آبنائے ہرمز میں فوج بھیجنے کی مخالفت، جنوبی کوریا میں امریکا کے خلاف بڑا احتجاج

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر ہرمز میں بحری سکیورٹی کے لیے کردار ادا کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے

سیئول: جنوبی کوریا میں درجنوں شہریوں نے آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے امریکا اور ایران کی جنگ میں شامل نہ ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق مظاہرین نے سیئول میں امریکی سفارتخانے کے قریب احتجاج کیا اور پلے کارڈز اٹھا کر جنوبی کوریا کو ’’جنگ میں شامل نہ ہونے‘‘ کا پیغام دیا۔ مظاہرین نے نعرے لگائے کہ ملک کے نوجوانوں کو جنگ میں نہیں بھیجا جانا چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر ہرمز میں بحری سکیورٹی کے لیے کردار ادا کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تاہم سیئول نے ابھی تک فوج بھیجنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ جنوبی کوریا نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم متحدہ عرب امارات بھی بھیجی ہے۔

جنوبی کوریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی سپلائی چین کے تحفظ میں ممکنہ کردار کے مختلف طریقوں کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم فوجی تعیناتی سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کی فوجی موجودگی یا امریکی کارروائیوں میں شرکت کو واشنگٹن کی حمایت تصور کیا جائے گا اور اس کے ’’سنگین نتائج‘‘ ہوسکتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے اندر ممکنہ فوجی مداخلت کی مخالفت بڑھنے سے حکومت کے لیے فیصلہ مزید حساس ہوگیا ہے، کیونکہ کسی بھی فوجی تعیناتی کے لیے پارلیمانی منظوری بھی درکار ہوگی۔

Load Next Story