رات دیر سے کھانا صحت کے لیے کیوں نقصان دہ ہوسکتا ہے؟

تحقیق کے مطابق نسبتاً جلدی کھانا حیاتیاتی گھڑی کے ساتھ بہتر مطابقت پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے

صحت مند زندگی کے لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں، بلکہ کھانے کا وقت بھی اہمیت رکھتا ہے۔ حالیہ تحقیق نے وزن، خون میں شوگر اور میٹابولزم پر خوراک کے اوقات کے ممکنہ اثرات کی جانب توجہ دلائی ہے، جس کے باعث ماہرین رات کا کھانا نسبتاً جلد کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

عام طور پر وزن بڑھنے کو زیادہ کیلوریز کے استعمال سے جوڑا جاتا ہے، تاہم تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک ہی نوعیت کی غذا مختلف اوقات میں کھانے سے جسم پر اس کے اثرات مختلف ہوسکتے ہیں۔ جرنل آف کلینیکل اینڈوکرائنولوجی اینڈ میٹابولزم میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بھی رات کے کھانے کے وقت، وزن میں اضافے اور خون میں شوگر کی سطح کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

ماہرین کے مطابق جسم ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے تحت کام کرتا ہے، جو ہاضمے اور میٹابولزم سمیت کئی جسمانی افعال کو متاثر کرتی ہے۔ ماضی میں انسان عموماً سورج غروب ہونے کے قریب دن کا آخری کھانا کھا لیتے تھے، جبکہ جدید طرز زندگی میں رات گئے کھانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق نسبتاً جلدی کھانا حیاتیاتی گھڑی کے ساتھ بہتر مطابقت پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

رات کا کھانا جلد کھانے سے ہاضمے اور میٹابولزم کو بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور سونے کے وقت نظامِ ہاضمہ پر اضافی بوجھ کم رہتا ہے۔ بعض تحقیقات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جلدی ڈنر کرنے سے انسولین کی حساسیت بہتر ہوسکتی ہے، یعنی جسم کے خلیے انسولین کے لیے زیادہ مؤثر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ اس کا تعلق خون میں شوگر کو قابو میں رکھنے اور ممکنہ طور پر وزن میں اضافے کے خطرے کو کم کرنے سے جوڑا جاتا ہے۔

کھانے کا وقت نیند کے معیار پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔ سونے کے بالکل قریب بھاری کھانا کھانے کی صورت میں جسم کو خوراک ہضم کرنے کے لیے سرگرم رہنا پڑتا ہے، جس سے جسم کو مکمل آرام کی حالت میں جانے اور نیند آنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ اس کے برعکس، رات کا کھانا پہلے کر لینے سے سونے تک ہاضمے کے لیے مناسب وقت مل جاتا ہے اور پرسکون نیند میں مدد مل سکتی ہے۔

رات کے اوقات میں کاربوہائیڈریٹس اور زیادہ چکنائی والی بھاری غذا کا استعمال بھی صحت کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ بعض تحقیق میں دیر سے کھانے کو قلبی صحت اور میٹابولک مسائل کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جبکہ جلدی کھانے کو دل اور مجموعی میٹابولک صحت کے لیے نسبتاً بہتر قرار دیا گیا ہے۔ جگر بھی خوراک کو پروسیس کرنے اور جسم کے میٹابولک افعال میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے رات گئے مسلسل کھانے سے گریز کو صحت مند معمول کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

ماہرین خاص طور پر عمر رسیدہ افراد، دائمی بیماریوں کا سامنا کرنے والے افراد اور نیند کی خرابی سے متاثرہ لوگوں کو رات کا کھانا جلد کھانے پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے مختلف افعال کی رفتار میں قدرتی کمی آتی ہے، اس لیے کھانے اور سونے کے درمیان مناسب وقفہ ان افراد کے لیے زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔

حیاتیاتی گھڑی انسولین اور کورٹیسول جیسے ہارمونز کے اخراج سے بھی منسلک ہے۔ ماہرین کے مطابق سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے کھانا ختم کر لینا ہاضمے اور نیند کے لیے زیادہ سازگار ہوسکتا ہے۔ مناسب وقفہ جسم کو کھانا ہضم کرنے کے لیے وقت دیتا ہے اور سونے سے پہلے جسم کو سکون کی حالت میں آنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی کا بھی امکان ہے۔

رات کے کھانے کے بعد ہلکی پھلکی چہل قدمی بھی مفید معمول ثابت ہوسکتی ہے۔ تقریباً 20 منٹ کی آرام دہ واک ہاضمے میں مدد دے سکتی ہے اور جسم کو کھانے کے بعد متحرک رکھنے کے بجائے بتدریج پرسکون ہونے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ یوں رات کے کھانے کا مناسب وقت، ہلکی غذا اور مختصر واک مجموعی طور پر بہتر نیند اور صحت مند طرزِ زندگی کے لیے مددگار عادات بن سکتی ہیں۔
 

Load Next Story