جوہری پروگرام پر ایران کا اقوام متحدہ میں بڑا جواب، نئے الزامات کو سیاسی قرار دے دیا
تہران: ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق نئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں تکنیکی کے بجائے سیاسی قرار دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر جمعرات کے اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کیا۔
ایرانی سفارت کار نے کہا کہ ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے خلاف دوبارہ سامنے آنے والے الزامات تکنیکی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں۔
غلام حسین درزی نے اپنے خط میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی مدت اکتوبر 2025 میں ختم ہوچکی ہے، اس لیے اس قرارداد کی بنیاد پر ایران کے خلاف نئے دعووں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
ایرانی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر دوبارہ تشویش اور سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایران مسلسل یہ کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ مغربی ممالک ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
Iran's UN envoy dismissed an IAEA resolution accusing Tehran of violating nuclear commitments, referring it to the Security Council for the first time in 20 years.
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 11, 2026
Envoy Gholamhossein Darzi called it "political, not technical".
🔴 LIVE updates: https://t.co/8ZjmgXB8iH pic.twitter.com/TAgS7KESby
تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے جوہری پروگرام سے متعلق نئے الزامات کو سیاسی دباؤ کا حصہ سمجھتا ہے اور انہیں مسترد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔