تعلیمی اداروں میں انرجی ڈرنکس پر پابندی اور جرمانے کا بل منظور

اسلام آباد کےتعلیمی اداروں میں انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی ہوگی، پہلی بار 1 لاکھ جبکہ دوسری بار 2 لاکھ جرمانہ ہوگا

سینیٹ کی قائم کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے تعلیمی اداروں میں انرجی ڈرنکس پر پابندی اور خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے تک جرمانے کا بل منظور کرلیا۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس  میں  سینیٹر ثمینہ زہری کا تجویزکردہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری فوڈ سیفٹی ترمیمی بل 2025پیش کیا گیا۔

بل پر بات کرتے ہوئے سینیٹرثمینہ زہری کا کہنا تھا بچوں کو انرجی ڈرنکس کے نام بہت مضرصحت چیزیں دی جارہی ہیں، لال رنگ کی انرجی ڈرنکس دل کے دورے کا باعث بن ہے۔

سینیٹرافنان اللہ کا کہنا تھا چینی اور سوفٹ ڈرنکس پر پابندی ہونی چاہئے، ایک بوتل میں شوگر کے 9 چمچ ڈالے جاتے ہیں جو صحت کیلئے نہایت مضر ہے۔

اس پر بحث کے بعد کمیٹی نے بل کی منظوری دیدی، جس کے تحت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں انرجی ڈرنکس بیچنے پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنیوالے کو پہلی مرتبہ ایک لاکھ روپے جبکہ دوسری مرتبہ 2روپے تک جرمانہ ہوگا۔

بل کی منظوری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹرثمینہ ممتاززہری نے کہا کہ خوبصورت رنگوں والے انرجی ڈرنکس بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جن میں چینی اور کیفین کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیفین اور زیادہ مقدارمیں چینی کینسراوردل کے عارضے سمیت دیگر بیماریوں کا موجب بنتی ہے اس لئے ہم اپنے بچوں کو ان انرجی ڈرنکس کے نقصانات سے بچاناچاہتے ہیں۔

Load Next Story