عراق کے کردستان سے امریکی قیادت میں اتحادی افواج کا انخلا شروع
اربیل: عراق کے خودمختار کردستان ریجن سے امریکی قیادت میں اتحادی افواج نے انخلا شروع کردیا ہے۔ یہ اقدام عراق میں داعش کے خلاف اتحادی مشن کے خاتمے اور 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن کے تحت کیا جارہا ہے۔
کردستان کے وزیر داخلہ ریبر احمد کے مطابق اتحادی افواج نے خطے سے انخلا شروع کردیا ہے اور اہلکار روزانہ کی بنیاد پر عراق سے باہر دیگر مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ ایک عراقی اعلیٰ عہدیدار نے بھی انخلا کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اتحادی افواج عراق کے دیگر فوجی اڈوں سے جنوری میں ہی نکل چکی تھیں اور اب صرف اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔
داعش کے خلاف جنگ کے لیے امریکی قیادت میں یہ افواج 2014 میں عراق اور شام میں تعینات کی گئی تھیں۔ داعش کو عراق میں 2017 اور شام میں 2019 میں بڑی حد تک شکست دی گئی تھی۔
امریکی قیادت میں اتحادی افواج کے انخلا کے ساتھ عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کو بھی 30 ستمبر تک اپنے ہتھیار ریاست کے حوالے کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ تاہم بعض گروہوں نے اس مطالبے کی مخالفت کی ہے اور امریکی افواج کی موجودگی ختم ہونے تک ہتھیار جمع نہ کرانے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی اتحادی افواج کا انخلا اور مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی کوشش عراق میں سکیورٹی اور سیاسی صورتحال کے لیے اہم مرحلہ ہے، جبکہ کردستان ریجن میں حالیہ عرصے کے دوران امریکی تنصیبات بھی ایرانی حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔