آئین، فیڈریشن کا تاریخی تسلسل
ہمیں ایک تحریری آئین کے ذریعے بنیادی حقوق تہذیبی دنیا سے ملتے ہیں۔سترہویں صدی میں کلیسا کے سیاسی و معاشی اقتدار کے خلاف انقلاب برپا ہوا، جس نے سیکولرازم اور سیکولر روایات کی بنیاد ڈالی اور انھیں روایات نے بنیادی حقوق اور ان کی اہمیت کو جنم دیا۔
بنیادی حقوق کو فروغ دینے کے لیے دنیا کی مہذب اقوام نے آپس میں تعاون بڑھایا۔ ہٹلر کو شکست دی، آپس میں تعلقات کو بہتربنایا، مضبوط بلاک بنایا،معاشی تعاون سے لے کر دفاعی تعاون کے لیے بہت سے معاہدے کیے گئے۔یور پی یونین، نیٹو، ویزا پالیسی ، آزاد تجارت کی ترجیحات کو فروغ دیا گیا۔
یہ عمل ایک لحاظ سے فیڈریشن کے تصور کو اجاگر کرتا ہے اور اس طرح یورپی یونین وجود میں آئی جس میں جرمنی، فرانس، برطانیہ وغیرہ نے اپنے کچھ خود مختار اختیارات یورپین یونین کے حوالے کیے، جس کا ہیڈ کوارٹر برسلز ہے۔
یورپی یونین کا خیال ، قدیم رومن امپائر سے جنم لیتا ہے۔رومن امپائر ایک کلاسک مثال ہے، فیڈریشن کی۔تمام یورپی ممالک پہلے رومن امپائر کا حصہ تھے اور رومن امپائر سوائے بنیادی حقوق کے باقی تمام پہلوئوں سے ایک فیڈریشن تھا۔
ہندوستان بھی کلاسک فیڈریشن کی ایک مثال ہے اور اس فیڈریشن کو انگریزوں نے (Government of India Act 1935) میں بحال کیا، یو ں کہیے کہ اس کی تاریخی شکل انیس بیس کے فرق سے نظر آئی اور پہلی بار یہ تحریری انداز میں سامنے آیا۔ (All India Federation) ہندوستان کا پہلا تحریری آئین تھا اور اسی کے وجود سے ہندوستان اور پاکستان بنے۔
یہ ایکٹ ہندوستان میں 1950 تک نافذ العمل رہا جب تک کہ ہندوستان کو ایک نیا تحریری آئین دیا گیا اور پاکستان میں یہ ایکٹ 1973 تک رہا،کیونکہ ہم نے چھبیس سال تک اس ملک کو کوئی تحریری آئین نہ دیا۔یہ صحیح ہے کہ GI Act, 1935 ہندوستان کا پہلا تحریری آئین تھا مگر وہ آئین کے بنیادی خدوخال سے محروم تھا اور اہم بات یہ تھی کہ یہ ایکٹ Consenus Document نہیں تھا۔
ہندوستان کی سرحدوں پر موجودریاستوں کی حکومت یہاں کی شرفاء تھی اور باقی حکومت سینٹرل کے پاس تھی جیسا کہ خارجی تعلقات، دفاع اور کسی حد تک کرنسی بھی،اس خطے میں کنفیڈریشن تھی۔
پھریہاں کی شرفاء کی قیادت پر منحصر تھا کہ وہ بادشاہ کو مانیں یا نہ مانیں۔ بیرونی خطرات کے تناظر میںوہ بادشاہ جو دہلی کے تخت پر بیٹھتے تھے ،وہ ان کا کہنا مانتے ہیں کہ نہیں۔مغلوں کے ادوار یعنی پندرہویں صدی میں میں یہاں کنفیڈریشن نہیں تھی یہاںQuasi Confideration رہی یعنی سرحد پنجاب ، سندھ، اب مرکز کی طرف تاریخی اعتبار سے مزید جڑے رہے لیکن فیڈریشن کا حصہ نہیں تھے۔
مغلوں نے ہندوستان کو پندرہ صوبوں میں تقسیم کیا۔پنجاب، سندھ، ملتان، گجرات کے صوبوں میں صوبیداری نافذ تھی اور وہاں صوبیدار مقرر تھے،یہ صوبے فوجی اعتبار سے اہم تھے۔
مغلو ں کی مرکزیت یعنیCore کے اندر جو صوبے آتے تھے ،اس میں یوپی، بہار، گجرات آتے تھے اور جو فرنٹیئر کے صوبے تھے ان میں کابل، قندھار اور لاہور وغیرہ آتے تھے۔مغلوں کا ایمپائر وحدانی طرز حکومت ضرور تھا مگر ان کا زاویہ فیڈرل تھا،یعنی مرکز مضبوط تھالیکن ان کی حکومت لوکل حکمرانوں کی معرفت سے مضبوط تھی۔
اس کے بعد پہلی مرتبہ GI Act, 1935 کے تحت دیارکی نظام تھا، ایک ہی ریاست کے اندر دہری حکومت کا خاتمہ ہوا۔پھر یہاں منتخب حکومتوں کا آغاز ہوا۔پہلی مرتبہ پنجاب، سندھ، NWFP ، اور بنگال و یوپی وغیرہ میں منتخب حکومتیں آئیں۔
ہمارا 1973 آئین بھی اسی تاریخی تناظر میں ہے۔یہ آئین ان ہی صوبوں کے تناظر میں ہے جو ہندوستان کا core حصہ نہیں رہے،جو صوبے سرحدوں پر تھے ان میں فیڈریشن یا مرکزیت ضرور رہی مگر فیڈریشن کے خدوخال رکھتے تھے جیسا کہ سندھ، پنجاب اور سرحد وغیرہ میں کنفیڈریشن رہی یا پھر اگر مرکزیت لاگو کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ چل نہ سکے،کیونکہ یہ صوبے آزاد ہو جاتے تھے جب مرکز کمزور ہو جاتا تھا۔
1950 ہندوستان کا آئین اس تاریخی تسلسل کو سمیٹتے ہوئے سینٹرلائزڈ فیڈریشن کا تصور دیتا ہے اور پاکستان کے 1973 کے آئین کا آرٹیکل 239(4) رضامندی پر مبنی فیڈریشن کا تصور دیتا ہے۔ مسئلہ کہاں ہے؟ مسئلہ ہے اس کے تسلسل کا جو میں نے پہلے بھی عرض کیا،جو ہندوستان کو نصیب ہوا۔
ایک مضبوط پارٹی یعنی کانگریس، لہٰذا وہاں فوراً تحریری آئین بنا جس کوپائلٹ کیاڈاکٹر امبیڈ کر جیسے لوگوں نے۔گو کہ وہاں چودہ صوبے تھے اور اب اٹھائیس ریاستیں اور آٹھ یونین ٹیریٹریز ہیں لیکن ہندوستان بحیثیت ایک فیڈریشن ہزاروں سال پرانا ہے، وہاں آج تک جمہوریت جاری و رائج ہے۔
وہاں کسی آمر نے اقتدار پر قبضہ نہیں کیا۔ جیسا کہ پاکستان میں ہوا، نہ ہی انھوں نے کبھی اپنی سرزمین کو امریکی مفادات کے لیے استعمال ہونے دیا۔ ہماری سرزمین کی جغرافیائی اہمیت جو مغلوں کے ادوار میں بھی تھی اور ہمیشہ رہی، سرد جنگ کے زمانے میںاہمیت کی حامل ہو گئی۔
بیرونی طاقتوں نے اس کو ویسے ہی استعمال کیا جس طرح سے انگریزوں نے کیا، یہاں کے لوگوں کو اپنا سپاہی بنایا،یہاں فوجی اڈے اور ہیڈ کوارٹرز بنائے کیونکہ انگریز حکومت کو کابل اور سینٹرل ایشیا کے راستے روس سامراج سے خطرہ تھا۔
ایک بار پھر بغیر باہمی رضا مندی کے فیصلے کرنے کا رواج زور پکڑ رہا ہے کہ Article 239(4) کی فیڈریشن کو ماورائے آئین تحلیل کیا جائے۔ہزار ہ سال پرانی تہذیب ، تاریخ و تسلسل کو فیڈریشن کو وفاق جس کی عمر اسی سال بھی نہیں وہ مرکز کے فیڈریشن کا لبادہ اتار کے، آئین کے قدغن سے آزاد ہو کر ان وفاقی وحدتوں کو ختم کرے گا اور خصوصی طور پر سندھ کو ۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ کام صرف سندھ تک ہی محدود ہے۔
ہماری اور امریکی فیڈریشن کے بہت سے خدوخال مماثلت رکھتے ہیں۔اٹھارہویں صدی میں امریکا کو تحریری آئین ملا۔جن ریاستوں نے وہاں مل کر فیڈریشن بنا یاان میں اکثریت بیرونی لوگوں کی تھی جو یورپ سے آکر آباد ہوئے تھے۔
پندرہویں صدی میں وہاں برطانیہ کے راج کا خاتمہ ہوا،مگر برطانیہ کا قانون وہاں متعارف ہوا۔ہمارے آرٹیکل 239(4) کی طرح امریکا بھی فیڈریشن ہے، جہاں اب تک ایک بھی ریاست کی سرحد کو تبدیل نہیں کیا گیا جوکہ ایک کروڑ کی آبادی کا ملک تھا اور پینتیس کروڑ کی آبادی کا ملک بن چکا ہے مگر آج تک وہ عمرانی معاہدہ اس صورت میں موجود ہے اور اسی انداز میں قائم ہے،گو کہ اس کے اندر درجنوں ترامیم کی گئیں اور وہ ترامیم انسان حقوق سے ملحق کی گئیں۔
پاکستان کے آئین میں انسانی حقوق موجود ضرور ہیں مگر دن بہ دن ان حقوق کا اسٹرکچر کمزور ہو رہا ہے۔آئین میں ستائیسویں ترمیم کے بعد ، بہت کچھ بدل چکا ہے۔ نئے صوبوں کے حوالے سے شور منجھے ہوئے سیاستدانوں میں کم، پارلیمان میں کم مگر باہر زیادہ ہے، بس اسی بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ1998 کے بعد سے ایک بار پھر، اب پورا سسٹم بیٹھنے لگا ہے۔