پارلیمنٹ وقت سے آگے سوچے

قوموں کا مستقبل گھڑی کی سوئیوں سے نہیں بلکہ معیاری تعلیم، منصفانہ مواقع اور دوراندیش فیصلوں سے بنتا ہے

پارلیمنٹ نے حال ہی میں معیاری وقت سے متعلق حوالہ جات کے ترمیمی مسودۂ قانون 2026 کی منظوری دی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے 1943 کے قانون میں موجود ’’اور نصف‘‘ کے الفاظ حذف کرکے پاکستان کے معیاری وقت کو قانونی طور پر عالمی مربوط وقت سے پانچ گھنٹے آگے قرار دیا گیا ہے۔

قومی ایوان زیریں نے یہ مسودہ 11 مئی جبکہ ایوان بالا نے 18 اگست 2026 کو منظور کیا۔ اس قانون سازی کا مقصد قانونی دستاویزات میں درج وقت اور 1951 سے ملک میں رائج معیاری وقت کے درمیان موجود تضاد ختم کرنا ہے۔ اس تبدیلی سے شہریوں کی گھڑیوں، مواصلاتی آلات، دفتری اوقات یا روزمرہ معمولات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ پاکستان پہلے ہی اسی معیاری وقت کی پیروی کررہا ہے۔

قانون میں موجود کسی غلطی یا تضاد کو درست کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔ اس لیے وقت سے متعلق قانون میں ترمیم پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ اصل سوال ہماری قومی اور پارلیمانی ترجیحات کا ہے۔ جو پارلیمنٹ کئی دہائیوں پرانی قانونی خامی دور کرنے کے لیے حرکت میں آسکتی ہے، وہ فرسودہ نصاب، ناقص امتحانی نظام، لاکھوں بچوں کی تعلیمی ناکامی اور نوجوانوں کے محدود مواقع کے بارے میں ایسی ہی فوری اور نتیجہ خیز قانون سازی کیوں نہیں کرتی؟

ہماری گھڑیاں تو پہلے ہی درست وقت بتا رہی تھیں، لیکن کیا ہمارا نصاب، امتحانی نظام، سول سروس کا طریقۂ انتخاب اور نوجوانوں سے متعلق پالیسیاں بھی موجودہ زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں؟

یہ سوال پنجاب کے نویں جماعت کے حالیہ نتائج کے بعد مزید اہم ہوگیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 9 تعلیمی بورڈز میں 13 لاکھ 95 ہزار 475 طلبا نے امتحان دیا، جن میں سے 7 لاکھ 53 ہزار 813 کامیاب نہ ہوسکے۔ اس طرح تقریباً 54 فیصد بچے امتحانی نظام کی مقرر کردہ کامیابی کی لکیر عبور نہیں کرپائے۔ یہ صرف لاکھوں بچوں کی انفرادی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے نصاب، تدریسی طریقوں، اساتذہ کی تربیت، تعلیمی سہولتوں، امتحانی سوالات اور سرکاری پالیسیوں کی اجتماعی ناکامی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا ناکام ہونا کسی معمولی انتظامی مسئلے کے بجائے تعلیمی ہنگامی حالت کی نشاندہی کرتا ہے۔

اگر کسی ایک بچے کا نتیجہ خراب آئے تو اس کی محنت، توجہ یا گھریلو حالات پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے، لیکن جب سات لاکھ سے زیادہ بچے ناکام ہوجائیں تو ذمے داری صرف طلبا پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان، بہاولپور، سرگودھا، ڈی جی خان اور ساہیوال سمیت تمام تعلیمی بورڈز کے نتائج ایک ہی بنیادی مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ہمارا نظام بچوں کو سمجھنے، سیکھنے، سوال اٹھانے اور علم کو عملی زندگی میں استعمال کرنے کے قابل نہیں بنا رہا۔ بچوں کو رٹے، بھاری بستوں، طویل نصاب اور نمبروں کی دوڑ میں ڈال کر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی تعلیمی ذمے داری پوری کرچکے ہیں۔

بدقسمتی سے نتائج سامنے آنے کے بعد چند روز تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے، بیانات جاری ہوتے ہیں، اجلاس بلائے جاتے ہیں اور پھر معاملہ کسی دوسری خبر کے نیچے دب جاتا ہے۔ کوئی مستقل پارلیمانی یا صوبائی کمیٹی یہ جاننے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتی کہ بچے ریاضی، سائنس، انگریزی اور دوسرے مضامین میں کیوں ناکام ہورہے ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ نصاب میں معلومات کا غیر ضروری بوجھ کیوں بڑھ رہا ہے، تدریس کو فہم اور تخلیقی صلاحیت کے بجائے رٹنے تک کیوں محدود کردیا گیا ہے اور امتحانات بچے کی قابلیت جانچنے کے بجائے اس کی یادداشت کا امتحان کیوں بن چکے ہیں۔

دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، روبوٹکس، موسمیاتی تبدیلی، تنقیدی فکر اور عملی مہارتوں کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ ہمارے بہت سے تعلیمی اداروں میں بچے آج بھی فرسودہ مثالوں اور یک طرفہ تدریسی طریقوں سے پڑھ رہے ہیں۔ نصاب کی تبدیلی کا مطلب صرف کتابوں کے سرورق بدلنا یا چند ابواب آگے پیچھے کرنا نہیں۔ حقیقی نصابی اصلاح یہ ہے کہ طلبا کو تحقیق، تنقیدی سوچ، ابلاغ، ڈیجیٹل آگاہی، اخلاقی فیصلہ سازی، مالی شعور اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتیں سکھائی جائیں۔ پارلیمان کو ایسا قانون منظور کرنا چاہیے جس کے تحت ہر پانچ سال بعد نصاب کا غیر سیاسی، شفاف اور شواہد پر مبنی جائزہ لازمی ہو۔

تعلیمی بحران کے ساتھ سی ایس ایس امتحان کی عمر اور مواقع سے متعلق فیصلہ بھی ہماری پالیسی سازی کی محدود سوچ کو نمایاں کرتا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ سی ایس ایس امتحان کے لیے بالائی عمر کی حد 30 سے بڑھا کر 35 سال اور شرکت کے مواقع تین سے بڑھا کر پانچ کردیے جائیں۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان سفارشات کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ایف پی ایس سی کے نافذ قواعد کے مطابق عمومی طور پر عمر کی حد 21 سے 30 سال اور مواقع کی تعداد تین ہے، اگرچہ بعض مخصوص زمروں کے امیدواروں کو قواعد کے تحت عمر میں رعایت حاصل ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا کہ عمر اور مواقع بڑھانے سے امیدواروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے امتحانات کے انعقاد اور جوابی کاپیوں کی جانچ کا انتظامی بوجھ بڑھ جائے گا۔ یہ دلیل بھی دی گئی کہ امیدوار اپنے قیمتی اور پیداواری سال بار بار امتحان دینے میں ضائع کرسکتے ہیں، جبکہ زیادہ عمر میں سول سروس میں شامل ہونے والے افسران کی مؤثر مدتِ ملازمت نسبتاً کم ہوگی۔ یہ دلائل بظاہر انتظامی نوعیت کے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنی انتظامی آسانی کے لیے قابل نوجوانوں کے مواقع محدود کرسکتی ہے؟ اگر امیدواروں کی تعداد بڑھنے سے اداروں پر بوجھ پڑتا ہے تو اداروں کی صلاحیت بڑھائی جانی چاہیے، نوجوانوں کے لیے دروازے بند نہیں کیے جانے چاہییں۔

پاکستان کے تمام نوجوان یکساں معاشی، سماجی اور تعلیمی حالات میں اپنی تعلیم مکمل نہیں کرتے۔ دیہی علاقوں کے طلبا کو معیاری اداروں، انٹرنیٹ، کتابوں اور کیریئر رہنمائی تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے۔ غریب گھرانوں کے نوجوان تعلیم کے ساتھ ملازمت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کئی طلبا کو ایم فل یا دوسری اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے میں اضافی وقت درکار ہوتا ہے۔ خواتین کو گھریلو ذمے داریوں، شادی، بچوں کی نگہداشت اور سماجی پابندیوں کے باعث اپنے تعلیمی و پیشہ ورانہ سفر میں وقفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جنوبی پنجاب، بلوچستان، سابق قبائلی علاقوں، اندرون سندھ، گلگت بلتستان اور دیگر دوردراز خطوں کے امیدواروں کے مواقع بڑے شہری مراکز کے امیدواروں جیسے نہیں ہوتے۔

ایسے حالات میں 30 سال کی سخت حد بظاہر سب کے لیے برابر ہے، لیکن عملی طور پر منصفانہ نہیں۔ مساوات کا مطلب ہر شخص کو ایک ہی لکیر پر کھڑا کرنا نہیں بلکہ ان مختلف حالات کو تسلیم کرنا بھی ہے جن کے تحت لوگ اس لکیر تک پہنچتے ہیں۔ کسی نوجوان کا 31، 32 یا 35 سال کی عمر میں سی ایس ایس کے لیے تیار ہونا اس کی نااہلی کی علامت نہیں۔ ممکن ہے اس نے معاشی مشکلات، خاندانی ذمے داریوں اور کمزور تعلیمی سہولتوں کے باوجود خود کو مقابلے کے قابل بنایا ہو۔ ایسی جدوجہد کو عمر کی پابندی کے ذریعے سزا دینے کے بجائے مناسب موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔

زیادہ عمر میں سول سروس میں آنے والے افسر کی مدتِ ملازمت کم ہونے کا اعتراض بھی مکمل طور پر قائل نہیں کرتا۔ اگر کوئی شخص 35 سال کی عمر میں سرکاری ملازمت میں داخل ہوتا ہے تو اس کے پاس پھر بھی دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ ملک کی خدمت کے لیے موجود ہوسکتا ہے۔ اصل معیار عمر کے چند اضافی سال نہیں بلکہ اہلیت، دیانت، ذہنی پختگی، پیشہ ورانہ تجربہ، فیصلہ سازی اور عوامی خدمت کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والا نسبتاً بڑی عمر کا امیدوار اپنے عملی تجربے کی وجہ سے انتظامیہ کے لیے زیادہ فائدہ مند بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

سی ایس ایس کے نصاب اور امتحانی طریقۂ کار پر بھی نظرثانی ضروری ہے۔ اگر سول سروس کو جدید پاکستان چلانے والے افسران درکار ہیں تو امتحان کو محض معلومات، یادداشت اور تحریری رفتار تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں پالیسی تجزیے، ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، مقامی حکومت، معاشی منصوبہ بندی، اخلاقی فیصلہ سازی اور عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ صرف عمر اور مواقع پر بحث کافی نہیں؛ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ سی ایس ایس امتحان کن صلاحیتوں کی جانچ کررہا ہے اور منتخب امیدواروں کو مستقبل کی پیچیدہ ریاستی ذمہ داریوں کے لیے کس حد تک تیار کرتا ہے۔

نویں جماعت کے نتائج اور سی ایس ایس کی عمر کی حد بظاہر دو مختلف معاملات ہیں، لیکن دونوں کے پیچھے ایک ہی پالیسی رویہ نظر آتا ہے۔ پہلے ہمارا کمزور تعلیمی نظام نوجوانوں کو بروقت معیاری تعلیم، رہنمائی اور مساوی سہولتیں فراہم نہیں کرتا، پھر جب کوئی نوجوان اپنی جدوجہد سے کچھ دیر بعد مقابلے کے قابل بنتا ہے تو عمر کی حد اس کے سامنے دیوار بن جاتی ہے۔ ایک طرف نصاب وقت سے پیچھے ہے اور دوسری طرف نوجوان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ وقت پر منزل تک کیوں نہیں پہنچا۔ ریاست کو پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے نوجوان کو منزل تک پہنچنے کے لیے مناسب راستہ اور وسائل فراہم کیے بھی تھے یا نہیں۔

پارلیمنٹ کو ایک جامع قومی قانون برائے نصابی تجدید، امتحانی اصلاحات اور نوجوانوں کے مساوی مواقع منظور کرنا چاہیے۔ اس قانون کے تحت نصاب کا باقاعدہ جائزہ، اساتذہ کی مسلسل تربیت، امتحانی نتائج کی آزادانہ تحقیق اور سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے درمیان سہولتوں کا فرق کم کرنا لازم ہو۔ سی ایس ایس سمیت تمام مسابقتی امتحانات کی عمر، مواقع، نصاب اور انتخابی طریقۂ کار کا فیصلہ محض انتظامی مفروضوں کے بجائے شفاف اعداد و شمار، تحقیق اور قومی ضرورت کی بنیاد پر کیا جائے۔

وقت کے قانون کی درستی ضروری تھی، مگر اس قانون سازی نے ہمارے سامنے ایک بڑا استعارہ رکھ دیا ہے۔ ہم نے گھڑی کا قانونی وقت تو زمینی حقیقت کے مطابق کردیا، لیکن نصاب، امتحانات، سول سروس اور نوجوانوں کے مواقع کو موجودہ زمانے کے مطابق کرنے کے لیے کب سنجیدہ ہوں گے؟ ہماری گھڑیاں UTC+5 دکھا رہی ہیں، لیکن اگر ہمارا تعلیمی اور انتظامی نظام کئی دہائیاں پیچھے کھڑا ہے تو درست گھڑی بھی ہمیں ترقی کی منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔ قوموں کا مستقبل گھڑی کی سوئیوں سے نہیں بلکہ معیاری تعلیم، منصفانہ مواقع اور دوراندیش فیصلوں سے بنتا ہے۔ اس لیے پارلیمان کو صرف وقت درست نہیں کرنا چاہیے بلکہ وقت سے آگے سوچنا بھی چاہیے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story