شنگھائی تعاون تنظیم اور خطے کا امن

’’ پانی ہمارے خطے کی لائف لائن اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے لہٰذا سیاسی دبائو کے تحت پانی ہتھیانے نہیں دیں گے ۔‘‘

وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس منعقدہ کرغستان میں خطاب کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا کہ’’ پانی ہمارے خطے کی لائف لائن اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے لہٰذا سیاسی دباؤ کے تحت پانی ہتھیانے نہیں دیں گے ۔‘‘ انھوں نے واضح طور پر بھارت کو یہ پیغام دیا کہ سندھ طاس معاہدے پر غیر مشروط عمل درآمد کیا جائے۔

خطے کی تازہ صورت حال اور مالی حالات کے تناظر میں وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے کردارکا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی دنیا کے پس منظر میں رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کی جائیں۔

انھوں نے بالکل درست کہا کہ اقوام متحدہ کا قیام اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے عمل میں لایاگیا تھا کہ مختلف خطوں میں جاری کشیدگی، تنازعات اور جنگوں کا خاتمہ ہوگا اور پائیدار امن کا قیام ممکن ہوسکے گا۔ پاکستان اس عرصے میں اقوام متحدہ کے چارٹر پر مکمل طور پر کاربند رہا لیکن اقوام متحدہ خود عالمی تنازعات کو ختم کرانے میں ناکام رہا جن میں سرفہرست مسئلہ کشمیر اور تنازعہ فلسطین ہے جو آج بھی پاکستان اور بھارت اور عرب اسرائیل کشیدگی اور جنگوں کا سبب بنا ہوا ہے۔ حالیہ اسرائیل امریکا اور ایران جنگ کی بنیادی وجہ تنازعہ فلسطین ہی ہے جس نے مشرق وسطیٰ کے امن کو تہہ و بالا کر رکھا ہے۔

 وزیراعظم نے درست کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایران ، امریکا تنازعہ کا حل اور علاقائی کشیدگی کم کرانے کا واحد راستہ ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امریکا، ایران کے خلاف جنگ بند کرنے میں سنجیدہ نہیں۔ فوجی محاذ پر جنگ میں شکست کے بعد اب ایران کے خلاف معاشی جنگ کا اعلان کردیا ہے، ساتھ ہی ایران کے خلاف آتش و آہن کی بارش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’’اسلام آباد میں معاہدے کا وقت گزر چکا ہے، ایران کو قیمت چکانا ہوگی‘‘ جو ٹرمپ کے مستقبل کے خطرناک عزائم کا اظہار ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی ہے جس کے تحت وہ آیندہ سال ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ثالثی عدالت نے بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کے حق میں جو فیصلہ دیا ہے، اس کے بعد بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے معاملے پر پاکستان اپنے تمام آپشن استعمال کرے گا۔ پاکستان نے واضح طور پر بھارت کو سفارتی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ بھارت معاہدے کی پاسداری کرے اور پاکستان کے ساتھ تعمیری بات چیت شروع کرے ۔

عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے پس منظر میں بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کے حق میں جو فیصلہ دیا ہے وہ عالمی سطح پر پاکستان کے حق میں بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ عالمی امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق سندھ طاس معاہدے پر عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔ عدالتی فیصلے نے دریائے سندھ کے پانی اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے نقطۂ نظر کو تقویت دی ہے جو بھارتی موقف کو بڑا دھچکا ہے ، نئی دہلی کی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے۔ جریدے کے مطابق فیصلے سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال 2025میں پاک بھارت جنگ کے تناظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر ہونے والا دو طرفہ سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا تھا جس کے خلاف پاکستان نے عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ پاکستان سے عبرت ناک شکست کے بعد بھارت نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف پراکسی وار شروع کر رکھی ہے۔

اسی پس منظر میں وزیراعظم نے مذکورہ اجلاس سے خطاب کے دوران واضح طور پرکہا کہ دہشت گردی ایس سی او ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک بالخصوص چین اور روس کو اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے حوالے سے ایک طویل جنگ لڑی ہے اور آج بھی حالت جنگ میں ہے۔ اربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھایا ہے اور ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے۔ خطے کے امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان آج بھی اپنا کردار ادا کررہا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم ممالک چین اور روس کو خطے کے پائیدار امن کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ تنازعۂ کشمیر اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے ضمن میں اقوام متحدہ میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ امید ہے کہ ایس سی او خطے میں امن کے لیے اپنا موثرکردار ادا کرے گی۔

Load Next Story