سانحہ پمز: سینیٹ کمیٹی کا سخت ایکشن، سابق ای ڈی پمز سمیت تمام ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی ہدایت
سینیٹ کمیٹی انسانی حقوق نے سانحہ پمز پر سخت ایکشن لیتے ہوئے سابق ای ڈی پمز سمیت تمام ذمہ داران کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایت کردی۔
کمیٹی نے سانحہ پمز کے ملزمان کیخلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی، اس کے علاوہ ملزمان کے اثاثے مقدمات کیساتھ اٹیچ کرنے کی ہدایت کر دی۔
انسانی حقوق کمیٹی اجلاس کے دوران سینیٹر ایمل ولی اور عابد شیر علی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، ایمل ولی کے سوالات پر عابد شیر علی غصہ میں آگئے۔
سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ آپ کمیٹی کے ممبر کے طور پر سوال کریں،سینیٹر ایمل ولی نے کہا کہ آپ کون ہیں؟
سینیٹر قرۃ العین مری نے دونوں کو خاموش کروایا، عابد شیر علی نے کہا کہ آپ ایس ایچ او نہیں ہیں۔
حنا جاوید قتل کیس پر سی پی او راولپنڈی کی بریفنگ
سی پی او راولپنڈی نے کہا کہ واقعے کے بعد فرانزک ٹیم کو بلایا گیا، سائنٹفک طریقے سے تمام شواہد اکٹھے کیے گئے۔ پراسیکیوشن کی ٹیم بھی شروع سے کیس میں شامل ہے جبکہ سپروائزری ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔ پہلے دن سے فیملی سے رابطے میں ہیں اور کرائم سین کا بھی وزٹ کیا گیا۔
سی پی او کے مطابق اس کیس میں کوئی عینی شاہد نہیں، رزلٹس کمیٹڈ ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ بھی ہیں۔ مقتولہ کے سسر بھی شامل تفتیش ہیں۔ کیس میں 19 شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں اور جتنے شواہد اکٹھے کیے گئے وہ سب فرانزک میں چلے گئے، ابھی رپورٹ آنا باقی ہے۔
قرۃالعین مری نے کہا کہ پراسیکیوشن کو ابھی سے بلا لیں اور انہیں سنیں۔ سی پی او نے کہا کہ اس کیس کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔
میر رضا قتل کیس: کمیٹی کی پولیس حکام سے سخت سوالات
کمیٹی نے پولیس حکام سے کہا کہ آپ نے وردی لوگوں کی حفاظت کے لیے پہنی ہے، لوگوں کی باتیں ماننے کے لیے نہیں۔ کمیٹی نے سوال کیا کہ آپ نے کیا کیا، کسی کو ہتھکڑیاں لگائیں؟ میر رضا قتل کیس میں جنہوں نے غلط رپورٹ دی، ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟
سندھ پولیس حکام نے کہا کہ خاندان سے پورا تعاون کیا گیا اور اس کیس کو لے کر ہم پر کوئی پریشر نہیں ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ایس ایچ او کی کوتاہی تھی، ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو معطل کیا گیا۔
عابد شیر علی نے کہا کہ ہم خود ہی مانے جارہے ہیں کہ دو مختلف رپورٹس آئیں۔ اگر کام کرنا ہو تو ریاست قبر سے بھی مردہ لے آتی ہے لیکن اگر کام کرنا ہو تو۔ جب تک قانون حرکت میں نہیں آئے گا تو یہ غنڈے ایسے ہی دندناتے پھریں گے۔ یہ آپ کے اور ہیلتھ کے ادارے کی کوتاہی ہے۔
عابد شیر علی نے کہا کہ جن پولیس افسران نے غلط کیا ان کو بھی پکڑیں، ہسپتال سے بھی جو ملوث ہیں اور غلط کیا ان کو بھی پکڑیں۔ قراۃ العین مری نے کہا کہ ایس ایچ او کو سسپنڈ کرنے کے بجائے جیل کی سلاخوں میں ہونا چاہیے تھا۔