وزن کم کرنے والی ادویات دمے کے دوروں میں 40 فی صد تک کمی لا سکتی ہیں: تحقیق
نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے اوزمپک اور ویگووی جیسے انجیکشن دمے کے اچانک اور شدید دوروں میں نمایاں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
برطانوی سائنس دانوں کے مطابق سیمیگلوٹائڈ (جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگنسٹ دوا ہے اور ذیابیطس و وزن کم کرنے کے علاج میں استعمال ہوتی ہے) ممکنہ طور پر دمے کی علامات کے خطرناک حد تک بگڑنے کے واقعات کو کم کر سکتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ کلوئی بلوم کے مطابق جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگنسٹ ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔ سابقہ تحقیقات سے بھی اشارہ ملا ہے کہ ان ادویات میں سوزش کم کرنے کی خصوصیات موجود ہو سکتی ہیں اور یہ پھیپھڑوں سے متعلق نتائج کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
محققین نے برطانیہ کے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز کا جائزہ لیتے ہوئے چار الگ الگ مطالعات کیے۔ ہر تحقیق میں تقریباً 20 ہزار سے 22 ہزار ایسے افراد کو شامل کیا گیا جنہوں نے جی ایل پی-1 علاج شروع کیا تھا یا ذیابیطس کی ایک دوسری دوا سلفونائل یوریا استعمال کر رہے تھے۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ دمے اور سی او پی ڈی جیسی سانس کی بیماریوں میں مبتلا وہ افراد جنہیں جی ایل پی-1 ادویات تجویز کی گئیں، ان میں دمے کے دوروں اور سی او پی ڈی کے اچانک بگڑنے کے واقعات دوسری ذیابیطس کی ادویات استعمال کرنے والے افراد کے مقابلے میں کم دیکھے گئے۔
امپیریل کالج لندن کے نیشنل ہارٹ اینڈ لنگ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ کلوئی بلوم نے بتایا کہ یہ اثر سیمیگلوٹائڈ کے استعمال سے سب سے زیادہ نمایاں تھا، خاص طور پر دمے کے مریضوں میں، جہاں سیمیگلوٹائڈ کا استعمال دمے کے دوروں میں تقریباً 40 فی صد کمی سے منسلک پایا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج جی ایل پی-1 ادویات اور سانس کی بیماریوں کے درمیان ممکنہ تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، ان ادویات کے دمے کے علاج کے طور پر استعمال کی افادیت اور حفاظت جانچنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔