ہرمز آپریشن میں شامل ہوئے تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے، ایران کی جنوبی کوریا کو سخت وارننگ

جنوبی کوریا کی توانائی کی درآمدات کا بڑا حصہ اسی اہم سمندری راستے سے وابستہ ہے

تہران: ایران نے جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ اگر سیول نے خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں امریکا کی کارروائیوں میں فوجی شرکت یا اپنی فوجی موجودگی قائم کی تو اسے امریکی جارحیت کی حمایت تصور کیا جائے گا اور اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ جنوبی کوریا کی جانب سے خلیج یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی کارروائی میں شرکت ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست شمولیت تصور ہوگی۔

ایران کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔

سیول حکام کے مطابق مختلف عملی اقدامات پر غور کیا جارہا ہے، تاہم کسی حتمی فوجی تعیناتی کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

آبنائے ہرمز جنوبی کوریا کے لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کی توانائی کی درآمدات کا بڑا حصہ اسی اہم سمندری راستے سے وابستہ ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی سپلائی پر بھی دباؤ بڑھا ہوا ہے۔

Load Next Story