مہنگا ایندھن، معیشت اور عوام
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)
بلاشبہ معاشی اعداد و شمار نے پاکستانی معیشت میں استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے واضح آثار نمایاں کردیے ہیں، ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ اور ٹیکس وصولیوں سمیت اہم اشاریوں میں مثبت پیش رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔ ترسیلات زر بڑھ کر 3.63 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی بیرونی مالی پوزیشن کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بھی 17.08 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں، جس سے بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت میں بہتری کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 38 فیصد کم ہوکر 328 ملین ڈالر رہ گیا، جو بیرونی شعبے میں نسبتاً بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور مضبوط بیرونی پوزیشن کے ذریعے پاکستان پائیدار معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن کسی ملک کی معاشی حالت کا اندازہ بڑے بڑے اقتصادی اشاریوں سے نہیں بلکہ پٹرول پمپ پر کھڑے اس شہری کے چہرے سے لگایا جاسکتا ہے جو ٹینک میں چند لیٹر ایندھن ڈلوانے سے پہلے اپنی جیب ٹٹولتا ہے۔
اس لمحے پٹرول محض ایک مائع ایندھن نہیں رہتا، وہ گھر کے بجٹ، بچوں کی ضروریات، روزگار کے سفر، دکان کے کرائے، سبزی کے تھیلے اور ماہانہ آمدن کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی علامت بن جاتا ہے۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافہ اسی وسیع تر معاشی دباؤ کی ایک نئی کڑی ہے۔ پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے اضافے کے بعد یہ 358 روپے 77 پیسے تک پہنچ گئی ہے، جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 3 روپے 72 پیسے اضافے کے بعد 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ بظاہر یہ اعداد صرف چند روپے کا اضافہ دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اثرات کا دائرہ پٹرول پمپ سے کہیں آگے، پورے معاشی نظام اور بالخصوص کم آمدن والے گھرانوں تک پھیل جاتا ہے۔
پاکستانی معیشت میں پٹرول کی قیمت دراصل ایک ایسا مرکزی نرخ ہے جس کے بدلنے سے متعدد دوسری قیمتوں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ شہری اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی میں ایندھن ڈلواتا ہے تو اسے صرف سفر کی قیمت ادا نہیں کرنا پڑتی، اسی ایندھن کے نرخ میں اضافہ مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، صنعتی سرگرمی اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ سبزی منڈی تک پہنچنے والا ٹرک، فیکٹری سے گودام تک جانے والی گاڑی، دیہی علاقے سے شہر آنے والی پیداوار اور روزانہ کام پر جانے والا مزدور، سب کسی نہ کسی صورت میں پٹرول یا ڈیزل کی قیمت سے بندھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے کے بعد مہنگائی کا اثر صرف پٹرول خریدنے والے پر نہیں پڑتا بلکہ وہ شخص بھی متاثر ہوتا ہے جس کے پاس اپنی سواری تک نہیں۔
یہ صورتحال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا سارا بوجھ آخر عوام ہی کیوں اٹھائیں؟ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی منڈی، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور دیگر عوامل کا کردار اپنی جگہ، لیکن ریاست کے پاس ٹیکسوں اور لیوی کی سطح کو متوازن کرنے کا اختیار بھی موجود ہے۔ جب معیشت پہلے ہی مہنگائی، محدود قوت خرید اور بلند پیداواری لاگت سے نبرد آزما ہو تو محصولات میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہی مالیاتی نظم و ضبط کی واحد صورت نہیں ہوسکتا۔ ریاست کو یہ دیکھنا ہوگا کہ اسے ایک لیٹر پٹرول سے حاصل ہونے والی فوری آمدن زیادہ عزیز ہے یا اس معاشی سرگرمی کا تسلسل جو نسبتاً سستا ایندھن پیدا کرسکتا ہے۔
پٹرولیم لیوی اس بحث کا اہم ترین پہلو ہے، اگر حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں کمی ایک موثر فوری قدم ہوسکتی ہے۔ بلاشبہ حکومتی خزانے کی ضروریات، بجٹ اہداف اور مالیاتی ذمے داریاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ٹیکس وصولی کا ایسا طریقہ جو شہری کی بنیادی ضروریات اور کاروباری سرگرمی کو مسلسل مہنگا کرتا جائے، بالآخر خود معیشت کی رفتار محدود کرسکتا ہے۔ زیادہ قیمتوں کے باعث کھپت کم ہوگی، نقل و حمل مہنگی ہوگی، چھوٹے کاروبار کے اخراجات بڑھیں گے اور پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔ نتیجتاً وہی معیشت جس سے زیادہ محصولات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کمزور ہونے لگے گی۔
2026 کے دوران پٹرولیم قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں اس مسئلے کی شدت کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ دستیاب اعداد کے مطابق سال کے آغاز سے 29 اگست تک پٹرول مجموعی طور پر 88 روپے 85 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل 114 روپے 36 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوچکا تھا۔ اس عرصے میں قیمتوں میں اضافے اور کمی دونوں واقع ہوئے، لیکن صارف کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ نے بجٹ سازی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ عالمی اور داخلی عوامل کے اثرات انتہائی تیزی سے قیمتوں کو تبدیل کرسکتے ہیں۔
پٹرول مہنگا ہوتے ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے، مال برداری کے نرخ اور بعض اشیا کی قیمتیں فوراً بڑھنے لگتی ہیں، مگر جب قیمت کم ہو تو اسی تناسب سے ہر شعبے میں ریلیف نظر نہیں آتا۔ یہ عدم توازن عوام کے احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پٹرولیم قیمتوں کے پورے سلسلے کو شفاف بنایا جائے اور عوام کو یہ واضح طور پر بتایا جائے کہ عالمی قیمت، درآمدی لاگت، ٹیکس، لیوی، ڈیلر مارجن اور دیگر اجزا میں سے ہر ایک کا حتمی نرخ میں کتنا حصہ ہے۔
ڈیلی پرائس میکینزم کا بنیادی مقصد یہی ہونا چاہیے کہ قیمتوں میں تبدیلی ایک واضح، قابل فہم اور منصفانہ فارمولے کے تحت ہو، اگر اس نظام میں شفافیت نہ ہو تو ہر نیا اضافہ عوام کے ذہن میں شکوک پیدا کرتا ہے۔ صارف کو صرف نئی قیمت بتانا کافی نہیں، اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ نئی قیمت تک پہنچنے کا حساب کیا ہے۔ معاشی پالیسی میں اعتماد بھی ایک سرمایہ ہے، اور جب عوام کو یہ محسوس ہو کہ قیمتوں کا تعین ان کی قوت برداشت کو نظر انداز کرکے کیا جارہا ہے تو ریاستی پالیسیوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
ڈیزل کی قیمت کا معاملہ تو مزید حساس ہے، کیونکہ پاکستان کی زرعی اور مال بردار معیشت اس سے براہ راست وابستہ ہے۔ ٹریکٹر، ٹیوب ویل، ٹرک، بسیں اور بھاری مشینری بڑی حد تک ڈیزل پر انحصار کرتی ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے کا مطلب صرف ٹرانسپورٹ کا خرچ بڑھنا نہیں بلکہ کھیت سے منڈی تک پوری سپلائی چین کی لاگت میں اضافہ ہے۔ کسان کے پیداواری اخراجات بڑھیں تو خوراک مہنگی ہوتی ہے؛ خوراک مہنگی ہو تو شہری بجٹ متاثر ہوتا ہے؛ شہری بجٹ متاثر ہو تو اجرت اور قیمت کے درمیان کشمکش پیدا ہوتی ہے۔
یوں ایندھن کی قیمت ایک وسیع معاشی سلسلے کو حرکت دیتی ہے جس کا آخری سرا عام گھرانے کی میز پر جا کر ختم ہوتا ہے۔اس صورتحال میں حکومت کے سامنے چیلنج صرف پٹرول سستا کرنے کا نہیں بلکہ مہنگائی کے پورے ڈھانچے کو سمجھنے کا ہے۔ اگر ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہو تو ضروری ہے کہ اس کے بعد ٹرانسپورٹ، بجلی، گیس اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی بھی ہو۔ ہر تاجر یا ٹرانسپورٹر کے لیے یہ قابل قبول نہیں ہونا چاہیے کہ پٹرول کے چند روپے اضافے کو بنیاد بنا کر اپنی قیمت میں کئی گنا اضافہ کردے۔ اسی طرح سرکاری شعبے کو بھی اپنی لاگت اور ٹیکس پالیسی کا جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ عوام کو ایک طرف ایندھن مہنگا اور دوسری طرف بجلی کے نرخوں میں اضافی بوجھ دینا مجموعی طور پر قوت خرید کو تیزی سے کم کرتا ہے۔
بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید اضافے سے صارفین پر 12 ارب 66 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کی اطلاعات اس وسیع تر مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ایک طرف گھر کا بجٹ پٹرول کی قیمت سے متاثر ہو، دوسری طرف بجلی کے بل میں اضافہ ہوجائے اور پھر گیس، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتیں بھی اوپر چلی جائیں تو محدود آمدن رکھنے والے خاندان کے پاس اخراجات کو متوازن کرنے کے لیے بہت کم راستے بچتے ہیں۔ اس مرحلے پر مہنگائی محض معاشی اصطلاح نہیں رہتی بلکہ انسانی زندگی کے معیار کا سوال بن جاتی ہے۔
آج پٹرول پمپ پر بڑھا ہوا نرخ دراصل ایک بڑے معاشی سوال کی علامت ہے۔ کیا ریاست اپنے شہریوں کی جیب کو مالیاتی خلا پُر کرنے کا آسان ترین ذریعہ سمجھتی رہے گی یا ایسا نظام تشکیل دے گی جس میں محصولات بھی بڑھیں، معیشت بھی چلے اور عوام کی قوت خرید بھی محفوظ رہے؟ اس سوال کا جواب محض ایک نوٹی فکیشن سے نہیں بلکہ پالیسی کی سمت سے ملے گا۔ مہنگائی کا جن صرف قیمتیں منجمد کرکے قابو نہیں آئے گا، مگر اسے مسلسل خوراک دینے سے بھی معیشت مضبوط نہیں ہوسکتی۔ اب وقت ہے کہ پٹرول کے ہر نئے نرخ کو صرف خزانے کی آمدن کے زاویے سے نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی زندگی، کاروبار اور مستقبل کے آئینے میں دیکھا جائے۔ریاست اگر واقعی معاشی استحکام چاہتی ہے تو اسے عوام کو یہ احساس دینا ہوگا کہ بحران کا بوجھ صرف ان کی جیب پر نہیں، حکمرانی کے پورے نظام پر بھی تقسیم ہے۔