کراچی میں بڑھتے جرائم؛ کون سی واردات سب سے زیادہ ہوئی؟

اگست میں سب سے زیادہ موٹرسائیکل چوری کے واقعات سامنے آئے، رپورٹ

کراچی:

شہر قائد میں بڑھتے جرائم سے متعلق اگست 2026 کے اعداد و شمار نے شہریوں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

صرف ایک ماہ کے دوران موٹرسائیکل چوری، موبائل فون چھیننے اور گاڑیوں کی چوری کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے، جس سے امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق یکم اگست سے 31 اگست 2026 کے درمیان کراچی میں سب سے زیادہ موٹرسائیکل چوری کے واقعات سامنے آئے، جن کی تعداد 2 ہزار 678 رہی۔  اس کے علاوہ 502 موٹرسائیکلیں چھینی گئیں۔

موبائل فون چھیننے کی وارداتیں بھی بدستور کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کھیل بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ماہ میں ایک ہزار 884 موبائل فون شہریوں سے چھینے گئے، جو روزانہ اوسطاً 60 سے زائد وارداتیں بنتی ہیں۔

اسی طرح گاڑیوں سے متعلق جرائم بھی ریکارڈ پر آئے، جس کے مطابق اگست کے دوران 124 گاڑیاں چوری ہوئیں جبکہ 16 گاڑیاں چھینی گئیں۔ اسی طرح شہر میں بھتہ خوری کے 8 واقعات رپورٹ ہوئے۔

کراچی میں سنگین جرائم کی فہرست میں 44 قتل کے واقعات بھی شامل ہیں، جبکہ مثبت پہلو یہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق اغوا برائے تاوان اور بینک ڈکیتی/ڈکیتی کے بڑے واقعات کا کوئی کیس ریکارڈ نہیں ہوا۔

جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر اندراج شدہ جرائم کی تعداد 5 ہزار 256 بنتی ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ کراچی کے شہری خصوصاً موبائل فون اور موٹرسائیکل رکھنے والے افراد اسٹریٹ کرائم سے  مسلسل دوچار ہیں۔

تازہ اعداد و شمار کے بعد شہری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Load Next Story