امریکا نے جنگ شروع کی اور دنیا کو بل تھما دیا، ایران کا امریکا پر شدید وار
تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن نے جنگ شروع کرنے کے بعد اس کے اثرات اور اخراجات کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرانے کی کوشش شروع کردی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے سے قبل آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری تھی، تاہم حملوں کے بعد خطے میں غیر قانونی اور وحشیانہ جنگ شروع ہوئی جس سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور توانائی کی قیمتیں بڑھ گئیں۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکا اب اپنی پیدا کردہ صورتحال کا ’بل‘ پوری دنیا کو پیش کرنے اور اس پر ایران کا نام لکھنے کی کوشش کررہا ہے۔
بقائی کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے ایسی جنگ کو جو امریکا نے شروع کی، ایران کے رویے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی لاگت کے طور پر پیش کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
The Strait of #Hormuz was wide open until 28 February, when the #USrael attacked Iran. Washington unleashed an unlawful and savage war on the region and disrupted the normal flow of commercial shipping; tankers are halted, trade is disrupted, and energy prices are rising.
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) September 6, 2026
The US… pic.twitter.com/ll5oHCQoEv
انہوں نے کہا کہ امریکا نے جنگ شروع کی لیکن اب پوری دنیا سے اس کی قیمت ادا کرنے کی توقع کررہا ہے، جبکہ ایران کو اس افراتفری کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر جنگ کے اثرات نمایاں ہیں۔