خوبصورت بننے کا شوق جان لیوا ثابت ہوا، کاسمیٹک سرجری کے دوران معروف انفلوئنسر ہلاک
فن لینڈ سے تعلق رکھنے والی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اولیویا اوراس 27 برس کی عمر میں کاسمیٹک سرجری کے دوران مبینہ پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار گئیں۔ واقعے نے کاسمیٹک طریقۂ کار کے دوران بے ہوشی کی دوا کے استعمال اور طبی نگرانی سے متعلق سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اولیویا ہیلسنکی کے ایک نجی بیوٹی کلینک میں کاسمیٹک طریقۂ کار کروا رہی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہیں بے ہوشی کی دوا دیے جانے کے فوراً بعد ہوش نہیں آیا اور ان کی حالت بگڑ گئی۔ تشویش ناک صورتحال کے پیش نظر انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹر انہیں بچانے میں کامیاب نہ ہوسکے اور ان کی موت کی تصدیق کردی گئی۔
اولیویا کے والدین ریجو اوراس اور جوہانا اوراس نے بھی بیٹی کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق اولیویا کو بے ہوشی کی دوا دینے کے بعد اسپتال میں زیرِ علاج رکھا گیا، جہاں بالآخر وہ دم توڑ گئیں۔
والدین نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کاسمیٹک سرجری کے دوران بیوٹی کلینک کے عملے سے کوئی سنگین غلطی ہوئی، جس کے نتیجے میں ان کی بیٹی کی حالت بگڑی اور موت واقع ہوئی۔ تاہم اس حوالے سے حتمی طور پر کسی غفلت یا غلطی کا تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔
ہیلسنکی پولیس کے مطابق اولیویا کی موت کے تین دن بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے باقاعدہ درخواست موصول ہوئی۔ پولیس نے اس کے بعد ممکنہ جرم اور غفلت سمیت مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
اولیویا نے بہت کم عمر میں سوشل میڈیا کی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے صرف 14 برس کی عمر میں انسٹاگرام پر مواد شیئر کرنا شروع کیا، جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے ان کے فالوورز کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔
ان کی بڑھتی ہوئی شہرت کے دوران 2016 میں ’دی پرفیکٹ سیلفی‘ کے نام سے ایک دستاویزی فلم بھی ریلیز ہوئی، جس میں ان کی زندگی اور سوشل میڈیا سے وابستگی کو موضوع بنایا گیا تھا۔ فلم نے انہیں مزید شناخت دلائی اور وہ فن لینڈ میں نمایاں سوشل میڈیا شخصیات میں شمار ہونے لگیں۔
بعد میں اولیویا نے اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند کردیا اور 2017 میں ایمسٹرڈیم منتقل ہوگئیں۔ فن لینڈ واپس آنے کے بعد ان کی زندگی ایک مشکل دور سے بھی گزری، جب وہ شدید ذہنی دباؤ، نیند کی گولیوں اور شراب کی لت کا شکار ہوئیں۔
تاہم اولیویا نے اپنی مشکلات سے نکلنے کے لیے علاج کا راستہ اختیار کیا اور باقاعدہ علاج کے ذریعے زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کی۔ ان کی اچانک موت نے کم عمری میں شہرت حاصل کرنے والی اس انفلوئنسر کی زندگی کے ایک مختلف اور مشکل پہلو کو بھی سامنے لا دیا ہے۔