اگر ایران کے اثاثے نشانہ بنے تو امریکی تیل اور گیس کے اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے، قالیباف
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی تیل اور گیس کے مفادات بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ خطے کے پانیوں اور تنصیبات میں موجود امریکی تیل و گیس کمپنیاں بھی موجودہ صورتحال کے خطرے سے دوچار ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ایران کے اثاثوں پر حملہ کیا گیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ ایران پہلے بھی اپنی جوابی کارروائی کی صلاحیت ثابت کرچکا ہے۔ تاہم انہوں نے ان اڈوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اب قابلِ استعمال نہیں رہے۔
قالیباف کا یہ بیان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے امریکی بحریہ کے جہازوں پر حملے جاری رکھے تو امریکا ایرانی تیل بردار ٹینکروں کو تباہ کرسکتا ہے۔
تازہ بیانات سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی تیل کی سپلائی پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔
It’s simple: the oil and gas production chain here is sprawling, accessible, and exposed. American oil and gas companies across these waters and facilities share that exposure. Strike our assets and you get struck. We’ve already proven it. Ask the bases that are no longer viable. https://t.co/XiHAf6KzqV pic.twitter.com/0wBf40K4D3
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) September 7, 2026
رائٹرز کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی روزانہ آمدورفت تقریباً 10 جہازوں تک گر گئی ہے۔