ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم
برآمدات کے اعداد و شمار محض خشک ہندسے نہیں ہوتے بلکہ وہ کسی قوم کے پسینے کی خوشبو، اس کے مزدوروں کے ہاتھوں کے چھالے، اس کے کارخانوں کی دھڑکنوں کا نوحہ اور کبھی خوشیوں کا لقمہ بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 کے مہینے میں پاکستان کی برآمدات کا حجم 2 ارب 96 کروڑ امریکی ڈالر رہا۔ ظاہری طور پر یہ ہندسہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.39 فی صد اضافے کی نوید سناتا ہے لیکن جب ہم اس معاشی حقیقت کو گہرائی میں جا کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ڈالر کا کھیل نہیں بلکہ یہ ہماری دھرتی کے ہنر ہمارے جولاہوں کے خوابوں اور ہماری تقدیر کی کشمکش کی داستان ہے۔
شائع شدہ اعداد و شمار کا سب سے درخشاں ستارہ نٹ ویئر کا ہے جس نے ملکی خزانے میں 148.41 ارب روپے کا گراں قدر حصہ ڈالا، یہ کوئی معمولی ہندسہ نہیں ہے۔ یہ فیصل آباد کی ان تاریک گلیوں کا سچ ہے۔ جہاں پاور لومز کا شور کسی صوفی کے وجد کی طرح رات بھر گونجتا ہے۔ سچ پوچھیں تو یہی پاور لومز 60 سے 90 کی دہائی تک چھوٹے شہروں اور قصبوں کی شان ہوا کرتی تھیں۔
80 کی دہائی کی بات ہے جب راقم مختلف شہروں کے مطالعاتی دورے پر تھا تو مجھے چنیوٹ شہر کے مختلف محلوں سے یہ آواز سنائی دے رہی تھی کہ ہمارے شہرمیں ٹیکسٹائل مصنوعات کی آبیاری ہوئی ہے اور کراچی میں بھی کئی صنعتی محلے ایسے تھے۔ سعید آباد ہو یا بلدیہ ٹاؤن ہو یا مختلف علاقے اور پاکستان کے مختلف شہروں، قصبوں میں پاور لومز بڑی تعداد میں لگے ہوئے تھے جن میں دن رات مختلف شفٹوں میں کام ہوتا تھا۔ ان دنوں چھوٹی بڑی ٹیکسٹائل ملوں میں لوگ مزدوری کرنے جاتے اور جلد ہی ماہر کاری گر بن جاتے اور ہزاروں روپے کی آمدن شروع ہو جاتی تھی۔ اب یہ سلسلہ انتہائی کم ہو کر رہ گیا ہے۔
لیکن نٹ ویئر سے حاصل ہونے والے تقریباً ڈیڑھ سو ارب روپے اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا آج بھی پاکستانی ہنر کی معترف ہے جب مغربی دنیا کے کسی فیشن ہاؤس میں کوئی شخص نرم و ملائم نٹ ویئر کا لباس پہنتا ہے تو اسے شاید اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ اس لباس کے ریشوں میں سندھ اور پنجاب کے کسی کسان کی تپتی دھوپ کا رنگ شامل ہے۔ یہ برآمدات ہمارے ہنر کی ہجرت کی وہ خوبصورت شکل ہیں جو دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرتی ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس 148 ارب روپے کا ثمر اس مزدور اور کسان تک پہنچ رہا ہے۔ جس کے باعث پہلے کپاس اور پھر کپاس سے لباس کو ایکسپورٹ کرنے کا موقع ملا۔ یعنی تیار ملبوسات جس کی مالیت 127.89 ارب روپے رہی۔ یہ شعبہ ہماری معیشت کا وہ فخر ہے جس نے ہمیشہ ملکی ایکسپورٹ کی لاج رکھی۔ بنگلا دیش اور ویتنام جیسے سخت حریفوں کے ہوتے ہوئے عالمی مارکیٹ اور یورپی مارکیٹ میں اپنا وجود برقرار رکھنا اور تقریباً 128 ارب روپے کا حجم صرف تیار ملبوسات کی مد میں لے کر آنا۔ ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ہمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
لباس انسان کی تہذیب کا پہلا مظہر ہے۔ پاکستان سے تیار ہو کر جانے والے یہ ملبوسات نیویارک، لندن، پیرس اور میونخ کے بازاروں کی زینت بنتے ہیں۔ جو نہ صرف کپڑے نہیں ہوتے یہ ہماری ثقافتی بقا کی جنگ کے سپاہی ہوتے ہیں لیکن اس چمک دمک کے پیچھے ایک تاریک کہانی توانائی کے بحران کی ہے۔ ہمارے صنعتکار آج بھی سستی بجلی اور گیس کے لیے ہر آنے والی حکومت کے دروازے پر دستک دیتے ہیں، لیکن حکومت ان شرائط کی فرمانبردار ہے جس کے تحت آئی ایم ایف بجلی گیس پٹرول کی قیمتیں بڑھاتی چلی جا رہی ہے۔ صنعتکاروں کا دعویٰ ہے کہ اگر توانائی سستی ہو جائے تو نٹ ویئر ہو یا تیار ملبوسات بیڈ ویئر ہو یا سوت کا کپڑا یا تولیہ یا دیگر ٹیکسٹائل مصنووعات، ہم ان کے برآمدی اعداد و شمار جلد از جلد دگنا اور پھر تین گنا بھی کر سکتے ہیں۔
اب بیڈ ویئر اور تولیوں کی بات کر لیتے ہیں۔ بیڈ ویئر کی برآمدات 85.77 ارب روپے رہی اور تولیوں کی برآمدات کی مد میں 29.57 ارب روپے کی برآمدات ہوئیں۔ پاکستان نے حال ہی میں سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر تک کی زرعی برآمدات سے متعلق معاہدہ کیا، جب کہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کے انتہائی وسیع مواقعے موجود ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں دیگر ممالک کی ٹیکسٹائل مصنوعات سے سعودی عرب کے مختلف شہر کی مارکیٹوں میں بھری پڑی ہیں اور عوام خرید رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کا سفارت خانہ اور ملکی ٹیکسٹائل کے صنعتکار تاجر برآمد کنندگان اور جوڑیا بازار کا سیٹھ اور سوتر منڈی کا تاجر یہ سب مل کر سعودی عرب کے مختلف شہروں کا تجارتی دورہ کریں۔ جولائی 2026 میں ٹیکسٹائل برآمدات 504 ارب روپے کے لگ بھگ ہیں یہ دگنا ہونے میں کچھ زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا۔ بات ہے محنت کی تحقیقی کی، جائزے کی اور اپنے برادر ملک سعودی عرب کی تاجر برادری سے ملاقات کی۔