پاک ،افغان تعلقات کے نئے امکانات
salmanabidpk@gmail.com
پاکستان افغانستان تعلقات کی بہتری خطے کی بہتری سے جڑا عمل ہے۔ اس کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے ۔لیکن اس کی پہلی شرط بات چیت کے لیے سازگار ماحول کا ہونا ہے۔اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کے تناظر میں ڈپلومیسی کوششیں جاری ہیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے واضع کیا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا امکان اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب افغان حکومت اس یقین دہانی کو ممکن بنائے کہ اس کی سرزمین اول پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہ ہو اور دوسری طرف پاکستان مخالف تحریک طالبان کے خلاف افغان حکومت قانونی کاروائی نہیں کرے گی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کا عمل تنہائی میں ممکن نہیں ، اس وقت بداعتمادی کا ماحول ہے۔اسی لیے میں اسی نقطہ پر بار بار زور دیتا ہوں کہ چین،روس،ترکی،قطر اور سعودی عرب کی ڈپلومیسی کی مدد کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا۔کچھ لوگ یہ منطق دیتے ہیں ان ممالک کی مدد سے پاکستان اور افغانستان ایک میز پر پہلے بھی بیٹھ چکے ہیں،مگر کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔یہ بات بجا کہ مگر یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ڈپلومیسی کی یہ جنگ فوری نتائج نہیں دیتی بلکہ اس میں تواتر کے ساتھ مزاکرات کا عمل درکار ہوتا ہے جو بعد میںمثبت نتائج بھی دیتا ہے،اس عمل میں کسی بھی طور پر فور ی نتائج یا جذباتی ردعمل حالات کو خراب کرنے کا سبب بنتا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے حالیہ دنوں میںچین کی ثالثی کی عملا تعریف کی ہے ۔ پاکستان کا یہ موقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ اگر افغانستان کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت یا پاکستان کے تحفظات پر کوئی بڑا عملی اقدام نہیں ہوگا تو اسلام آباد اپنی حکمت عملی کو ترتیب دینے میں آزاد ہوگا۔اہم بات یہ ہے چین ارومچی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہیے ۔ افغانستان ایک طرف یہ کہتا ہے کہ وہ پاکستان سے بہتر تعلقات کا خواہش مند ہے اور بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔لیکن افغان حکومت سے دو سوال پوچھے جانے چاہیے۔
اول چین،ترکی،قطر،سعودی عرب اور چین میں ہونے والے مذاکرات اور اس کے مشترکہ اعلامیہ پر اس نے کس حد تک عمل کیا۔دوئم ٹی ٹی پی کے حوالے سے انھوں نے اب تک کیا ایکشن لیا اور کیونکر پاکستان کے تحفظات کو نظرانداز کیا ہوا ہے۔کیونکہ اگر واقعی افغانستان نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں آگے بڑھنا ہے تو اس کو اپنے ایکشن اور اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ سنجیدہ ہے اور پاکستان کو اپنا دوست ملک سمجھتا ہے۔ بھارت ، افغانستان تعلقات کے پیچھے پاکستان مخالفت ہے اور جو پراکسی جنگ پاکستان کے خلاف چل رہی ہے اس میں یہ دونوں ممالک شامل ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی ہورہی ہے، اس کے تانے بانے بھارت اور افغانستان سے ہی ملتے ہیں اور افغانستان دہشت گردوں کی سرپرستی میںاپنا کردار ادا کررہا ہے۔
پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر افغان حکومت ہمارے تحفظات اور دہشت گردی سے جڑے مسائل کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کرے تو ہم افغانستان سے ہر سطح پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر فوری طور پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثبت طور پر بریک تھرو نہیں ہوتا اور مفاہمت اور مزاکرات کی میز نہیں سجتی تو بات مزید کشیدگی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔اس لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کو خطہ کے تمام ممالک کو ایک بڑے فریم ورک میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس میںاپنا اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار تلاش کرکے اس پر مشترکہ حکمت عملی کو اختیار کرنا ہوگا۔لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو بگاڑ برقرار رہے گا۔پاکستان اور افغانستان دونوں کو جنگ یا کشیدگی کی پالیسی سے گریز کرنا ہوگا۔
بھارت ہمیشہ یہ کوشش کرے گا دونوں کے درمیان تعلقات میں بہتری پیدا نہ ہو اور اسی بنیاد پر وہ افغانستان کو بنیاد بنا کر پاکستان کو غیر مستحکم کرسکتا ہے۔دوسری طرف پاکستان کو اپنی سفارت کاری میں بہتری پیدا کرنے اور خطہ کے دیگر ممالک پر اپنا دباو بڑھانے کے لیے اسے خود بھی اپنے داخلی حالات میں بھی بہتری پیدا کرنا ہوگی۔کیونکہ یہ اعتراف بھی کیا جانا چاہیے کہ سارے مسائل باہر کے پیدا کردہ نہیں بکہ ان میں سے بیشتر مسائل ہماری داخلی پالیسیوں او ر فیصلوں سے جڑے ہوئے ہیں۔اس لیے ہمیں اپنی داخلی سیکیورٹی پہلووں کی نشاندہی کرنی ہوگی اور اس کو سمجھ کر ایک متبادل پالیسی کو اختیار کرنا ہوگی۔لیکن یہ سب کچھ سیاسی سطح پر باہمی مشاورت سے طے ہونا چاہے۔
جہاں ہمیں افغانستان سے تعلقات کی بہتری کی ضرورت ہے وہیں ہمیںبھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی طرف بھی پیش رفت کو آگے بڑھانا ہوگا۔کیونکہ علاقائی سطح کا بھی استحکام بھارت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا ہوگا۔اس عمل میں پاکستان بھارت کے تناظر میں کئی کوششیں کرچکا ہے لیکن بھارت کی جانب سے سخت گیر رویہ اور مسلسل مزاکرات سے انکاری بھی تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ ہے۔ بھارت اگر پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں پہل نہیں کرے گا تو دونوں ملکوں کی سیاسی اور معاشی یاسیکیورٹی گاڑی کیسے آگے چل سکے گی ۔
اگر بھارت اس کو شش میں رہے گا کہ اس نے ہر صورت میں پاکستان کو غیر مستحکم رکھنا ہے اور اس عمل میں اس نے افغانستان کو بھی پاکستان کی مخالفت میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے تو پھر اس طرز عمل کی بنیاد پر کچھ بہتر نہیں ہوسکے گا۔بڑی طاقتوں کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ان کی ساری ڈپلومیسی کی جنگ خطہ کے ممالک میں عدم استحکام کے مقابلے میں سیاسی،معاشی اور سیکیورٹی استحکام کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر عالمی سفارت کاری کی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔لوگوں کا مسئلہ جنگ اور کشیدگی نہیں بلکہ وہ دنیا اور خطہ کی سیاست میں امن چاہتے ہیں اور اس امن کی بنیاد پر معاشی ترقی ان کا اہم ایجنڈا ہے جو ان کی زندگیوں میں موجود معاشی بدحالی کو کم کرسکے۔