عوام کے لیے روٹی بھی مہنگی، آٹے کا 50 کلو تھیلا 8 ہزار روپے تک پہنچ گیا

غیر جی ایم گندم عالمی منڈی میں پریمیم کے بجائے رعایتی نرخ پر فروخت ہورہی ہے

فوٹو: فائل

کراچی:

گزشتہ سال گندم کی بھرپور پیداوار کے باوجود ملک میں آٹا مسلسل مہنگا ہو رہا ہے اور بعض علاقوں میں 50 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 8 ہزار روپے تک پہنچ گئی جبکہ پاکستان کی غیر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (نان جی ایم) گندم عالمی منڈی میں پریمیم کے بجائے رعایتی نرخ پر فروخت ہو رہی ہے۔

بدانتظامی، کمزور سپلائی چین اور گندم ذخیرہ کرنے کے ناقص نظام کے باعث ایک طرف مقامی صارفین مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں تو دوسری جانب پاکستانی گندم کو عالمی منڈی میں معیار کے خطرے کے باعث کم قیمت مل رہی ہے۔

کراچی کی ہول سیل مارکیٹ میں گزشتہ 4ماہ کے دوران گندم کی قیمت 90 روپے سے بڑھ کر 132 روپے فی کلو ہوگئی، یعنی قیمت میں 42 روپے فی کلو اضافہ ہوا۔

2.5 آٹا 55 روپے اضافے سے 155 روپے، فائن آٹا 45 روپے اضافے سے 157 روپے جبکہ چکی آٹا 45 روپے اضافے سے 180 روپے فی کلو ہوگیا۔

کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین نے کہا کہ سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں آٹا مہنگا ہوچکا ہے، جس سے کسان اور صارف دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔

ہول سیل گروسری ایسوسی ایشن کے چیئرمین رئوف ابراہیم نے گزشتہ سال کی ڈی ریگولیشن اور امدادی قیمت مقرر نہ کیے جانے کو موجودہ صورتحال کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کا فائدہ عام صارف کے بجائے محدود طبقے کو ہوا، جبکہ ذخیرہ اندوزی نے بھی قیمتیں بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کا منصوبہ ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے اور درآمدی گندم نومبر سے پہلے پہنچنے کا امکان نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ذخیرہ اندوز آٹے کی قیمتیں بڑھاتے رہیں گے۔ کراچی کو روزانہ تقریباً 12 ہزار ٹن جبکہ سندھ کو 24 ہزار ٹن گندم درکار ہے۔خالد حسین بٹھ نے کہا کہ پاکستان خود گندم پیدا کرتا ہے، اس لیے درآمدی ٹینڈر پالیسی کی ناکامی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت چھوٹے کسانوں سے گندم کم قیمت پر لینے کے بعد پاسکو کو زیادہ نرخ پر منتقل کر رہی ہے۔

انھوں نے پاسکو سے 10 لاکھ ٹن گندم لینے کے منصوبے کو کسان دشمن قرار دیتے ہوئے گھروں سے حاصل کی گئی گندم کا حساب دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کسان اتحاد گندم پالیسی کے خلاف آئینی درخواست دائر کرے گا۔

دوسری جانب پاکستان میں تجارتی سطح پر جی ایم گندم پیدا نہ ہونے کے باوجود عالمی خریدار پاکستانی گندم کے لیے اضافی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں۔

ماہرین کے مطابق ناقص ذخیرہ کاری کے باعث گندم میں نمی اور کیڑوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے اس کی برآمدی قدر کم ہوجاتی ہے۔

LDC پاکستان کے کنٹری ہیڈ محمد دانیال کے مطابق عالمی منڈی میں اسی معیار کی گندم تقریباً 290 ڈالر فی ٹن میں فروخت ہو تو پاکستانی گندم عموماً 270 ڈالر فی ٹن کے قریب فروخت ہوتی ہے، کیونکہ خریدار غیر جی ایم ہونے کے بجائے معیار کے خطرے کو قیمت میں شامل کرتے ہیں۔

ملک میں گندم کی سالانہ پیداوار تقریباً 3 کروڑ ٹن جبکہ کھپت 3 کروڑ 10 لاکھ ٹن کے قریب ہے۔ سرکاری منصوبہ بندی میں فی کس سالانہ گندم کی کھپت تقریباً 115 کلوگرام تصور کی جاتی ہے۔

پنجاب حکومت نے نجی شعبے کو اپریل اور مئی میں 40 کلو گندم 3 ہزار 500 روپے میں خریدنے اور اسے ذخیرہ کرنے کے لیے کیبور سے منسلک قرض پر تقریباً 70 فیصد مالی لاگت برداشت کرنے کی پیشکش کی ہے۔

چھوٹے کاشتکاروں کی اکثریت، ناقص گودام، کھلے ذخیرہ مراکز اور جدید سائلوز کی کمی اب بھی بڑے مسائل ہیں۔ پاسکو کے کھلے ذخیرہ مراکز میں ڈھکے ہوئے گوداموں کے مقابلے میں زیادہ گندم ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔