پمز اسپتال کا سانحہ

اس وقت سوشل میڈیا میں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال پر تنقید جاری ہے

حادثات وواقعات دنیا بھر میں ہوتے رہتے ہیں مگر بعض حادثات ایسے ہوتے ہیں جو لواحقین کو ہی نہیں، عام لوگوں کو بھی غمگین کر جاتے ہیں۔ پاکستان میں ویسے تو جان لیوا اور مالی نقصانات پہنچانے والے حادثات ہوتے ہی رہتے ہیں مگر ان میں 1985 میں بوہری بازار صدر میں رونما ہونے والا آتشزدگی کا سانحہ کبھی بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔

پھر2012ء میں بلدیہ ٹاؤن کی ایک فیکٹری میں خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس میں 259 سے 289 مزدور جاں بحق ہوگئے تھے۔ گل پلازہ میں آتشزدگی کا سانحہ بھی ناقابل فراموش ہے جس میں درجنوں لوگ شہید ہوگئے تھے، اس کی انکوائری رپورٹ چند روز بیشتر جاری کی گئی ہے۔

اب اسلام آباد کے پمز اسپتال میں آتشزدگی کا سانحہ ہے جو چودہ بچوں کی ہلاکت کا سبب بنا ہے۔ یہ اسپتال 1985میں قائم ہوا۔ یہ ابتدا میں بہترین علاج اور اعلیٰ انتظام کے لیے کافی شہرت رکھتا تھا مگر بعد میں یہ عام سرکاری اسپتالوں جیسا ہوگیا۔

آخر 26 اگست کی صبح پونے سات بجے ایسا کیا ہوا کہ پوری نرسری کالے دھوئیں کی لپیٹ میں آگئی۔ کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا پھر بھی ایک نرس نے ہمت کرکے ایک بچے کو بچالیا ورنہ مرنے والے بچوں کی تعداد 15ہوتی۔

جس بچے کو بچالیا گیا اس کے ماں باپ کی خوشی کا کیا حال ہوگا مگر جن کے لخت جگر نہ رہے ان کے غموں کا کیا کوئی اندازہ کرسکتا ہے۔ یہ اندوہناک سانحہ رونما تو ہوچکا مگر اب سوال انتظامی معاملے کا ہے کہ وہ کیوں اس حد تک خراب ہوچکا ہے کہ نرسری جیسی حساس جگہ کو بھی نہ سنبھالا جاسکا۔

حکومت نے آتشزدگی میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کو پچاس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اس سے ماں باپ کے غم کا مداوا نہیں ہوسکتا ہے۔ ہرگز نہیں، یہ ایسا غم ہے جسے ان کی مائیں تو کبھی بھی نہیں بھلا سکیں گی ۔

میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ایک بھاری رقم اسپتال کے بہتر انتظام کے لیے صرف کرے تاکہ آگے پھر کسی ماں کا لخت جگر ایسی بدنظمی اور بدتر حالات کا شکار نہ ہوسکے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ذمے داریوں کو حق وانصاف کے ساتھ ادا کرنے کا فقدان ہے۔

کم سے کم اسپتالوں جیسی حساس جگہوں پر نیچے سے اوپر تک تمام اہلکاروں اور ذمے داروں کو اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کسی بھی قسم کی غفلت اور کوتاہی جانوں کے زیاں کا سبب بن سکتی ہے۔ اس حادثے کی وجہ بننے والے کچھ سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ یہ ایک اچھی مثال ہے مگر انکوائری میں ان کا کوئی قصور ثابت نہ ہو تو پھر انھیں لازمی طور پر بحال کردیا جائے۔

اس وقت سوشل میڈیا میں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال پر تنقید جاری ہے اور انھیں ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکومت کو مشورہ دیا جارہا ہے۔ کچھ لوگ انھیں رضاکارانہ طور پر مستعفیٰ ہونے کے لیے زور لگا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے ان مطالبات کے جواب میں کہا ہے کہ انھوں نے اپنے احتساب کے لیے خود کو پہلے ہی وزیراعظم کے سامنے پیش کردیا ہے مگر وزیراعظم نے ان سے کہا ہے کہ سانحے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی کچھ فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

ایک خبر یہ بھی ہے کہ انھوں نے وزیراعظم کو پہلے ہی دن اپنا استعفٰی پیش کردیا تھا مگر وزیراعظم نے اسے قبول نہیں کیا ہے۔ ایسی صورت میں سوشل میڈیا پر ان کے متعلق اتنا واویلا کیوں مچایا جارہا ہے، لگتا ہے اس واویلے کے کچھ سیاسی محرکات بھی ہیں، یہ تو کسی طرح بھی غلط نہیں کہ کچھ لوگ انھیں بحیثیت وزیر صحت ہی نہیں، کسی بھی وزارت میں دیکھنا نہیں چاہتے۔

شاید اس لیے بھی کہ وہ اپنے اصولوں اور نظریات پر سختی سے قائم رہنے والے انسان ہیں۔ وہ سندھ کی وحدت کے قائل ہیں۔ انھوں نے سندھ کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کی بلکہ وہ تو ایک مختلف مگر سب کو پسند آنے والا فارمولا پیش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے اور دراصل یہی ایم کیو ایم کا موقف بھی ہے کہ سندھ میں بدانتظامی کو روکنے کے لیے انتظامی یونٹس ترتیب دیے جائیں، یہ ایسا فارمولا ہے جس سے سندھ کی وحدت بھی متاثر نہیں ہوگی اور اس وقت جو پورے صوبے میں بدانتظامی کے حالات چل رہے ہیں وہ بھی بہتر سے بہتر ہوسکتے ہیں۔

اس سے عوامی شکایات دور ہوں گی اور ہر طرف امن، خوشحالی اور ترقی نظر آئے گی۔ پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنما کا بھی یہی کہنا ہے کہ انتظامی یونٹس ، اضلاع اور ڈویژن ہوتے ہیں، اگر ایسے انتظامی یونٹس حالات کو درست کرسکتے ہیں تو پھر اس پر کسی کو کوئی سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کا بھی یہی تو موقف ہے اور وہ اس ضمن میں متحرک بھی ہے۔

کاش کہ پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی حالات وواقعات کو سمجھیں اور ایم کیو ایم کے بارے میں صوبے سے متعلق غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ ایم کیو ایم اب پرانے زمانے والی ایم کیو ایم نہیں ہے، وہ حالات کو بدنظمی کی طرف لے جانا نہیں چاہتی ، ایم کیو ایم کے لیڈر تمام کے ساتھ مل کر نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کو ترقی، خوشحالی اور امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں۔

جہاں تک مصطفی کمال کا تعلق ہے، ان کے دوست احباب ہی نہیں بلکہ ان کی جان پہچان کے لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ وہ ایک خوددار انسان ہیں۔ کسی سے بداخلاقی یا بدعہدی کے مرتکب نہیں پائے گئے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر کوئی عوامی لیڈر بداخلاق ہو تو عام لوگ کیسے اس سے جڑسکتے ہیں۔

پھر وہ ایک عام آدمی سے عوامی ووٹ کے ذریعے اسمبلی تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔ کراچی کا میئر بن کر انھوں نے تمام شہریوں کے دل جیت لیے تھے۔ ان کے دور میں کراچی میں اتنے ترقیاتی کام انجام پائے تھے کہ غیرملکی اخباروں نے بھی ان کی کارکردگی کی تعریف کی تھی بلکہ دور کیوں جائیے۔

خود پاکستان میں ان کے کام سے عوام اتنے خوش تھے کہ لاہور کی اس وقت جو حالت زار تھی اسے سدھارنے کے لیے مصطفی کمال کو وہاں کا میئر بنانے کے لیے خود لاہور والوں نے حکومت کو مشورہ دیا تھا۔ وزارت صحت کا شعبہ سنبھالنا یقینا مصطفی کمال کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا مگر انھوں نے اسے بخیر وخوبی چلایا ہے۔

اب جو پمز اسپتال کا سانحہ پیش آیا ہے، یہ سراسر انتظامی غفلت کا شاخسانہ ہے مگر اس میں وفاقی وزیر کا تعلق نہیں بنتا۔ جو وہاں اسٹاف اور اعلیٰ اسٹاف مقرر تھے، یہ ان کا کام تھا کہ جب پہلے سے کچھ خرابیاں بتائی جارہی تھیں تو ان کا کیوں ازالہ نہیں کیا گیا اور یہ خبر وزیر صحت تک کیوں نہیں پہنچائی گئی ورنہ وہ تو اپنی طبیعت کے مطابق اسے ایک پل بھی برداشت نہیں کرتے پھر نہ صرف معاملات ٹھیک ہو جاتے بلکہ یہ چودہ قیمتی جانوں کا نقصان بھی نہ ہوپاتا۔

Load Next Story