عباسی شہید اسپتال میں 10 سال سے ایم آر آئی کی سہولت غیر فعال ہونے کا انکشاف
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے سب سے بڑے طبی مراکز میں شمار ہونے والے عباسی شہید اسپتال میں گزشتہ 10 سال سے ایم آر آئی کی سہولت غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
اسپتال میں نصب ایم آر آئی مشین 2016 میں خراب ہوئی تھی، تاہم ایک دہائی گزرنے کے باوجود مشین کی مرمت یا بحالی ممکن نہیں ہوسکی۔
اسپتال انتظامیہ نے بھی مشین کی طویل عرصے سے خرابی کی تصدیق کردی ہے۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق 2016 میں ایم آر آئی مشین میں خرابی پیدا ہوئی تھی، جس کے بعد مشین کو قابل استعمال بنانے کے لیے مختلف اوقات میں ماہرین اور متعلقہ ٹیموں نے اسپتال کا دورہ کیا۔ متعدد ٹیموں کی جانب سے مشین کا معائنہ بھی کیا گیا، تاہم مسئلہ حل نہیں ہوسکا اور ایم آر آئی کی سہولت مسلسل بند رہی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشین کا معائنہ کرنے والی ٹیموں نے اس کی خرابی اور درکار مرمت کے حوالے سے کے ایم سی کو بھی آگاہ کیا جبکہ اسپتال کی جانب سے بھی اس معاملے پر کئی مرتبہ میئر کراچی کو بھی خطوط لکھے جاچکے ہیں اور اسپتال میں ایم آر آئی کی سہولت بحال کرنے کے لیے توجہ دلائی گئی، تاہم تاحال عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔
مشین طویل عرصے سے آؤٹ آف آرڈر ہونے کے باعث ایم آر آئی وارڈ بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ ایم آر آئی کی سہولت بند ہونے سے اسپتال میں آنے والے ایسے مریض جنہیں فوری یا تفصیلی تشخیص کے لیے ایم آر آئی کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں دیگر سرکاری اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کی مطابق ایم آر آئی ایک اہم تشخیصی سہولت ہے جس کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں میں موجود بیماریوں، رسولیوں، دماغ، ریڑھ کی ہڈی، جوڑوں اور دیگر پیچیدہ طبی مسائل کی تشخیص میں مدد ملتی ہے تاہم عباسی شہید اسپتال میں یہ سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث مریضوں کو جناح اور سول اسپتال سمیت دیگر مراکز میں ریفر کیا جاتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ عباسی شہید اسپتال کراچی کا ایک بڑا سرکاری طبی مرکز ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ ایسے میں ایک بنیادی تشخیصی سہولت کا 10 سال سے بند ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔
شہریوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک سرکاری اسپتال کی اہم مشین 10 سال سے خراب ہے اور متعدد ٹیمیں اس کا معائنہ بھی کرچکی ہیں تو پھر آج تک اس کی مرمت کیوں نہیں ہوسکی؟ 10 سال کا عرصہ کسی بھی مشین کی خرابی دور کرنے کے لیے غیر معمولی طور پر طویل مدت ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ میئر کراچی اور کے ایم سی انتظامیہ فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں، ایم آر آئی مشین کی موجودہ حالت کا تکنیکی جائزہ لیا جائے اور اگر پرانی مشین قابل مرمت نہیں تو نئی ایم آر آئی مشین فراہم کی جائے، تاکہ عباسی شہید اسپتال آنے والے ہزاروں مریضوں کو تشخیصی سہولت کے لیے دیگر اسپتالوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔