افغانستان میں غیرقانونی طالبان رجیم کیخلاف مسلح عوامی مزاحمت میں شدت

طالبان مخالف مسلح مزاحمت کا پھیلاؤ رجیم کی کمزور گرفت اور بڑھتی عوامی بے چینی کی واضح علامت ہے، ماہرین

افغانستان میں غیرقانونی افغان طالبان رجیم کے خلاف مسلح عوامی مزاحمت میں مزید شدت  آ گئی۔

افغانستان پرقابض افغان طالبان رجیم کو مختلف علاقوں میں عوامی سطح پر شدید مسلح مزاحمت کا سامنا ہے۔ مسلح گروہوں کے حملوں اوراندرونی اختلافات نے طالبان رجیم کے افغانستان پرکنٹرول کے دعوؤں کوبے نقاب کردیا ہے۔

افغان میڈیا آماج نیوز کے مطابق بدخشان میں افغانستان فریڈم فرنٹ اورافغان طالبان کے درمیان جھڑپوں میں4 طالبان اہلکار ہلاک اور7 زخمی ہوئے۔

طالبان مخالف اتحاد نیشنل ریزسٹنس فرنٹ افغانستان کےمطابق  بدخشاں کے ضلع راغ کوہستان میں مزاحمتی کارروائی کے دوران افغان طالبان کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ 6زخمی ہوئے۔

این آر ایف کے مطابق جنگجووں کے حملے میں افغان طالبان کوبھاری مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا جبکہ کارروائیوں میں عام شہری محفوظ رہے ۔ افغان طالبان کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کے لیے ملک بھر میں ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری رہیں گی ۔

ماہرین کا کہناہے کہ بدخشاں،ہرات، تخاراوردیگرافغان صوبوں میں سرگرم مسلح تحریکیں جلد طالبان رجیم کے خاتمے کا باعث بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت کا پھیلاؤ رجیم کی کمزور ہوتی گرفت اور بڑھتی عوامی بے چینی کی واضح علامت ہے۔

Load Next Story