سوچتا ہوں کاکروچ بن جاؤں؛ مقدمات میں گھرے بھارتی بزنس مین کی خواہش
وجے مالیا کا شکوہ، ’سوچتا ہوں کاکروچ بن جاؤں‘
بھارت کے متنازع کاروباری شخصیت وجے مالیا نے اپنے خلاف جاری مقدمات اور حکومت کے رویے پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل ناانصافی پر سوچنے لگا ہوں کہ کاکروچ بن جانا بہتر ہوگا۔
وجے مالیا نے سوشل میڈیا پر اپنے خلاف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت میں بینکوں کے تقریباً 9 ہزار کروڑ بھارتی روپے کے قرض کی عدم ادائیگی کے معاملے میں مطلوب ہیں۔
تاہم ان کا مؤقف ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ خود عدالت میں جمع کرائے گئے ایک حلف نامے میں ان سے 14 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی رقم وصول کیے جانے کی تصدیق بھی کرچکا ہے۔
وجے مالیا نے مزید کہا کہ میں نے جن ناانصافیوں کا سامنا کیا اور اب بھی کررہا ہوں ان سب کے بعد سوچتا ہوں کہ کیا مجھے کاکروچ بن جانا چاہیے؟ شاید کاکروچ بن کر زندگی بہتر ہو جائے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 2021 میں بینکوں کو 14 ہزار کروڑ بھارتی روپے سے زائد واپس کیے جن کے واجبات ان سے متعلق تھے۔ میری بات پر یقین نہ کریں بلکہ عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں درج معلومات دیکھیں۔
وجے مالیا نے اپنے خلاف اس تاثر کو مسترد کردیا کہ وہ بھارت واپس نہیں آنا چاہتے کیوں کہ بینکوں کو رقم کی ادائیگی کا تعلق کسی شخص کی جسمانی موجودگی سے نہیں ہوتا۔
انھوں نے کہا کہ جو لوگ مستقل رہائش اور شہریت کے درمیان فرق نہیں سمجھتے یا یہ خیال کرتے ہیں کہ قرض کی واپسی کے لیے بھارت میں موجود ہونا ضروری ہے انھیں اپنے مؤقف پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
وجے مالیا نے دعویٰ کیا کہ وہ 1992 سے برطانیہ کے مستقل رہائشی ہیں اور اس وقت برطانیہ سے باہر جانے کے حوالے سے قانونی پابندی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ مجھے مفرور اور بینکوں سے فراڈ کرنے والا قرار دیا جاتا ہے حالانکہ ان کے بقول انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے اپنے ریکارڈ میں ان سے بڑی رقم کی وصولی ظاہر کی گئی ہے۔
وجے مالیا نے سوال اٹھایا کہ اگر بینکوں کے واجبات اتنی بڑی رقم سے وصول کیے جاچکے ہیں تو پھر انہیں رقم کی واپسی کیوں نہیں کی جارہی۔
وجے مالیا کا بینکوں سے تقریباً 9 ہزار کروڑ کا تنازع
وجے مالیا بھارت میں بند ہو جانے والی کنگ فشر ایئرلائنز کے قرضوں کے معاملے میں طویل عرصے سے قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ مختلف بھارتی بینکوں کی جانب سے ایئرلائنز کو دیے گئے قرضوں کی عدم ادائیگی کے بعد مالیا کے خلاف مقدمات قائم ہوئے۔
وجے مالیا 2016 میں بھارت سے برطانیہ چلے گئے تھے اور بھارتی حکومت انہیں واپس لانے کے لیے طویل عرصے سے قانونی کوششیں کرتی رہی ہے۔
دوسری جانب مالیا مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ وہ قانونی عمل سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ برطانیہ میں جاری قانونی معاملات اور پابندیوں کے باعث بھارت واپس نہیں آسکتے۔