میر رضا کیس: وزیر داخلہ ضیاء لنجھار جوڈیشل کمیشن میں پیش

جسٹس عمر سیال نے ضیاء لنجھار کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ آپ بھی ایک وکیل ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ حقائق سامنے لائیں

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے لیے پہنچے۔

جسٹس عمر سیال نے ضیاء لنجھار کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ آپ بھی ایک وکیل ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ حقائق سامنے لائیں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ آپ نے اس حوالے سے بہت دفعہ بات کی ہے اور چیف جسٹس سے کمیشن سے متعلق درخواست بھی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ والدین کو تحفظات ہیں، ہم انہیں دور کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ یہاں موجود اہلخانہ الگ الگ سوال کریں تو ان کے وکیل انہیں سن کر سوال کرتے ہیں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے مداخلت کی گئی، میرے اسٹاف کو کہا گیا کہ کمیشن میں غلط ہو رہا ہے، مداخلت پر مجھے غصہ آیا۔

وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ میں اپنی طرف سے اور حکومت کی طرف سے معذرت چاہتا ہوں۔ میر سندھ کا بچہ ہے، حکومت چاہتی ہے کہ اہلخانہ کو انصاف ملے۔ جب پولیس اور تفتیش کرنے والے اداروں پر اعتماد نہ ہو تو ہم عدالت ہی کی طرف دیکھتے ہیں۔

ضیاء لنجار نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے آپ پر اعتماد کیا، ہمیں بھی آپ پر اعتماد ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اصل حقائق سامنے آئیں۔ کمیشن کے ٹی او آرز بنائے گئے ہیں، کمیشن کے سربراہ اس معاملے کو بہتر سمجھتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ فریال تالپور اور ہمارا یہی ماننا تھا کہ اس کیس کو کیسے دیکھیں۔ اسٹینڈنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کمیشن بنے۔ پہلے والدین کو اعتماد نہیں تھا، بحیثیت وزیر داخلہ میں ان کے اہلخانہ سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کو جو چاہیے ہوگا، حکومت فراہم کرے گی۔ ہم چاہتے ہیں کمیشن اپنا کام کسی بھی رکاوٹ کے بغیر کرے۔ جو مداخلت ہوئی، اس پر معذرت کرتا ہوں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ بہت شکریہ، ایڈووکیٹ جنرل بہت اچھے وکیل ہیں۔ مجھے امید ہے اور میں چاہتا ہوں کہ جواد ڈیرو ایڈووکیٹ جنرل رہیں۔ رجسٹرار کمیشن کو ہدایت کی گئی کہ وزیر داخلہ کو احترام کے ساتھ چھوڑ کر آئیں، جس کے بعد کمیشن کی کارروائی دس منٹ کے لیے ملتوی کردی گئی۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن فریال تالپور کے کردار کو سراہتا ہے، وہ بھی ماں ہیں اور اہلخانہ کے درد کو محسوس کرتی ہیں، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

وقفے کے بعد جوڈیشل کمیشن نے دوبارہ ریگولر کارروائی شروع کردی۔ ڈاکٹر اسامہ کو جاری شوکاز نوٹس کا جواب کمیشن کے روبرو پیش کیا گیا، جس پر کمیشن نے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ڈاکٹر اسامہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

جبران ناصر نے کہا کہ بزنس پارٹنر احمد کی جانب سے کمیشن پر الزامات لگائے گئے ہیں اور احمد کے وکیل نے اس حوالے سے کچھ انکشاف کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احمد کو دوبارہ بلایا جائے تاکہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہہ سکیں۔ کمیشن نے کہا کہ اس حوالے سے باقاعدہ درخواست دے دیں، جس پر جبران ناصر نے درخواست جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

کمیشن نے ایس ایچ او عدیل افضال، ہیڈ محرر ذیشان، ڈاکٹر سمیہ اور پروفیسر نسیم کو 14 ستمبر کو طلب کرلیا، جبکہ ڈاکٹر اسامہ کو ذاتی حیثیت میں 15 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔
 

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کو شہریوں کی جانب سے معلومات موصول ہونا شروع

دوسری جانب میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے رجسٹرار عبد الماجد کو شہریوں کی جانب سے معلومات موصول ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ رجسٹرار کمیشن کے مطابق 5 ای میلز اور واٹس ایپ پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

ایک شہری نے کہا ہے کہ میر رضا کے بائننس اکاؤنٹس سے متعلق اگر کمیشن کو معاونت درکار ہو تو وہ معاونت فراہم کرسکتا ہے۔ ایک شہری کی جانب سے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس سے متعلق معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں، جبکہ ایک شہری نے کیس میں ایک مشکوک شخص کی نشاندہی کرتے ہوئے اس شخصیت سے بھی تحقیقات کرنے کی تجویز دی ہے۔

رجسٹرار کمیشن کے مطابق شہریوں کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات انویسٹیگیشن ٹیم کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ کمیشن سے رابطہ کرنے والے شہریوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔ ایک شہری کی جانب سے آئی کلاؤڈ لاگ اِن کرنے سے متعلق بھی اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرا دیا گیا ہے۔ شوکاز نوٹس کا جواب ڈاکٹر اسامہ کے والد نے جمع کرایا ہے۔ صحافی کا موبائل فون چھیننے پر کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

Load Next Story