالیت کی کارپوریشنز صرف کاروباری ادارے نہیں رہے۔ ان کے فیصلے اب موسم، پانی، جنگلات، سمندروں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل تک پہنچتے ہیں۔ جب منافع نجی ہو اور ماحولیاتی نقصان اجتماعی تو انصاف کا ترازو لازماً ایک طرف جھک جاتا ہے۔

کبھی کسی درخت کی قیمت اس کی لکڑی سے لگائی جاتی ہے، کبھی کسی دریا کی قیمت اس میں بننے والے بجلی گھر سے، کبھی کسی پہاڑ کی قیمت اس میں موجود معدنیات سے، مگر درخت کا سایہ کس حساب میں ہے۔

دریا کا زندہ رہنا کس کھاتے میں ہے؟ اور ایک گلیشیئر جو ہزاروں برس سے خاموشی کے ساتھ کروڑوں انسانوں کے پانی کا ذخیرہ بنا ہوا ہے، اس کی قیمت کون مقرر کرے گا؟ ہم نے قدرت کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور یہی ہماری بنیادی غلطی ہے۔

ماحولیاتی بحران اب مستقبل کی کہانی نہیں رہا۔ مستقبل ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے رہا، وہ ہمارے گھروں میں داخل ہوچکا ہے۔ کبھی سیلاب بن کر، کبھی خشک سالی بن کر، کبھی غیرمعمولی گرمی بن کر، کبھی جنگل کی آگ اور کبھی پگھلتے ہوئے گلیشیئر کی صورت میں۔

نیپال کا پہاڑ ہمیں اسی لیے ڈراتا ہے کہ وہ ہمیں آنے والے کل کی ایک جھلک دکھاتا ہے اور اس جھلک میں صرف نیپال نہیں ہے۔اس میں ہم سب بھی شامل ہیں۔ اس لیے اب ترقی یافتہ دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ موسمیاتی بحران کو صرف امدادی پیکیجوں اور کانفرنسوں کی شکل میں دیکھے گی یا اسے ذمے داری سمجھ کر قبول کرے گی۔

جن ممالک نے صنعتی ترقی کے طویل سفر میں سب سے زیادہ کاربن خارج کیا، انھیں اب سب سے زیادہ ذمے داری بھی اٹھانی ہوگی۔ صاف توانائی کی طرف، تیز منتقلی فوسل فیول پر انحصار میں کمی، موسمیاتی مالی معاونت، جدید پیشگی انتباہی نظام، گلیشیئرز کی نگرانی اور کمزور ملکوں کے لیے تباہی کے بعد نہیں بلکہ تباہی سے پہلے مدد یہ سب اب انتخاب نہیں، ضرورت ہیں اور یہ کام خیرات کے نام پر نہیں ہونا چاہیے، یہ انصاف کے نام پر ہونا چاہیے کیونکہ اگر ایک ملک نے برسوں تک زمین کے وسائل استعمال کرکے اپنی دولت بنائی اور دوسرا ملک اسی بدلتی ہوئی زمین کے نتائج بھگت رہا ہے تو اسے یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ قدرتی آفت تھی، قدرتی آفت کبھی صرف قدرتی نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے ہماری منصوبہ بندی، ہماری معیشت، ہماری سیاست اور ہماری ترجیحات بھی کھڑی ہوتی ہیں۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ماحول کی حفاظت کا مطلب ترقی روک دینا نہیں۔ اصل ترقی وہ ہے جو انسان کو بہتر زندگی دے اور اس زندگی کی بنیاد کو تباہ نہ کرے۔ ایسی معیشت جو دریا کو زہر دے کر دولت پیدا کرے، جنگل کاٹ کر روزگار پیدا کرے اور فضا کو گرم کرکے خوش حالی کا دعویٰ کرے، وہ ترقی نہیں، آنے والی نسلوں سے قرض لے کر موجودہ نسل کی عیاشی ہے، یہ قرض اب واپس مانگا جا رہا ہے۔ نیپال کے پہاڑ شاید اسی قرض کی جھلک دکھا رہے ہیں۔

ہم چاہیں تو اسے ایک افسوس ناک خبر سمجھ کر اخبار کے اگلے صفحے پر رکھ سکتے ہیں۔ چند دن بعد نئی خبر آئے گی، نئی تصویریں ہوں گی، نئے اعداد وشمار ہوں گے اور ہم سب اپنی معمول کی زندگی میں واپس چلے جائیں گے لیکن پہاڑ اپنی معمول کی زندگی میں واپس نہیں جائیں گے۔ جو گلیشیئر پیچھے ہٹ گیا وہ صرف ایک خبر نہیں۔

جو دریا اپنا راستہ بدل گیا وہ صرف ایک منظر نہیں۔ جو خاندان اپنا گھر کھو بیٹھا وہ صرف ایک عدد نہیں اور جو بچہ آج موسمیاتی تباہی کے سائے میں پیدا ہوا ہے، وہ ہمارے کیے ہوئے فیصلوں کا وارث ہے۔

ہم نے زمین اپنے بزرگوں سے ورثے میں نہیں لی تھی۔ ہم نے اسے اپنی اولاد سے ادھار لیا تھا۔ اب وقت ہے کہ ہم یہ قرض ادا کریں ورنہ آنے والی نسلیں شاید ہمیں ترقی یافتہ نہیں، صرف تباہی کا سبب بننے والی نسل کہیں گی۔

Load Next Story