’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات

ایلون مسک کی زندگی پر بننے والی دستاویزی فلم ’مسک 16‘ اکتوبر کو ریلیز کی جائے گی۔

دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ جسٹین ولسن نے ارب پتی کاروباری شخصیت کی نجی اور خاندانی زندگی سے متعلق نئے الزامات عائد کر دیے۔

رپورٹس کے مطابق جسٹین ولسن نے ایلیکس گبنی کی آنے والی دستاویزی فلم ’مسک‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک اپنے بچوں کی ماؤں کیلئے ’بریڈرز‘ کا لفظ استعمال کرتے اور انہیں ایک دوسرے کا متبادل سمجھتے تھے۔

جسٹین ولسن کی ایلون مسک سے شادی 2000 سے 2008 تک رہی اور دونوں کے 6 بچے ہیں۔

دستاویزی فلم میں جسٹین نے اپنی ازدواجی زندگی کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ شادی کے موقع پر مسک نے خود کو ان کے رشتے کا ’الفا‘ قرار دیا تھا۔ شادی کے دوران پیش آنے والے تجربات کے باعث انہیں پہلی مرتبہ ’گیس لائٹنگ‘ کی اصطلاح سے واقفیت ہوئی اور وہ خود کو ناکافی محسوس کرنے لگی تھیں۔

دوسری جانب ایلون مسک نے دستاویزی فلم میں حصہ نہیں لیا اور اسے ’ہِٹ پیس‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ ان کے وکیل ایلیکس اسپیرو نے فلم سازوں کے بعض دعوؤں پر قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے، جبکہ پروڈکشن کمپنی کا مؤقف ہے کہ فلم حقائق کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

ایلون مسک کی زندگی پر بننے والی دستاویزی فلم ’مسک 16‘ اکتوبر کو ریلیز کی جائے گی۔

واضح رہے کہ جسٹین ولسن کے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

 

 

Load Next Story