بے نظیر کو چہرہ دکھانے کے دعویدار آج اپنے حلقے کے زندہ عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں، ایم کیو ایم
فوٹو فائل
ایم کیو ایم (پاکستان) نے سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی قانون میں متوقع ترمیم کو آئندہ بلدیاتی کو ہائی جیک کرنے کی شاطرانہ سازش قرار دے دیا۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے پر میئرز ڈپٹی میئرز چیئرمینز اور وائس چیئرمینز کے عہدوں میں توسیع کے متوقع فیصلے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے آئندہ بلدیاتی انتخابات کو ہائی جیک کرنے کی شاطرانہ سازش قرار دے دیا ہے۔
ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ بیان میں اراکین سندھ اسمبلی نے کہا کہ سندھ حکومت کا یہ متوقع فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے اور اس کے ذریعے آئین و قانون کی کھلم کھلا دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
ایم کیو ایم اراکینِ اسمبلی نے سندھ حکومت پر واضح کیا کہ شہری سندھ کو مزید غلام بنائے رکھنے کی تمام تر سازشوں کے درمیان متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی رہے گی اور سندھ حکومت یہ بھول جائے کہ وہ شہری سندھ کو کسی وڈیرے کی اوطاق بنا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو کو چہرہ دکھانے کے دعویدار آج اپنے ہی حلقوں کے زندہ عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں، پیپلز پارٹی اپنے غیر قانونی تسلط اور غاصبانہ قبضے کو طوالت دینے کے لئے قانون کو گھر کی باندی بنا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے فاشسٹ طرزِ حکومت نے صوبے میں سیاسی اور سماجی خلیج کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے اور تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ خود کو جمہوریت کے پاسبان کہلوانے والے ہی خود جمہوریت کے ساتھ سنگین کھلواڑ کر رہے ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن، الیکشن کمیشن آف پاکستان سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی نمائندوں کی مدت میں توسیع سے متعلق کسی بھی ممکنہ غیر قانونی حکم نامے کو فی الفور اور یکسر مسترد کرے، اس نام نہاد بلدیاتی حکومت کی مدت کا اختتام بالخیر ہونے کے فوراً بعد تمام تر انتظامی اختیارات کسی سیاسی مداخلت کے بغیر غیر جانبدار اور غیر سیاسی افراد کے سپرد کئے جائیں۔
اعلامیے مین کہاگ یا ہے کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مکمل طور پر غیر جانبدار سیٹ اپ کی زیرِ نگرانی یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کے شفاف مینڈیٹ پر ڈاکہ نہ ڈالا جا سکے۔