وزیر داخلہ، پی سی بی کا چیئرمین کیوں ہے؟ اے این پی کا سینیٹ کمیٹی میں اعتراض
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اہم اجلاس چیئرمین سینیٹر دلاور خان کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ محی الدین وانی، ڈی جی اسپورٹس بورڈ یاور حسین، سینیٹر ایمل ولی خان اور سینیٹر حاجی ہدایت اللہ سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ کی عدم شرکت پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزرا کی کمیٹیوں میں آمد سے ان کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے سینیٹرز کی عدم توجہی پر تشویش کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صوبوں سے متعلق مبینہ بیان کی شدید مذمت کی۔
اجلاس کے دوران ڈی جی پی ایس بی یاور حسین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں کینیڈا کی طرز پر 'لانگ ٹرم ایتھلیٹک پروگرام' متعارف کروایا جا رہا ہے جس کا مقصد اسکول و کالج سطح سے ٹیلنٹ کو تلاش کر کے اسپورٹس اسکالرشپس دینا ہے اور 43 میں سے 16 فیڈریشنز نے اس پالیسی پر اپنے پلان جمع کرا دیے ہیں۔
کھیل اور سیاست سے ہٹ کر بین الصوبائی ہم آہنگی، صوبوں کے درمیان آٹے کی ترسیل اور متنازع بیانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ فٹبال اور ہاکی کی صورتحال پر سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ نے بتایا کہ فیفا کی جانب سے بحالی کے بعد پاکستان فٹبال فیڈریشن اب انٹرنیشنل فنڈنگ اور مقابلوں تک رسائی حاصل کر رہی ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کی جونیئر خواتین ہاکی ٹیم کوارٹر فائنل میں پہنچی ہے، نیز ہاکی فیڈریشن کے فنڈز 20 لاکھ سے بڑھ کر 40 کروڑ روپے ہو چکے ہیں، جبکہ چیئرمین کمیٹی دلاور خان اور سینیٹر ایمل ولی نے فٹبال کی مسلسل ابتر کارکردگی، اندرونی دھڑے بندیوں اور ہاکی کی عالمی سطح پر ناقص کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
محی الدین وانی نے یہ اہم انکشاف بھی کیا کہ سیف گیمز 11 اپریل 2027 سے پاکستان میں شروع ہو رہے ہیں جن کے مقابلے اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد ہوں گے۔
اجلاس کے آخری مرحلے میں کرکٹ بورڈ کے معاملات پر گرم جوش بحث دیکھنے میں آئی جہاں سینیٹر ایمل ولی نے سوال اٹھایا کہ پی سی بی کو بین الصوبائی رابطہ سے نکال کر کابینہ کے ماتحت کیوں کیا گیا اور وفاقی وزیر داخلہ ہی پی سی بی کے چیئرمین کیوں ہیں۔
اس پر سینیٹر کاظم علی نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ نگراں حکومت کے دور میں ہوا تھا جبکہ سیکرٹری محی الدین وانی کے اس جملے کہ "یہ سوال میری تنخواہ اور عہدے سے بڑا ہے" پر اجلاس میں قہقہے گونج اٹھے، اور آخر میں اولمپک ہیرو ارشد ندیم کی کامیابی پر بات کرتے ہوئے آئندہ کے لیے گولڈ میڈلسٹس کے انعام پہلے سے مختص کرنے کی تجویز دی گئی۔