ایران جنگ کا بڑا اثر، امریکا مشرق وسطیٰ سے فوجی موجودگی کم کرنے پر غور کرنے لگا
واشنگٹن: امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں میں ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی اور تنصیبات کم کرنے کے مختلف منصوبوں پر غیر رسمی غور جاری ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق متعدد امریکی ذرائع نے بتایا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو خطے میں تعینات اہلکاروں اور فوجی و انٹیلی جنس تنصیبات کی تعداد کم کی جاسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں موجود امریکی اڈوں کی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی فوج باقی رہنے والی تنصیبات کے دفاع کو مضبوط بنانے کے ساتھ بعض حساس سہولیات کو زیرِ زمین منتقل کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے آئندہ سال سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فورسز کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے مختلف ممکنہ منصوبے تیار کیے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی باضابطہ فوجی جائزہ یا حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوجی وسائل پر دباؤ اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات نے مستقبل کی حکمت عملی پر نظرثانی کی بحث تیز کردی ہے۔
یہ ممکنہ تبدیلی امریکا کی مشرق وسطیٰ پالیسی میں ایک اہم موڑ ہوسکتی ہے، کیونکہ 11 ستمبر 2001 کے بعد واشنگٹن نے خطے میں اپنی فوجی اور انٹیلی جنس موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔ تاہم موجودہ بحث کا حتمی نتیجہ ایران جنگ کے خاتمے اور ٹرمپ انتظامیہ کی آئندہ پالیسی پر منحصر ہوگا۔