ڈیفنس تشدد کیس، ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز توسیع، 3 ملزمان نے ضمانت لے لی

ایف آئی آر میں نامزد ملزم ابراہیم شارٹی نے بھی عبوری ضمانت حاصل کرلی

ڈیفنس کے علاقے فیز 8 میں نوجوان علی جعفری پر مبینہ تشدد کے کیس میں عدالت نے دو گرفتار ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سٹی کورٹ میں نوجوان علی جعفری پر مبینہ تشدد کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں ملزمان ابراہیم ملک اور وقاص کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بر آمد کر لی جبکہ ایک مزید ملزم نے ضمانت کرالی ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ مقدمے میں کتنے ملزمان شامل ہیں، 5 ملزمان ہیں، تین کی ضمانت ہو گئی۔

مدعی کے وکیل طلحہ بلوچ نے کہا کہ نوجوان میر جعفری کو جس بلے سے مارا گیا اور جس پستول سے ہراساں کیا گیا وہ اب تک برآمد نہیں ہوئی جبکہ  ایف آئی آر میں پستول کا ذکر موجود ہے۔

مدعی کے وکیل نے کہا کہ اغوا برائے تعاون کی دفعہ بھی لگنی ہے، اس بچے کی عمر دیکھیں جس کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ملزم کی وکیل قرۃ العین نے عدالت میں کہا کہ یہ بچے ایک دوسرے کے دوست ہیں جس پر مدعی کے وکیل نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ایک دوسرے کے دوست نہیں ہیں۔

وکیل مدعیٰ نے کہا کہ ٹانگوں کے بیچ میں بھی بیٹ مارا گیا جبکہ انہوں نے بتایا کہ ہم نے کیس ایک پیسہ نہیں لیا ہے۔ عدالت نے کمرہ عدالت میں شور شرابے پر ہاؤس ان آرڈر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کورٹ کا ڈیکورم بنایا جائے۔

دوسری جانب ایف آئی آر میں نامزد ملزم ابراہیم شارٹی کی عبوری ضمانت بھی منظور کرلی گئی، عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

ملزم پر نوجوان علی جعفری کو تشدد کرنے کا الزام ہے جبکہ ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ ملزم نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ملکر علی جعفری کو اغوا کیا تھا۔ اغواکے بعد تشدد کا نشانہ بنایا اور ویڈیو بنائی۔

مدعی مقدمہ نے کہا کہ ملزمان کے دو ساتھی ملک ابراہیم اور وقاص پولیس تحویل میں ہیں، ملزم اپنے آپ کو بچر آف توحید کمرشل کہلواتا ہے۔ جس نے بیس بال کے بلے سے تشدد کا نشانہ بنایا اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر بال نوچ کو علی جعفری کو بال زبردستی کھلائے۔

متعلقہ

Load Next Story