فرانس میں جیفری ایپسٹین کیس کی تحقیقات، مزید ممکنہ معاونین کے نام سامنے آگئے
پیرس: فرانس میں امریکی جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین کے مبینہ انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کی تحقیقات میں مزید پیش رفت ہوئی ہے۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر کے مطابق تفتیش کاروں نے ایپسٹین کے لیے خواتین کو بھرتی کرنے والے مزید ممکنہ افراد کے نام حاصل کرلیے ہیں۔
پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو نے بتایا کہ فرانس میں اب تک 26 متاثرین کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے 13 پہلے ایپسٹین سے متعلق کسی قانونی مقدمے میں سامنے نہیں آئے تھے۔ ان میں سے 8 افراد سے ابھی پوچھ گچھ ہونا باقی ہے۔
فرانسیسی تحقیقات کے دائرے میں نیویارک کے علاوہ سینٹ ٹروپے اور کانز بھی شامل ہیں۔ پراسیکیوٹر کے مطابق تفتیش کار ایپسٹین کے مبینہ نیٹ ورک کی کئی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ تحقیقات ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد کی جولائی میں موت کے بعد بھی جاری ہیں۔ سیاد پر ایپسٹین کے لیے خواتین کی مبینہ بھرتی میں مدد کرنے کا الزام تھا اور وہ تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہونے سے پہلے ہی ہلاک ہوگیا تھا۔ اس کے بعد تفتیش میں مزید ممکنہ معاونین کے نام سامنے آئے۔
فرانس نے ایپسٹین کیس کی تازہ فائلیں سامنے آنے کے بعد انسانی اسمگلنگ کے الزامات سے متعلق تحقیقات شروع کی تھیں۔ ایپسٹین 2019 میں کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں ہلاک ہوگیا تھا۔
فرانسیسی حکام ماڈلنگ کی صنعت سے وابستہ بعض دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لے چکے ہیں۔ تاہم بعض معاملات میں قانونی کارروائی مبینہ جرائم کی مدتِ قانونی گزر جانے کے باعث آگے نہیں بڑھ سکی۔