امریکا ایران کی بحری جھڑپوں کے بعد تیل مزید مہنگا، برینٹ 97 ڈالر کے قریب پہنچ گیا

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے برینٹ کی قیمت میں 7.8 فیصد جبکہ ویسٹ ٹیکساس میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا تھا

لندن: آبنائے ہرمز اور دیگر علاقوں میں امریکا اور ایران کی جانب سے بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 52 سینٹ یا 0.54 فیصد اضافے کے بعد 96.80 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 66 سینٹ یا 0.72 فیصد اضافے کے بعد 92.14 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے برینٹ کی قیمت میں 7.8 فیصد جبکہ ویسٹ ٹیکساس میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں کمی نے عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے اور معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی اس راستے سے گزرتی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی جارہی ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں مزید سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان بحری جھڑپیں اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ طویل ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ اور اضافے کا امکان برقرار رہے گا۔

Load Next Story